ایران میں امریکا رجیم چینج آپریشن کررہا ہے؛ سلامتی کونسل کو’سرکس‘بنا دیا؛ روس

اجلاس میں جن افراد کو بلایا ان کا اب ایران سے کوئی تعلق نہیں وہ امریکا میں دہائیوں سے مقیم ہیں

امریکا نے سلامتی کونسل کو سرکس بنادیا؛ روس

امریکا کی جانب سے بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے مستقل مندوب ویسلی نیبنزیا نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایران سے متعلق پیچیدہ صورت حال پر طلب کیا گیا تھا۔

روسی مندوب نے امریکا پر ایران میں حکومت کی تبدیلی کا آپریشن چلانے کا الزام عائد کیا کرتے ہوئے کہ وہاں جان بوجھ کر کشیدگی، بے چینی اور انتشار پھیلا جا رہا ہے۔

اقوام متھدہ میں روسی مندوب نے مزید کہا کہ ایران میں حالیہ مظاہرے محض پُرامن احتجاج نہیں رہے بلکہ ان میں مسلح کارروائیاں، سرکاری املاک کو نذرِ آتش کرنا، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں شامل ہوگئی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ نام نہاد انقلاب کے پرانے اور آزمودہ طریقوں کے تحت ہو رہا ہے جس کا واحد مقصد ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔

روسی مندوب نے ایران کی صورت حال پر امریکا کے بلائے گئے سلامتی کونسل اجلاس کو سستا سرکس اور ناقص تماشا قرار دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایسے ایرانی نژاد افراد کو اجلاس میں بلایا جو دو دہائیوں سے امریکا میں مقیم ہیں اور جن کا ایران کے اندرونی حالات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔

روسی مندوب نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایرانی مظاہرین کو ریاستی اداروں پر قبضے کی کھلی اپیل اور مدد کی پیشکش، دراصل ایک خودمختار ملک کے آئینی نظام کو بزور طاقت تبدیل کرنے کی کھلی ترغیب ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ احتجاج جاری رکھیں اور آگے بڑھ کر اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، آپ کے لیے مدد راستے میں ہی ہے۔

 

 

Load Next Story