ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی یاد میں

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوںکا جو پچھلی رات سے یاد آرہا ہے

salmanabidpk@gmail.com

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوںکا

جو پچھلی رات سے یاد آرہا ہے

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کمال کی شخصیت تھے۔ان کی بڑی خوبی ایک ایسے مجلسی فرد کی تھی جو خود کو تنہا رکھنے کی بجائے دوستوں کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے حامی تھے۔ وہ ایک بڑی متحرک اور فعال شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے کا جنون ، جوش،امنگ اور خواہش ان میں ہمیشہ غالب نظر آتی تھی ۔پاکستان میں میڈیا کی تعلیم کا ایک ایسا شاندار اور باوقار نام جس پر ان کے بڑے بڑے مخالف بھی ان کی حیثیت کو بطور استاد تسلیم کرتے تھے ۔

وہ اپنی ذات میں جہاں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے وہیں ان کی حیثیت کو ہم بطور ایک ایسے ادارے کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں جس نے تن تنہا نہ صرف میڈیا کی جدید ترقی اور نئے نئے تقاضوں یا زاویوں کی بنیاد پر جامعات کی سطح پر میڈیا کے اداروں کی تشکیل میں نئی جہتیں پیدا کیں بلکہ ان کے معیارات کو عالمی میڈیا کی تعلیم کے ساتھ بھی جوڑا اور ثابت کیا کہ ہم عالمی میڈیا کی تعلیم کا مقابلہ علمی اور فکری بنیادوں پر کرسکتے ہیں ۔وہ میڈیا کی تعلیم میں ایک بڑے محقق،استاد، فکری اور علمی راہنما تھے جو جدید میڈیا کے تقاضوں کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ میڈیا اور اس کی تعلیم میں ہونے والی جدید ترقی کے معاملات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور اس شعبہ میں ان کی حیثیت ایک بڑے دانشور کی بھی تھی جو دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے ساتھ میری ، تاثیر مصطفیٰ مرحوم اور تنویر شہزاد کی خوب دوستی تھی ، ایک بار ہوٹل میں بیٹھے ہوئے تھے تو دیر تک میری آنکھوں میں دیکھتے رہے تو تنویر شہزاد نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب خیریت ہے تو کہنے لگے کہ میں سلمان کی آنکھوں میں ان کے والد عبدالکریم عابد مرحوم کو تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔یہ الفاظ میرے لیے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی طرف سے بڑے الفاظ تھے اور اس پر میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا ماسوائے ڈاکٹر صاحب کی طرف حسرت سے دیکھتا ہی رہ گیا۔

وہ جب بھی کام کاج سے فارغ ہوتے یا کسی مجلس کی تلاش میں ہوتے تو وہ مجھے اور تنویر شہزاد کو فون کرتے اور فوراً حکم دیتے کہ فلاں فلاں کافی شاپ پر پہنچ جاؤ مجلس لگاتے ہیں ۔اگلے ہی لمحے ہم وہاں پہنچ جاتے اور خوب گپ شپ کرتے ،ہنستے ،مسکراتے ، گنگناتے اور جی بھر کر سیاسی ،سماجی ، میڈیا کے معاملات پر کھل کر گفتگو کرتے، محفل سجاتے جو کئی گھنٹوں تک جاری رہتی ۔کافی کے پیسے وہ خود دیتے اور صاف کہتے کہ میں نے بلایا ہے اور میں تم لوگوں سے بڑا ہوں تو یہ میرا حق بنتا ہے۔ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اور تنویر شہزاد کا مشترکہ کمال ان کی شاندار لطیفہ گوئی تھی اور اس پر دونوں کو ملکہ حاصل تھا ۔اسی وجہ سے ان کی مجالس میں بیٹھ کر جہاں اداسی کی گفتگو ہوتی وہیں ہنسی مذاق اور قہقہے مارنا بھی ایجنڈے کا خوب حصہ ہوتا تھا ۔

ان کی دور اندیشی کمال کی تھی اور وہ کہتے تھے کہ پرنٹ میڈیا بہت جلد اپنی اہمیت کھو دے گا اور اس کی جگہ الیکٹرانک میڈیا لے لے گا مگر ساتھ ہی ان کے ہمیں یہ الفاظ بھی یاد ہیں کہ ریٹنگ اور تماشہ کی بنیاد پر چلنے والا الیکٹرانک میڈیا بھی زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گا اور اس کی جگہ ڈیجیٹل میڈیا کو عملاً برتری حاصل ہو جائے گی ۔یہ جملہ وہ بار بار دہراتے تھے کہ اگر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے جدید تقاضوں کے مطابق خود کو نہ ڈھالا یا نئی ترقی کے تقاضوں کے ساتھ نہ جوڑا تو وہ خود ان خرابیوں کے ذمے دار ہوں گے۔آج پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بحران اور ڈیجیٹل میڈیا کی نئی جہتوں کو دیکھتا ہوں تو ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اور ان کی کہی ہوئی باتیں خوب یاد آتی ہیں ۔

وہ جہاں میڈیا کے استاد تھے وہیں کرکٹ سے لگاؤ بھی تھا اور خود بھی کرکٹ کھیلتے رہے تھے، موسیقی یعنی پرانے گانے ،مطالعہ کی عادت،کھانے پینے کے شوقین اور مجلس کو سجانا اور مزاح بھی ان کا خوب تھا۔میڈیا کی تعلیم کے میدان میں وہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے اور خاص طور پر میڈیا کی سطح پر ایک تعلیمی اور تحقیقی جامعہ بنانا ان کی بڑی خواہش تھی اور اس کا عملی خاکہ بھی ان کے پاس تھا۔ سابق گورنر پنجاب خالد مقبول اس نقطہ پر ان کے حامی تھے مگر وہ اس منصوبہ کو مکمل نہ کرسکے ۔لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ میڈیا کی تعلیم میں نئی جہتوں اور میڈیا کے نصاب میں جو بھی جدید تبدیلیاں رونما ہوئی اس میں ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا بڑا حصہ تھا اور اس کردار میں ان کی حیثیت مسلمہ تھی اور وہ اس میدان میں ون مین آرمی کے طور پر تن تنہا آخری دم تک لڑتے رہے۔

وہ جانتے تھے کہ ریاست کو جو قومی بیانیہ کی تشکیل میں مسائل ہیں اس میں کامیابی کو ممکن بنانے میں میڈیا اور صحافیوں سے کیسے کام لیا جاسکتا ہے۔اسی طرح ان کے ذہن میں میڈیا کی سطح پر ایک بڑے تھنک ٹینک کا قیام بھی تھا اور اس کا ذکر وہ مجھ سے اکثر کیا کرتے تھے۔آخری ملاقات میں انھوں نے کہا کہ اب وہ میڈیا کی تعلیم سے جڑے اداروں میں کام نہیں کریں گے بلکہ ایک نیا تھنک ٹینک پر کام کرنے کا ارادہ ہے اور اس پر مجھے تمہاری اور تنویر شہزاد کی مدد درکار ہے ۔سلمان غنی اور ایاز خان سے بھی ان کی کمال کی دوستی تھی ۔لیکن مجیب الرحمن شامی کو اپنا سیاسی گروکہتے تھے اوران کی وہ ہر سطح پر عزت بھی کرتے تھے اور بہت سے معاملات میں کہتے تھے کہ انھوں نے ان سے خوب سیکھا ہے بالخصوص سماجی تعلقات کو بنانا اور اس کو چلانے یا اپنی بات کرنے کا سلیقہ مجیب شامی سے زیادہ کسی کو نہیں آتا اور اس میں ان کو کمال کی مہارت حاصل ہے۔

اسی طرح ڈاکٹر اسلم ڈوگر سے بھی ان کی محبت مثالی تھی اور طے کرنا پڑتا تھا کہ کون زیادہ ہنسائے گا اور پھر کہتے کہ یار اسلم ڈوگر کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ۔ڈاکٹر احسن اختر ناز کے بہت قریب تھے اور اپنی ہر بات ان سے کرتے تھے بلکہ بعض اوقات ڈاکٹر احسن اختر ناز نے مجھے کہا کہ یار سلمان، ڈاکٹر مغیث اپنی کئی لڑائیاں کو بھی میرے کندھے پر رکھ کر لڑتا ہے۔میں کمزور آدمی ہوں اور ان لڑائیوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا مگر پھر لنگوٹ کس کر ڈاکٹر احسن اختر ناز، ڈاکٹر مغیث شیخ کے پیچھے کھڑے ہوجایا کرتے تھے ۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو جامعہ پنجاب کی سڑکیں، شہر کی مختلف کافی شاپ، ہوٹل کے ساتھ ڈاکٹر مغیث شیخ کی یادوں سے جڑی محبت کا سماں یاد آتا ہے ۔ایسے لگتا ہے کہ بس ڈاکٹر صاحب کی کال آنی ہے اور پھر مجھے اور تنویر شہزاد کو بھاگم بھاگ ان کی مجلس کا حصہ بننا ہے جس سے انکار ہمارے بس کی بات نہیں ہوسکتی تھی ۔ان کی زندگی محنت اور جدوجہد سے جڑی ہوئی تھی اور آخری دم تک ان کی یہ جنگ خود اپنے ساتھ بھی جاری رہی ۔ وہ اپنے دکھوں کا اظہار بھی کرتے تھے اور ہمیں یہ احساس ہوتا تھا کہ ہم ان کے اصل رازداں بھی ہیں۔

Load Next Story