دعاؤں کا خزانہ

سب سے اہم عنصر کے متعلق اکثر نوجوان لوگ بہت کم سوچتے ہیں۔ وہ نکتہ سب سے اہم ہے بلکہ یہ عرض کروں گا کہ حاصل مضمون ہی وہی ہے۔

raomanzarhayat@gmail.com

ملک کے تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی پختہ تر عمر کا مرد یا خاتون موجود ہوتی ہے۔ انھیں بوڑھا مرد یا بوڑھی خاتون بھی کہہ سکتے ہیں۔ کثیرعمر کے مالک یہ افراد اکثر اوقات مختلف امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بستر کے ساتھ والی میز پر دوائیاں‘ شربت اور چھوٹے چمچ اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ کھانستے بھی زیادہ ہیں۔ بلغم نکالنے کی کامیاب یا ناکام کوشش بھی ہوتی رہتی ہے۔ انھی میں سے اکثر لوگ‘ بوز وبراز پربھی قدرتی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔

انھیں پیمپر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے باوجود‘ ان کا بستر خشک نہیں رہتا۔ ہزاروں یا لاکھوں انسانوں کا ذکر نہیں کر رہا ۔ ہمارے ملک میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ آپ انھیںکوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ بزرگ‘  قبر میں پیر لٹکائے ہوئے افراد‘ موت کے منتظر یا کوئی بھی عنوان۔ غور فرمائیے۔ یہ لوگ‘ عملی زندگی میں اپنے اپنے اہل خانہ کا مستقبل بنانے کے لیے زندگی قربان کر چکے ہوتے ہیں۔ چہروں کی جھریوں میں مشقت ‘ محنت اور ریاضت کے وہ تکلیف دہ مراحل چھپے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کسی کو بھی علم نہیں ہوتا۔ دراصل بدن اور مونہہ پر لٹکتی ہوئی کھال کی ایک ایک لکیر کے اندر‘ ان گنت خاموش کہانیاں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ جن کا ذکر کوئی بھی نہیں کرتا۔ وہ خود بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں بتاتے‘ کہ پینتیس سے چالیس برس‘ اپنے بچوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کس خوفناک آگ میں جھلستے رہے ہیں۔

دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ اولاد‘ انھیں پرانے فرنیچر کی طرح بیکارسمجھ کر کسی ایسے کونے میں منتقل کر  دیتی ہے جہاں وہ کسی کو بھی کم سے کم نظر آئیں۔ انھیں مہمانوں سے بھی زیادہ نہیں ملایا جاتا۔ شاید میری گزارشات غیر مناسب لگیں۔ مگر یہ جملے‘ حقیقت کے قریب تر ہیں۔ تصویر کا صرف ایک رخ بتایا ہے۔ ویسے‘ اب تک کوئی ایسا معاملہ نہیں جو آپ کے علم میں نہ ہو۔ چند دوسرے رخ بھی ہیں۔ بلکہ بہت سی معلوم نہ ہونے والی جہتیں بھی ہیں۔ یہ بوڑھے مرد اور خواتین اس وقت تک نہیں سوتے جب تک ان کی اولاد واپس گھر نہیں آ جاتی۔

ان کی آنکھیں دروازے کی طرف مسلسل لگی رہتی ہیں۔ کان‘ اپنے پیاروں کے پیروں کی مانوس چاپ سننے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔ جب تک اہل خانہ واپس نہیں آتے ، یہ بتائے بغیر ان کے شدت سے منتظر رہتے ہیں۔ ظاہر نہیں کرتے مگر ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب ان کے بچے اور بچیاں‘ خیریت سے گھر واپس آ جائیں۔یہ ترستے رہتے ہیں کہ کوئی پیارا ‘ نزدیک بیٹھے۔ ان کا حال پوچھے ‘ ان کی ماضی کی کہانیاں سنے۔ ان کے لکیروں سے بھرے چہروں پر مسکراہٹ کے چند پل لے آئے۔ وہ ہنسنا چاہتے ہیں۔ یقین فرمائیے کہ وہ ہر وقت عبادت کر کر کے بھی تھک چکے ہوتے ہیں۔ انھیں پوتے‘ پوتیوں‘ نواسے نواسیوں میں اپنا عکس محسوس ہوتا ہے۔اس پرچھائی کو دیکھتے ہی شاداب ہو جاتے ہیں۔

سب سے اہم عنصر کے متعلق اکثر نوجوان لوگ بہت کم سوچتے ہیں۔ وہ نکتہ سب سے اہم ہے بلکہ یہ عرض کروں گا کہ حاصل مضمون ہی وہی ہے۔ دراصل بزرگوں کی دعائیں وہ طاقت ہیں‘ جس کی بدولت‘ ان کے گھر والے ہر مصیبت سے محفوظ رہتے ہیں۔ دعائیں دل سے نہیں‘ ان کی روح کی گہرائیوں سے نکلتی ہیں جو سیدھی عرش پر پہنچتی ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں ‘ ان کے اٹھے ہوئے ہاتھ ‘ کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ سجدوں میں اپنی اولاد کے لیے‘ رو رو کر دعائیں‘ قبولیت سے سرفراز ہوتی ہیں ۔ خدا اور قدرت بلکہ ہر چیز ‘ ان کے برگزیدہ الفاظ کی لاج رکھتی ہے۔ جناب‘ مانیے یا نہ مانیے ۔ خدارا‘رد نہ کیجیے۔ گھر میں موجود بزرگوں کی دعائیں‘ ہمارے لیے سب سے انمول خزانہ ہے۔ ہیروں اور سونے کی ایسی کان ‘ جس کی گہرائی کا اندازہ اولاد کو ہو ہی نہیں سکتا۔

شاید میری گزارشات اجنبی سی لگیں۔ مجھے ایک رشتہ‘ محض ایک رشتہ ایسا دیکھا دیجیے جس کی بنیاد میں اتنی شدت کی محبت اور خلوص موجود ہو؟ ہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں جس کا ذکر بہت کم ہی ہوتا ہے۔ میاں بیوی کا باہمی رشتہ‘وابستگی اور قربت کا ہے۔ مگر ذرا سوچیے اس کی بنیاد کیا ہے؟ ہمارے جیسے معاشروں میں اسے زیادہ سے زیادہ ایک ’’سوشل کنٹرکٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے جس کی فطری ضرورت ہے۔ یہ باہمی ضروریات کا خیال رکھنے سے جڑا ہوا ہے۔ لاکھ چاہتے ہوئے بھی‘ اس میں خلوص کی وہ گہرائی نہیں جو کہ ماں باپ کے تعلق میں ہوتی ہے۔ اب تو جتنا مصنوعی دور آ گیا ہے اس میں شوہر اور اہلیہ کا تعلق بھی پیسے سے منسلک نظر آتا ہے۔ طلاق کی شرح‘ بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ہر لڑکی کی شادی کے بعد‘ صرف ایک خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اسے ہر وہ سہولت دے جس کا اس نے خواب دیکھا ہے۔ اکثر خواتین اس سنجیدہ امر کا ادراک نہیں کرتیںکہ خاوند کے مالی وسائل کتنے ہیں۔ وہ توازن نہیں بلکہ خواہشات کی تکمیل کو بنیاد بنا کر ‘ ازدواجی رشتے کو کامیاب کرنا چاہتی ہیں۔ بھرپور اختیار ہے کہ آپ میرے استدلال کو تسلیم نہ کریں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہی نظر آتی ہے۔ آج کل کی لڑکیاں ‘ جب بہو بنتی ہیں تو ان کی جائز خواہشات کو پورا کرنا‘ مرد کی ذمے داری ہے۔یہ بالکل درست بات ہے۔ مگر متعدد ایسی حسرتیں بھی سامنے آتی ہیں جو شوہر کی مالی استعداد سے باہر ہوتی ہیں۔ یہیں سے باہمی تلخیاں شروع ہوتی ہیں۔ جن کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔اس کے بالکل متضاد‘ ایک مقدس رشتہ ایسا ضرور ہے جو صرف اور صرف محبت‘ رواداری اور عشق پر استوار ہے اور وہ ہے ماں باپ کا دائمی رشتہ۔ ایک بات مزید سمجھنے کی ہے۔ قدرت نے یہ تعلق‘ اکثر اوقات یک طرفہ رکھا ہے۔

اولاد کو اپنے بزرگوں سے وہ محبت نہیں ہوتی‘ جو انھیں اپنی اولاد سے روا ہوتی ہے۔ اکثریت کی بابت عرض کر رہا ہوں۔ اب تو یہاں تک دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اولاد بڑے شہروں میں اپنے بزرگوں کو ’’اولڈ ہوم‘‘ میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اس کے بعد‘ سالہاسال ‘ ان کی خبر گیری کے لیے بھی واپس نہیں آتے۔ مغرب میں تو خیر ’’اولڈہوم‘‘ ایک ٹھوس سماجی حقیقت ہے۔ مگر ہمارے ملک میں جس کی معاشرتی اساس مغرب سے مختلف ہے۔ یہاں یہ چلن ‘ کم از کم میرے جیسے طالب علم کی سمجھ سے یکسر باہر ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ والدین جس کی بدولت خدا نے آپ کو دنیا میں پیدا کیا۔ جنہوں نے ہر تکلیف اٹھا کر آپ کو پالا پوسا۔ ضعیف ہونے پر انھیں بوجھ سمجھ لیا جائے اور انھیں ایک ایسی جگہ منتقل کر دیاجائے جہاں ان کے لیے کوئی آرام یا سکون کا وجود ہی نہ ہو۔ بہرحال میں اس قبیح فعل کو اولاد کی نافرمانی کے علاوہ دوسرا کوئی لفظ نہیں دے سکتا۔

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ہمارے سماج میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ان کو کسی بھی طریقے سے روکنا ناممکن ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا کی چکا چوند‘ آنکھیں خیرہ کر چکی ہیں۔ اس تبدیلی کو تسلیم کرنا چاہیے‘ مگر ‘ ان سے آپ کے نزدیک ترین رشتوں کی اہمیت میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہونی چاہیے۔ توازن ہی اصل زندگی ہے۔ معمولی سے غیر متوازن رویے سے گھر کی بنیادیں ہل جاتی ہیں ۔ خاندان تباہ ہو سکتے ہیں۔ آپ کو نقصان کا احساس تک نہیں ہو پاتا۔ جب معاملات کی سمجھ آتی ہے تو والدین منوں مٹی کے نیچے آسودہ ہوتے ہیں۔ دراصل سب کچھ گھرکے سربراہ پر منحصر ہوتا ہے۔

اگر وہ‘ اپنے بزرگوں کی خدمت کو اہمیت دیتا ہے تو اس سے منسلک تمام لوگ‘ اس کی عملی پیروی کریں گے۔ مگر یہاں تو ایسے نادان بچے بچیاں بھی ہیں جو اپنے بزرگوں کے لیے بروقت دوائی لانے کو بھی بوجھ تصور کرتے ہیں۔ جو ان کی خوشی کا بالکل خیال نہیں رکھتے۔ جو ان سے ہر وقت جلی کٹی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے آرام کا قطعاً لحاظ نہیں رکھتے۔ ان سے منفی بحث کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔ یقین ہے کہ جب وہ بوڑھے ہونگے تو‘ ان کے ساتھ ‘ ان کی اولاد وہی ناروا سلوک روا رکھے گی جو انھوں نے اپنے والدین کے ساتھ رکھا تھا۔ بدی ہمیشہ پلٹ کر آتی ہے اور کرنے والے کو کسی نہ کسی وقت‘ اپنا شکار ضرور بناتی ہے۔ اس لمحے سے ڈرئیے جب آپ کی نافرمانی کا بدلہ‘ قدرت آپ سے لے گی۔

اپنے بوڑھے بلکہ ضعیف والدین کو اپنی زندگی کا محور بنایئے۔ جتنے مرضی تھک ہار کر گھر واپس آئیں ۔ ان کے پاس ضرور جائیں۔ ان کو بچپن سے لے کر اب تک‘ وہ تمام واقعات سنائیں جنھیں سن کر وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ ان کے تھکے ہوئے چہروں کی مسکراہٹ آپ کے لیے ان گنت درکھول دے گی۔ قدرت آپ کی مدد کے لیے بذات خود ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔ اپنے والدین کی پسند کی کوئی بھی چیز یا تحفہ لایئے۔ قیمت بے معنی ہے۔ سستے اور مہنگے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھیں احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ قہقہے لگائیں۔ اگر وہ وہیل چیئر پر ہیں تو انھیں ہر ہفتہ کسی باغ میں سیر کروائیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ان کی زندگی کو بہتر بنا دیں گے  اور آپ کو بیٹھے بٹھائے ‘ دعاؤں کا خزانہ حاصل ہو جائے گا۔ اس کلیے کو آزما کر تو دیکھیئے۔

Load Next Story