ٹرمپ نے کن 2 مسلم سربراہان کو ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے امورِ مملکت چلانے کے لیے عبوری انتظام اور نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بورڈ کو خود امریکی صدر سپروائز کریں گے اور اس کے ارکان میں زیادہ امریکی ہی شامل ہیں۔
البتہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کے لیے ترک صدر طیب اردوان کو بھی باضابطہ دعوت دی ہے۔
ترکیہ کے صدارتی دفتر نے بتایا کہ صدر اردوان کو امریکی ہم منصب کا خط بھی موصول ہوا ہے جس میں انھیں اس بورڈ کا بانی رکن بنانے کی پیشکش کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس خط میں غزہ جنگ بندی اور اس کے بعد امن، عبوری حکمرانی اور تعمیر نو کے عمل میں ترکیہ کے کردار کو بھی اہم قرار دیا ہے۔
ترک صدر نے تاحال امریکی ہم منصب کی اس پیشکش پر کوئی جواب نہیں دیا البتہ اس پر اپنے رفقا سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔
اگرچہ ترک صدر کے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تاہم وہ اسرائیل کے سخت ترین ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔
ترک صدر متعدد بار اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو انسانی جرائم قرار دے چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل پہلے بھی غزہ کے معاملات میں ترکی کے کسی فعال کردار کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
ترک صدر کے علاوہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہوئی ہے۔
مصری وزیر خارجہ نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صدر ٹرمپ کی اس دعوت کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ آف پیس کا قیام غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی نازک جنگ بندی کے بعد کیا جا رہا ہے۔
اس بورڈ کا مقصد غزہ کی عارضی حکمرانی کی نگرانی، سیکیورٹی اور امن و امان کی بحالی، انسانی امداد کی منصفانہ تقسیم، تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی سمیت مستقبل کے سیاسی انتظام کے لیے فریم ورک تیار کرنا ہے۔