کیا زندگی واقعی گلزار ہے
محترمہ منور جہاں منور کے شعری مجموعہ جس کا عنوان ہے ’’ زندگی گلزار ہے‘‘ یہ میرے ہاتھوں میں کتاب کی صورت میں نہیں آ سکی، البتہ میری نگاہوں کے حصار میں ضرور سما گئی ہے، اس کی وجہ پی ڈی ایف کے ذریعے منور صاحبہ کی شاعری پڑھنے کا موقع میسر آیا، وہ بھی بڑی تکلیف اٹھا کر، تحریر کو آگے پیچھے اور بڑے فونٹ میں لاتے ہوئے انگلیاں فگار ہو گئیں۔
میں نے اس سے قبل ایسی مشقت شاید ہی کبھی خیال و خواب میں بھی نہ اٹھائی ہو، چونکہ زیب النسا زیبی نے سمجھا دیا تھا، سو ہم وقتی طور پر اس لیے سمجھ گئے کہ فلائیر پر نام مع تصویر کے درج ہو چکا تھا۔
ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے کیا وہی جو تحریر کا تقاضا تھا، بھرپور طریقے سے مطالعہ اور پھر اس پر تبصرہ کرنا دیانت داری کا اصول ہے، سو ہم نے ایسا ہی کیا۔
اکثریت ان لوگوں کی آج کے ہی نہیں بلکہ ہر دور میں سامنے آتی ہے جنھیں زندگی سے ہمیشہ شکایت رہی ہے اور اگر شعرا کرام کی بات کی جائے تو اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ رائی کا پہاڑ بنا لیا جاتا ہے، حساس جو ٹھہرے، تخلیق کار، اپنے غموں کے علاوہ دوسروں کے دکھوں کو بھی گلے لگا لیتا ہے۔
پھر دل ناتواں پر چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ناگوار گزرتی ہیں انھی تلخ و شیریں حقائق سے زندگی بوجھل ہو جاتی ہے اور سینے میں ایک الاؤ دہکنے لگتا ہے۔
لیکن جب منور جہاں منور کے کلام اور کتاب کے نام پر غور کرتی ہیں تو سب سے پہلے تو ہمیں نام چونکاتا ہے اور ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ شاعرہ بہت خوش قسمت ہیں کہ جن کی زندگی، دنیا کے بکھیڑوں سے آزاد ہے اور غموں سے دور۔ جب ہی تو انھوں نے اپنے شعری مجموعے کا عنوان ’’زندگی گلزار ہے‘‘ تجویز کیا ہے۔
لیکن جناب ایسا ہے نہیں، بلکہ مطالعہ کے بعد اچھی طرح اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کی شاعری میں فکر و آگہی کے بہت سے دیے روشن نظر آتے ہیں، اپنے دکھ درد کے ساتھ دوسروں کی محرومیوں اور ناکامیوں کا احاطہ بھی بڑے قرینے کے ساتھ کرتے ہیں ، غزل کا مطلع ہے:
کیا غم ہے اگر ساتھ زمانہ بھی نہیں ہے
ہمدرد مجھ کو کوئی، بنانا بھی نہیں ہے
اسی غزل کا ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیے:
واللہ دمِ واپسیں دیدار کرا دو
یہ کذب کوئی میرا فسانہ بھی نہیں ہے
میرے منتخب کردہ دونوں اشعار اس بات کے غماز ہیں کہ پہلا شعر زمانے کی بے وفائی کا عکاس ہے لیکن صبر و شکر کے عنصر نے بھی تخلیقیت میں اپنی جگہ بنا لی ہے اسی شعر کے مصرعہ دوم میں شاعرہ نے اپنی انا کے جذبے کا اظہار کیا ہے کہ وہ اچھی طرح ان لوگوں سے واقف ہو چکی ہیں جو محبت کے بے لوث جذبوں سے ناآشنا ہیں، خود غرضی ان کے خمیر میں شامل ہے، لہٰذا وقت نے جہاں زخموں پر مرہم لگایا ہے وہاں ایک اچھا استاد بن کر سبق بھی سکھا دیا ہے۔
دوسرا شعر ان کے ذاتی جذبات کا پیش خیمہ ہے یعنی جو دل پر گزری ہے اسے بیان کر دیا گیا ہے کہ اب چل چلاؤ کا وقت ہے اس لیے شاعرہ نے التجا کی ہے دیدار کرانے کی اور جو بات یا واقعہ جھوٹ پر مبنی ہے جب کہ کذب سے قلم کار کا دور دور تک واسطہ نہیں ہے۔ بے شک منور جہاں کی شاعری سچائی کا پیکر ہے جو دل پر گزری اسے شعر و سخن کے سانچے میں ڈھال دیا ہے اور اس کا اظہار بھی جرأت رندانہ کے ساتھ ببانگ دہل کیا ہے۔
جب عشق مجازی کی بات کرتی ہیں تو بلاخوف و خطر دلی کیفیت کو بیان کرتی ہیں:
عشق کا پیراہن ہے رسوائی
کیا کریں چاک کو رفو کرکے
اس وقت ہمیں قتیل شفائی کا یہ نغمہ یاد آگیا ہے:
پیار کیا تو ڈرنا کیا
جب پیار کیا تو ڈرنا کیا
پیار کیا کوئی چوری نہیں کی
تو تخلیق کار نے بھی عشق و محبت کی کہانی کو طشت ازبام کر دیا ہے کہ چاک کو رفو کرنے کا وقت گزر چکا ہے، ویسے بھی عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے ہیں۔
منور جہاں کی شاعری امید کی روشنی سے جگ مگ کر رہی ہے وہ خود بھی ہر قدم پر امید نظر آتی ہیں اور اپنے دوست احباب کو بھی امید کی سنہری کرنوں سے منور کر رہی ہیں۔
طلب کی راہ میں رہنا رواں دواں یارو
کبھی تو منزل پر پہنچے گا کاررواں یارو
عجیب دام میں سارا جہاں الجھا ہے
ملے گی اس سے ہمیں کس طرح اماں یارو
مقطع ہے:
ہماری شب تو منور ہے نور گریہ سے
سنے گا وہ بھی کبھی شورشِ فغاں یارو
اپنے دل کی شکستگی کے بارے میں اس طرح وہ تخلیق کے کرب سے گزری ہیں:
دل شکستہ ہی سہی اتنا تو کر جائے گا
ایک صدا بن کے فضاؤں میں بکھر جائے گا
خانہ دل سے اگر خوف و خطر جائے گا
زیست کا تیری ہر اک گوشہ سنور جائے گا
سہل ممتنع کی شاعری دلوں کو لبھاتی ہے، قاری پڑھتے ہوئے معنویت اور شعری دلکشی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ شعر کی گہرائی اور گیرائی سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہتا ہے۔ان کے کلام میں موسیقیت کے ہلکے پھلکے سر جا بجا محسوس ہوتے ہیں۔
منور جہاں منور کے کلام میں دلبستگی دلکشی اور شائستگی نمایاں ہے اسی وجہ سے قارئین پڑھتے ہوئے فرحت و شاداں کی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں۔ غزل کے چند اشعار:
اپنی آنکھوں سے جادو کا تماشا دیکھوں
کاش ایک روز تیری صورتِ زیبا دیکھوں
چشم تشنہ تیرے دیدار سے بھرتی ہی نہیں
تجھ کو دیکھوں تو بصد دیدہ و بینا دیکھوں
شہر امید مرا اجڑا ہوا لگتا ہے
دور تک پھیلا ہوا دامن صحرا دیکھوں
اس کے ساتھ ہی آپ کی سماعتوں کا شکریہ۔
(تقریب رونمائی میں پڑھا گیا مضمون)