صوفی شاہ عنایت شہید کا یادگاری جلسہ
چند دنوں پہلے جناب گل محمد منگی اور شاہ عنایت شہید فورم کے دوسرے دوستوں نے ایک محفل منعقدکی، جس میں لوگوں کو شاہ عنایت صوفی شہید کی 308 ویں برسی کے موقع پر ایوارڈ دیا گیا۔
ان میں مجھے بھی یہ عزت بخشی گئی کہ میں اس ایوارڈ سے سرفرازکی جاؤں۔ اِس روز میں خود تو نہ جاسکی لیکن میری چھوٹی بیٹی سحینا ایلیا نے میری جگہ وہ ایوارڈ لیا۔
ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر شاہ محمد مری، راقم، ڈاکٹر محمد علی مانجھی، نعیم احمد شیخ، پروفیسر ساجدہ چنہ، عبدالواحد آریسر، صوفی حضور بخش، پروفیسر اعجاز احمد قریشی اور پروفیسر حسن بانو ابڑوکو ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر مبارک علی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’ تاریخ میں ظالم اور مظلوم کے درمیان ہمیشہ سے تصادم رہا ہے۔ ظالم طاقتورہوتا ہے، اس لیے مزاحمت کو کچل کر رکھ دیتا ہے، مگر مزاحمت کی یادیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہا کہ ’’ تاریخ میں جاگیرداری نظام ایک طویل عرصہ رہا، اس طویل عرصے میں لاکھوں کسان قتل کردیے گئے۔ جھوک جنگ دنیا کی وہ واحد سب سے بڑی جنگ ہے، جو طویل عرصے تک آمنے سامنے لڑی گئی جہاں زبان، نسل، مذہب اور جنس کا کوئی امتیاز نہ تھا۔
یہ کسانوں کی اولین گوریلا جنگ تھی، مگر نصاب سے اس طبقاتی جنگ کا تذکرہ خارج کردیا گیا۔ اس موقع پر میں نے یہ کہا کہ ’’ سندھ کی مٹی صدیوں اور ہزاروں برس سے ان لوگوں کے خون سے سیراب ہے جنھوں نے بغاوت کی اور اس کا سرنامہ لکھا، ان میں ایک بڑا نام صوفیہ شاہ عنایت ہیں۔
میں اسے اپنا اعزاز سمجھتی ہوں کہ میں نے اُن پرکئی مرتبہ لکھا اورکئی اخباروں میں چھپی۔ میرے لیے یہ ایوارڈ افتخار اور انبساط کا سبب ہے۔ شاہ عنایت شہید فورم کے چیئرمین گل محمد منگی نے کہا کہ ’’ شاہ عنایت کی فکرآج کے دور میں بھی اسی طرح توانا اور قابل عمل ہے جتنی تین صدیوں پہلے تھی۔‘‘
تقریب سے پروفیسر حسن بانو ابڑو، ڈاکٹر محمد علی مانجھی، پروفیسر اعجاز قریشی، پروفیسر ساجدہ چنہ، ناصر منصور، صوفی حضور بخش،آغا سعید، یونس مہر، حمید منگی، لطیف راولانی اور دیگر لوگوں نے خطاب کیا۔
مجھے 2013 کی اپنی ایک تحریر یاد آئی، میں نے جس میں شہید صوفی کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ سندھو دریا کے چوڑے پاٹ کی طرح وسیع المشربی اور رواداری سندھ کا وصف خاص رہا ہے اورکیوں نہ ہو کہ یہاں اسلام اور ہندو مت کے ساتھ ساتھ بدھ مت کے ماننے والوں کا ڈیرا بسیرا رہا ہے۔
لفظ سیکولر ازم جس سے لوگ ابھی کچھ دنوں پہلے واقف ہوئے ہیں، جب کہ سندھ کے عظیم صوفی صدیوں پہلے اس لفظ سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی سیکولر ازم کے فلسفے پر ایمان رکھتے تھے۔
تب ہی اٹھارہویں صدی کی ابتداء میں شاہ صوفی عنایت شہید نے رواداری اور انسانی مساوات کی مثال قائم کرتے ہوئے غریب کسان کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ وہ یہ نعرہ لے کر اٹھے کہ ’’ جوکھیڑے سوکھائے ‘‘ (جوکمائے وہی کھائے)۔
انھوں نے اجتماعی کھیتی (کمیون) کا طریقہ اختیارکیا جو اس زمانے کے گورنروں، جاگیرداروں، زمینداروں اور ظاہر پرست ملاؤں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تھا۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے وہ تمام حربے استعمال کیے گئے، جو اہل اقتدار ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔
یہ بات ہمارے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے کہ اب سے تین سو برس پہلے سندھ کے جامد سماج میں صوفی شاہ عنایت نے انقلاب فرانس اور مارکس ازم کے ظہور سے بہت پہلے اجماعتی کھیتی یا کیمون کا تصور پیش کیا تھا۔
انھوں نے انسان دوستی کے فروغ کی بات کی اور یہ نعرہ لگایا کہ جو بوئے وہ کھائے۔ وہ مذہبی، مسلکی اور نسلی تفریق کے قائل نہیں تھے۔ تب ہی ان کے مریدکسانوں میں ارد گرد کے ہندو اور بودھ مت کے لوگ بھی شامل ہوئے۔
ان لوگوں نے جھو ک کے محاصرے کے دوران گورنر ٹھٹھ، اعظم خان کے لشکریوں سے جنگ کی اور اس جنگ میں جو خون بہا وہ مسلمانوں، ہندوؤں اور بودھوں کا تھا۔ عوام کے اتحاد اور ایکتا کی یہ ایک خوبصورت مثال تھی۔
سیکولر بنیادوں پر شاہ شہید کے خوابوں کے سماج کی تعمیرکا خواب پورا نہ ہوسکا، لیکن یہ خواب تاریخ میں سفرکرتا رہا اور آج ہم تک آیا ہے۔ سندھ کے صوفی،کثیرالمشرب، روادار اور سیکولر سماج کا یہ تانا بانا، شاہ شہید عنایت، شاہ لطیف سے شیخ ایاز تک ایسے ہی خیالات اور عملی جدوجہد کے ذریعے آیا ہے۔
شاہ عنایت شہید کے بارے میں سائیں سید نے لکھا ہے کہ وہ سندھ کے مشہور درویش مخدوم صدولا نگاہ کی اولاد سے تھے۔ یہ درویش میران پور میں رہائش پذیر تھے۔ شاہ عبدالطیف نے غالباً اپنے عنفوان شباب میں شاہ عنایت کی بزرگی درویشی کی شہرت سن کر ان سے ملاقاتیں کی تھیں۔
شاہ لطیف اکثر اپنے دادا کے مزار پر جاتے تھے۔ چنانچہ اسی دوران انھیں شاہ عنایت صوفی سے میل ملاقات کے مواقعے ملتے رہتے تھے۔ شاہ عنایت کے زہد و فیض کے چرچے پھیلنے لگے تو چہار طرف کے لوگ جوق در جوق آپ کے چشم شیریں سے سیراب ہونے کے لیے جمع ہونے لگے۔ آپ کی اس بے پنا ہ مقبولیت کو دیکھ کرگرد و پیش کے زمینداروں، مولویوں اور پیروں کے دلوں میں آتش حسد بھڑک اٹھی۔
شاہ عنایت صوفی کی تعلیمات، تنگ نظری اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایک کھلا چیلنج تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں ملاؤں اور پیروں نے شریعت و طریقت کو اپنے استحصال واقتدارکا کھلونا بنا رکھا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ صوفی صاحب جیسے بزرگ کو اس تصنع اور ڈھونگ کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کرنا پڑا۔ وہ سندھ کے سماج میں ایک ایسا انقلاب لانا چاہتے تھے کہ جو اس عہد کے تسلیم شدہ نظریوں، دستوروں اور قوانین کی بیخ کنی کے مترادف تھا۔ اسی وجہ سے اس دورکے وڈیروں، مولویوں، پیروں اور حکمرانوں کا ان سے خائف ہونا فطری امر تھا۔
شاہ عنایت کے قتل کا جب فتویٰ حاصل کیا گیا، تو اس کے جواز میں ان کے گنا ہ یوں گنوائے گئے۔ 1۔ و ہ اس وقت کے ملاؤں کے اعتقاد ات نیز پیران وقت کے پیری مریدی کے کاروبارکو جائز تسلیم نہیں کرتے تھے اور آزاد خیالی کی تبلیغ کرتے تھے۔
2۔ مذہبی فرقہ بندیوں کو ختم کر کے آزاد خیالی کے رشتے کی بنیاد پر بلاتفریق مذہب و فرقہ، ذات و طبقہ انھوں نے اپنی جماعت بنائی جس سے اس وقت کے مذہبی تاثرات واقتدارکو نقصان پہنچنے کا اندیشہ محسوس کیا گیا۔
3۔ اپنی جماعت کے لوگوں کے لیے انھوں نے جو لباس مقررکیا، اس کا رنگ ہندو سنیاسیوں یا بدھ دھرم کے بھکشوؤں اور لاماوں کے لباس کے رنگ جیسا یعنی گیروا تھا۔ اس رنگ و لباس سے مسلمان مولوی، ملا خاص طور پر بڑا تعصب رکھتے تھے۔
4۔ صوفی صاحب کی جماعت کے لوگوں نے حکومت وقت کو مالیانہ دینے سے انکارکیا تھا۔ 5۔ شاہ صاحب کا خیال تھا کہ لوگوں کے ذاتی اعتقادات جن کو انھوں نے غور و فکرکے بعد صداقت کے ساتھ اختیارکیا ہو، ان کے ذاتی معاملات ہیں۔ سماج اور حکومت کو اس میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں۔
شاہ کے دشمنوں نے ان سے نجات کے لیے ٹھٹھہ کے گورنر سے امداد طلب کی۔ گورنر اعظم خان ایک بڑا لشکر لے کر آیا۔ شاہ کے مریدین بے جگری سے لڑے، شاہ سے کہا گیا کہ ہم آپ کے شرائط پر صلح کرلیں گے۔
اس طرح آپ کے مریدین کی جان بچ جائے گی۔ یوں جھوک کے طویل محاصرے کے بعد قرآن کو درمیان میں لاکر صوفی عنایت شاہ سے صلح کی بات کی گئی۔ انھوں نے صلح کی تجویز منظورکر لی۔ جھوک کے پھاٹک کھول دیے گئے اور انھیں بہت عزت واحترام کے ساتھ نواب اعظم خان کے خیمے میں لے جایا گیا، جہاں انھیں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دی گئیں۔
قرآن کو درمیان میں لاکر جو عہد شکنی کی گئی، اسکے بعد جوکچھ ہوا، اس کے بارے میں سبط حسن نے لکھا ہے کہ ’’ تب شاہی انتقام کی آگ نے جھوک کا رخ کیا اور فقیروں کا قتل عام شروع ہوا، ان کے گھرجلا دیے گئے۔
ان کا اثاثہ لوٹ لیا گیا اور بستی کی چہار دیواری مسمارکردی گئی۔ جھوک کی اجتماعی کھیتی خون کے دریا میں ڈوب گئی۔ نہ بیچ بونے والے بچے اور نہ فصل کاٹنے والے۔‘‘ یہ سبط حسن تھے جنھوں نے شاہ شہید کو ’’ وادی سندھ کا پہلا سوشلسٹ صوفی‘‘ قرار دیا۔
سبط صاحب نے بجا طور پر لکھا تھا کہ:’’ یہ تحریک کسی چھوٹے سے تالاب کے بند پانی میں ایک کنکری کی موجود سے زیادہ نہ تھی، مگر ان لہروں میں طوفانی موجوں کی توانائی چھپی ہوئی تھی، جو ابھرکر سامنے آئے تو پورے جاگیردارانہ نظام کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے جانے کی قوت رکھتی ہے۔‘‘
سید سبط حسن نے اعظم خان اور صوفی شاہ عنایت کے درمیان ہونے والا مکالمہ جو حافظ شیرازی کے اشعار سے ہوا، تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ جب قید خانے کی طرف لے جانے جا رہے تھے تو انھوں نے دربار میں بلند آواز میں کہا۔
میں نے جس چشمہ عشق پر وضو کیا
اسی وقت ہستی کی ہر شے کو سات سلام کیا
قید و بندکی صعوبتیں سہنے کے بعد جب ان کا سر قلم کیا جانے والا تھا تو انھوں نے قید ہستی سے آزاد کرنے والوں کو دعا دیتے ہوئے کہا۔
رہا یندی مرا از قیدِ ہستی
جزاک اللہ فی الدارین خیرا