پاکستان کو بچاؤ
ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے ’’ کراچی بچاؤ‘‘ مہم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ کراچی غلاموں کا نہیں پاکستان کو آزادی دلانے والوں کا شہر ہے، اگر پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانا ہے تو کراچی کو مسائل سے پاک کرنا ہوگا۔‘‘
انھوں نے مثال دے کر بتایا کہ جب شنگھائی شہر نے پورے چائنا کو بنا دیا تو کراچی بھی پاکستان کو ترقی کی منزل پر پہنچا کر دم لے گا۔ ان کا فرمان درست ہے۔
اب کراچی بالکل بدل چکا ہے، یہاں اب نہ خونریزی ہے اور نہ ہڑتالوں کا سلسلہ ہے۔ اب کراچی والوں نے اپنے شہرکے ساتھ ساتھ وطن عزیزکو بھی ترقی کی معراج پر پہنچانے کا مصمم عزم کر رکھا ہے۔
اب موجودہ قیادت کراچی کو روشنیوں سے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک ترقی یافتہ شہر بنانے کے اپنے مشن پرگامزن ہے، مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور اہم ادارے کراچی والوں کا ساتھ دیں اور ان کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
کراچی کے مسائل جو برسوں سے حل طلب ہیں،آج بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ کیا کسی ملک کے اہم شہرکو نظراندازکرکے کوئی ملک ترقی کر سکتا ہے؟ یہ شہر پاکستان بنانے والوں کا شہر ہے اور وہ آج بھی اس عہد پر قائم ہیں کہ پاکستان کو دنیا کا ایک عظیم ملک بنا کر دم لیں گے۔
ایم کیو ایم کے ایک اہم رہنما اور موجودہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا یہ کہنا کہ ہم نے پاکستان کی خاطر اپنی پارٹی کے قائد کو بھی خیر باد کہا ہے، یہ ایک بہت بڑی قربانی ہے جوکہ دنیا میں بہت کم ہی نظر آتی ہے مگر جب قائد ہی بنیادی اصولوں اور مادر وطن کی محبت سے عاری نظر آنے لگے تو پھر اس کی تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
اس کے لیے پارٹی کے موجودہ رہنماؤں کے دل و جگر کی مضبوطی مادر وطن کے لیے ان کی محبت کو داد و تحسین دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ ایم کیو ایم کا جو یہ نعرہ ہے کہ ’’ ہم نے پاکستان بنایا تھا، ہم ہی اسے بچائیں گے‘‘ بالکل درست ہی لگتا ہے۔
کاش ملک کے دیگر رہنما بھی حب الوطنی کی ایسی مثال قائم کریں۔ بدقسمتی سے اس وقت ملک میں جو افراتفری مچی ہوئی ہے اور وطن کی فکر کرنے کے بجائے صرف ذاتی مفادات اور حصول اقتدارکی بات کی جا رہی ہے، یہ یقینا ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حال ہی میں ملک کے ایک بزرگ سیاسی رہنما کا بیان سامنے آیا ہے جس نے محب وطن افراد کے دلوں کو بہت تکلیف پہنچائی ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ جن کا پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق ہے کا کہنا ہے کہ مجھے خدشہ ہے کہ دو چار مہینے بعد پاکستان کے کچھ علاقے علیحدگی کا اعلان کر دیں گے۔
اچکزئی کے اس بیان پر پاکستان تحریک انصاف کے ایک بانی رہنما اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ محمود اچکزئی کے بیان سے بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ ان کا ایسا کہنا ہی نہیں ایسا سوچنا بھی گناہ ہے۔
اچکزئی کے بیان سے ملک کی فلاح نظر نہیں آتی، اس سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانا مقصود ہے۔ اچکزئی کے بیان سے یہ بھی لگتا ہے کہ ملک میں موجودہ ہنگامہ خیزی اور افراتفری بلا سبب نہیں پھیلائی جا رہی، اس کے پیچھے ایک نیا طوفان پنپ رہا ہے جو ملک کو توڑنے کا ارادہ رکھنے والوں کو سامنے لا سکتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ملک میں علیحدگی کی تحریکیں ماضی کا حصہ رہی ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ دم توڑتی رہی ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں ضرور کچھ لوگ اس قسم کے نعرے لگا رہے ہیں، مگر ان کو عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی ہے کیونکہ یہ مہم دراصل بھارت کی بھرپور فنڈنگ سے چلائی جا رہی ہے۔
یقینا بھارت کو منہ کی کھانی پڑے گی، اس لیے کہ بلوچستان کے غیور عوام کسی بھی صورت پاکستان سے اپنی وفاداری ترک نہیں کر سکتے۔ لگتا ہے اب بلوچ نوجوانوں سے مایوس ہو کر ہی افغانوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔
اس دہشت گردی سے دشمن کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے کیونکہ شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اب حکومت بلوچستان کا یہ عزم رنگ لاتا نظر آ رہا ہے کہ وہ صوبے کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کرکے رہے گی۔
افغانوں کے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کی اصل وجہ وہاں کی معاشی بدحالی ہے۔ ایک افغان کے لیے اپنے بچوں کا تو کیا اپنا ہی پیٹ بھرنا مشکل ہو گیا ہے۔ چنانچہ دشمن کو ایسے لوگوں کو دہشت گردی کی جانب راغب کرنا آسان ہوگیا ہے۔
بھارت نے افغانستان سے اپنے رشتے صرف پاکستان دشمنی میں پھر سے استوار کیے ہیں۔ اب وہ وہاں سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ کئی وسطی ایشیائی ممالک کو بھی دہشت گردوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔ ان ممالک نے افغان حکومت سے سخت احتجاج کیا ہے مگر اس کا اس کے پاس کوئی تسلی بخش جواب ہی نہیں ہے۔
ضرورت یہ ہے کہ طالبان حکومت جو پہلے ہی دنیا کے لیے ناقابل قبول ہے ، اب بھارت کو اپنی سرزمین کو اس کے دشمنوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے کر مزید بدنام ہو گئی ہے۔
افغان قیادت دراصل اس وقت بہت بوکھلائی ہوئی بھی ہے کیونکہ پاکستان نے اس کی دہشت گردی کی وجہ سے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور طورخم کا تجارتی راستہ بند کر دیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے طورخم بارڈر بند کرنے کی واضح وجہ ہے کہ ایک عرصے سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے کیونکہ انھوں نے طالبان کو مکمل چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف جو بھی کرنا چاہیں کریں۔
پاکستان نے افغان حکومت کو دہشت گردوں کو پاکستان میں کارروائی کرنے سے روکنے کے لیے بار بار درخواست کی مگر وہ اسے روکنے کے بجائے دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی نظر آئی۔
اس کا یہ جواب پاکستان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کو کیسے روک سکتے ہیں کیونکہ انھوں نے امریکا کے خلاف طالبان کی بھرپور مدد کی تھی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی وجہ سے انھیں کابل پر حکومت کرنے کا موقع ملا تھا جس کی پاداش میں پاکستان کو ناقابل بیان جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے ساتھ ہی امریکا سے اپنے تعلقات خراب کرنا پڑے تھے۔
خیبر پختونخوا حکومت کا اس وقت افغانستان کی طالبان حکومت سے ہمدردی جتانا پاکستانی موقف کے سراسر خلاف ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ یہ ہمدردی کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں بھی ملک دشمنوں کے حق میں ہمارے کچھ رہنما بیان دیتے رہے ہیں، جن کی مثال مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت بعض پاکستانی رہنماؤں کے شیخ مجیب الرحمن کے حق میں بیانات سے دی جا سکتی ہے۔
آخر کیا ہوا کہ اس مجیب الرحمن نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کر دیا تھا، مگر اب 50 برس بعد بنگالیوں نے حسینہ واجد کو اقتدار سے ہٹا کر مجیب کی اولاد سے بنگلہ دیش کو پاک کر دیا ہے، کیونکہ اب وہ اصل حقیقت کو جان چکے ہیں کہ ان کا اصل دشمن کون ہے۔
لگتا ہے فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں ضرور نیا پاکستان نواز بنگلہ دیش جنم لینے والا ہے۔