گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کے بعد لاپتہ ہونے والوں میں میاں، بیوی اور نوعمر بیٹا بھی شامل
ایم اے جناح روڈ پر قائم گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کے بعد لاپتہ ہونے والے میں میاں ، بیوی او نوعمر بیٹا بھی شامل ہے جبکہ لاپتہ ہونے والوں میں سکھر کا شہری بھی شامل ہے ، گل پلازہ کی عمارت میں موجود ایک شخص کا اپنے پیاروں کو بھیجا گیا وائس میسج بھی سامنے آیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کے باعث ہونے تباہی کے بعد لاپتہ افراد کے حوالے سے بھی معلومات سامنے آرہی ہے اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ گلشن اقبال کی رہائشی فیملی بھی اس وقت گل پلازہ میں موجود تھی جب وہاں آگ بھڑک اٹھی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک شکل اختیار کرلی۔
متاثرہ فیملی میں عمر نبیل ، عائشہ سمیع اور ان کا نوعمر بیٹا علی بن عمر بھی ساتھ تھا جو کہ خریداری کی غرض سے گل پلازہ گئے تھے ، بتایا جاتا ہے کہ لاپتہ فیملی آنے والے بچے کی پیدائش سے قبل اس کے لیے کپڑے خریدنے آئی تھی اور اس خوفناک آگ کے نتیجے میں تاحال لاپتہ ہے۔
لاپتہ ابوبکر کے بیٹے نے بتایا کہ وہ ہفتے کی رات سے اس مقام پر موجود ہوں اور اب تک والد اور ان کے ملازمین کے حوالے سے کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد لاپتہ ہونے والے میٹروول رہائشی 24 سالہ عارف کے اہلخانہ نے بتایا کہ عارف کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے ۔رات جب اس سے فون پر بات ہوئی تو عارف نے بتایا کہ وہ مسجد کی جانب ہے جس کے بعد سے اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ، گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سوشل میڈیا پر جہانزیب نامی شہری کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ بتا رہا ہے کہ اس کے بہنوئی محمد اطہر سکھر سے گھر کی خریداری کرنے کے لیے گل پلازہ گئے تھے جو کہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔
اطہر نے ہفتے کی شام کو آخری بار گھر کی خواتین سے کال پر بات کی تھی اور انھوں نے اہلخانہ کو بتایا تھا کہ یہاں آگ لگی ہے کچھ دکھائی نہیں دے رہا میری اور دیگر افراد کی خیریت کے لئے دعا کریں ، اطہر 4 بچوں کا باپ ہے۔