آتشزدگی نہیں، ریاستی غفلت کا تسلسل

آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود کراچی فائر بریگیڈ شدید افرادی اور تکنیکی قلت کا شکار ہے۔

ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتہ کو رات گئے آگ بھڑک اٹھی جس پر کئی گھنٹوں تک قابو نہیں پایا جا سکا ، آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے زمین بوس ہوگئے جب کہ آخری حصے کے بھی گرنے کا امکان ہے، آگ لگنے سے فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے۔

 ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں رات گئے بھڑک اٹھنے والی آگ نے ایک بار پھر ہمیں اس تلخ حقیقت سے روبروکردیا ہے کہ ہمارے شہری نظام میں انسانی جان کی کوئی حقیقی قدر باقی نہیں رہی۔ یہ سانحہ محض ایک عمارت میں لگنے والی آگ کا نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی غفلت، ادارہ جاتی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور مجرمانہ بے حسی کی عکاسی کرتا ہے جو برسوں سے ہمارے شہروں کی رگوں میں زہر بن کر دوڑ رہی ہے۔ آگ کے نتیجے میں عمارت کے دو حصوں کا زمین بوس ہو جانا، تیسرے حصے کے گرنے کا خدشہ، فائر فائٹر سمیت چھ افراد کی ہلاکت اور درجنوںافراد کا زخمی ہونا کسی اچانک آسمانی آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی پیداوار ہے جو صرف کاغذوں میں موجود ہے اور عملی طور پر ناکام ہوچکا ہے۔

پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں آتشزدگی کے واقعات ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں ان واقعات کی نوعیت اور شدت دونوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، حیدرآباد، کوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں بلند و بالا عمارتوں میں لگنے والی آگ نے شہری زندگی کو مستقل خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ہمارے شہروں کی عمارتیں جدید شہری تقاضوں کے مطابق نہیں بلکہ وقتی مفادات، لالچ اور بدعنوانی کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہیں۔ ان عمارتوں میں نہ تو حفاظتی اصولوں کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی مستقبل کے خطرات کو مدنظر رکھا گیا، جس کا خمیازہ آج عام شہری اپنی جان کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔کراچی جیسے شہر میں، جہاں آبادی کا دباؤ، ٹریفک کا بے ہنگم نظام اور انفرا اسٹرکچر کی تباہ حالی پہلے ہی ایک بڑا چیلنج ہے، وہاں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ایک سنگین انتباہ ہے۔ شہر کے قدیم اور گنجان آباد علاقوں میں موجود تجارتی مراکز، بازار، گودام اورکثیر المنزلہ عمارتیں کسی بھی وقت ایک بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں۔

ان میں سے بیشتر عمارتوں کا کبھی باقاعدہ سیفٹی آڈٹ نہیں ہوا، نہ یہ معلوم ہے کہ ان میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات موجود ہیں یا نہیں۔ تنگ گلیاں، تجاوزات، غیر قانونی پارکنگ اور ناقص سڑکیں ہنگامی حالات میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی رسائی کو تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتی وقت ضایع ہوتا ہے اور نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ شہر کے پرانے علاقوں میں قائم گودام، پیداواری یونٹس، ریلوے لائنوں اور ہائی ٹینشن لائنوں کے ساتھ موجود بستیاں، سڑکوں اور ہائی ویز کے کنارے بنی جھونپڑیاں، خطرناک کیمیکلز سے بھرے گودام، پیٹرولیم تنصیبات، آئل ڈپو، بجلی گھر اور کچرا کنڈیاں ایسے مقامات ہیں جہاں لوگ ایک منظم مگر انتہائی غیر محفوظ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان مقامات پر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں اور کسی حادثے کی صورت میں نقصان کا دائرہ بہت وسیع ہوسکتا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ مزدوروں کو فٹ پاتھوں، ٹریفک آئی لینڈز، دکانوں کے سامنے، پارکوں میں اور پلوں کے نیچے سوتے دیکھنا ہمارے سماجی زوال کی واضح تصویر ہے۔ یہ لوگ نہ صرف معاشی استحصال کا شکار ہیں بلکہ کسی بھی آتشزدگی یا حادثے میں سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں، مگر ان کی حفاظت کے لیے کوئی سنجیدہ منصوبہ موجود نہیں۔

آتشزدگی کے واقعات کی وجوہات میں آتش گیر مواد کو غیر محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنا، ناقص برقی نظام، گیس لیکیج، اوور لوڈنگ اور حفاظتی اصولوں سے لاعلمی شامل ہیں، مگر ان سب کے پیچھے اصل وجہ نگرانی اور احتساب کا فقدان ہے۔ کمرشل عمارتوں میں بجلی اور پلمبنگ کے نقائص کو شاذ و نادر ہی درست کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ خرابیاں مزید بگڑتی چلی جاتی ہیں، مگر مالکان اور انتظامیہ کو صرف منافع سے غرض ہوتی ہے۔ لیکیج، برقی تاروں میں اسپارک اور خستہ حال نالیوں کے باوجود ملازمین کو کام جاری رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کئی عمارتوں میں ضرورت کے مطابق بجلی کے کنکشن تک نہیں لیے جاتے، جس کے نتیجے میں شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

اسی طرح عمارتوں کی اندرونی بناوٹ بھی محفوظ انخلا کو یقینی نہیں بناتی۔ اخراج کے لیے محدود راستے، بند دروازے اور تنگ سیڑھیاں نہ صرف بھگدڑ کا سبب بنتی ہیں بلکہ لوگوں کے پھنس جانے کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہیں۔ مناسب ہوا کا گزر نہ ہونے کی وجہ سے آگ سے بچ نکلنے والے افراد بھی دم گھٹنے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ سب مسائل کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ برسوں کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہیں۔کراچی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آتشزدگی کے کئی واقعات محض حادثات نہیں تھے بلکہ بعد میں تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔

بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں پیش آنے والا المناک سانحہ آج بھی ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک گہرے زخم کی مانند ہے۔ درجنوں مزدوروں کا زندہ جل جانا، فیکٹری کے دروازوں کا بند ہونا اور ذمے داروں کا برسوں تک قانون کی گرفت سے باہر رہنا اس امر کی واضح مثال ہے کہ ہمارے ہاں طاقتور طبقات کس طرح قانون کو پامال کرتے ہیں اور انسانی جانوں کو بے وقعت سمجھتے ہیں۔ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے یا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کمزور سمجھتے ہیں یا انھیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اثر و رسوخ کے ذریعے بچ نکلیں گے، اور بدقسمتی سے اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔

آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود کراچی فائر بریگیڈ شدید افرادی اور تکنیکی قلت کا شکار ہے۔ منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں سیکڑوں آسامیاں خالی پڑی ہیں، جس کے باعث موجودہ عملہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ فائر فائٹرز محدود وسائل کے ساتھ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتے ہیں، مگر ان کی تعداد، تربیت اور آلات شہر کے حجم اور آبادی کے تناسب سے انتہائی ناکافی ہیں۔

سال 2025 کے دوران کراچی میں آتشزدگی کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ ہر عدد کے پیچھے ایک انسانی کہانی، ایک ٹوٹا ہوا خاندان اور ایک اجڑا ہوا مستقبل چھپا ہوا ہے۔کراچی میں ڈسٹرکٹ گورنمنٹس، فائر بریگیڈ اور بلدیاتی ادارے موجود ہیں، جن کے پاس ہزاروں افسران اور ملازمین تعینات ہیں۔ یہ سب عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں، مگر جب عملی امتحان کا وقت آتا ہے تو ان کی کارکردگی مایوس کن حد تک ناکام نظر آتی ہے۔

فائلوں میں منصوبے، اجلاسوں میں تقاریر اور کاغذوں میں پالیسیاں تو بہت ہیں، مگر زمین پر ان کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر یہ ادارے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہیں تو ان کے وجود کا مقصد کیا ہے۔موجودہ عمارتوں کی جامع جانچ پڑتال کے ذریعے ناقص تعمیرات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے تاکہ بروقت مرمت اور اصلاح ممکن ہو۔ اس مقصد کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر انھیں ہنگامی بنیادوں پر متحرک کرنا ہوگا۔ اس عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت ناگزیر ہے۔ تجارتی و کاروباری انجمنیں، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں، بلڈنگ کنٹرول کے ادارے، مزدور یونینز، جامعات اور میڈیا اگر مل کر کام کریں تو ایک مؤثر حفاظتی نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

حفاظتی اقدامات اختیار کرنا کسی سانحے کے بعد اظہارِ افسوس کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مارکیٹوں کی انتظامی کمیٹیوں، دکانداروں کی انجمنوں اور مقامی تنظیموں کو آگ لگنے اور دیگر حادثات سے بچاؤ کے اقدامات میں عملی مدد فراہم کرے۔ مشترکہ سروے، آتش گیر مادوں کی خرید و فروخت اور ذخیرہ کرنے کی جگہوں کی نشاندہی، اور رضاکاروں کو بنیادی ریسکیو تربیت دینا ایسے اقدامات ہیں جن سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گل پلازہ کا سانحہ ایک وارننگ ہے، ایک آخری انتباہ کہ اگر ہم نے اب بھی اپنے شہری نظام، بلدیاتی ڈھانچے اور ادارہ جاتی طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلیاں نہ کیں تو ایسے سانحات ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ جمہوری بصیرت، عملی قوت اور اجتماعی ذمے داری ہی ہمیں ان بار بار دہرانے والے المیوں سے بچا سکتی ہے، ورنہ ہم ہر بار چند دن سوگ منا کر اگلے حادثے کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے، اور انسانی جان یوں ہی سستی ہوتی چلی جائے گی۔

Load Next Story