سگ گزیدگی، آفریدی ایڈونچر

آوارہ کتے بچوں پر زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ بچے انھیں دیکھ کر بھاگتے ہیں اور بھاگتے ہوئے افراد پر کتے بری طرح حملہ کرتے ہیں۔

کراچی ان دنوں ’’سگ گزیدگی‘‘ یعنی کتے کے کاٹنے کی وبا میں مبتلا ہے کراچی میں جہاں بہت سے اور مسائل ہیں وہیں آوارہ کتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہے، اگر یہ اضافہ صرف تعداد میں ہو تو رات کی نیند کی خرابی کے علاوہ کوئی فکر کی بات نہ ہو مگر کتے کاٹتے بھی ہیں۔ 2025 میں بھی سگ گزیدگی کے واقعات ایک ہزار سے متجاوز ہو گئے تھے مگر اب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ 2026 کی ابتدا ہوئی ہے کتے کے کاٹے لوگوں کی تعداد دس دن میں ہی ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ یہ بڑا غیر معمولی اضافہ ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق 2026 کے ابتدائی چند دنوں میں سگ گزیدگی کے واقعات کی تفصیل درج ذیل ہے:

انڈس اسپتال30 افراد، جناح اسپتال 180 افراد، سول اسپتال305افراد، قطر اسپتال149 افراد، سندھ گورنمنٹ کورنگی06 افراد، سندھ گورنمنٹ نیو کراچی 57 افراد، سندھ گورنمنٹ لیاقت آباد 128 افراد۔ مجموعی طور پر 2026 کے ابتدائی دس دنوں میں سگ گزیدگی کے یہ واقعات ہزار سے متجاوز ہو چکے ہیں۔

آوارہ کتے بچوں پر زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ بچے انھیں دیکھ کر بھاگتے ہیں اور بھاگتے ہوئے افراد پر کتے بری طرح حملہ کرتے ہیں۔ سگ گزیدگی کے واقعات میں ہونے والی یہ غیر معمولی زیادتی فوری توجہ کی محتاج ہے کیونکہ کتے کے کاٹے سے معاملہ صرف زخم آنے کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مرض ’’ریبیز‘‘ کا ہوتا ہے جو ایک جان لیوا مرض ہوتا ہے۔ اس مرض کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، گھبراہٹ، ذہنی حالت میں تبدیلی اور پانی سے خوف (Hydro Phobia) کے مرض پیدا ہوتے ہیں۔

اگر کتے کے کاٹے کا فوری علاج نہ کرایا جائے اور مذکورہ علامات پیدا ہو جائیں تو مرض قابو سے باہر ہو جاتا ہے اور موت کا باعث ہوتا ہے۔ اس مرض سے بچاؤ کے انجکشن بھی خاصے قیمتی اور تکلیف دہ ہوتے ہیں اور پیٹ میں لگائے جاتے ہیں، اس لیے ڈاکٹروں کی ہدایت یہ ہے کہ کتا کاٹ لے تو زخم کو صاف، سادہ پانی سے نتھار کر دھونا چاہیے اور بچاؤ کے ٹیکے لگوا لینا چاہیے۔

پچھلے سال اس مرض کے باعث 20 سے زائد اموات واقع ہوئی تھیں۔ میونسپل ادارے کتوں کو پکڑ کر کتا گاڑی کے ذریعے شہر سے باہر لے جا کر چھوڑ آتے ہیں مگر کتے بڑے راستہ شناس ہوتے ہیں وہ میلوں دور سے بھی چل پھر کر اسی جگہ آ جاتے ہیں جہاں سے پکڑے گئے تھے۔ اسی لیے زہر خورانی کے ذریعے ان کتوں کو ہلاک کرنا بھی ایک اقدام تھا مگر حیوانات پر رحم کے اداروں کے مطالبات پر یہ طریقہ اب شاذ ہے۔ لیکن انسانی جانوں کو ’’خوں خوار‘‘ جانوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کے بجائے ان ’’خوں خواروں‘‘ سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔

٭…٭…٭

آفریدی ایڈونچر

پختونخوا کے وزیر اعلیٰ جناب سہیل آفریدی نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنے صوبے میں سیاسی اور انتظامی معاملات کو نمٹانے کے بجائے پی ٹی آئی کے بانی کی رہائی کی مہم شروع کی اور اس کے لیے اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرنا ضروری سمجھا۔اس میں کوئی ایسا حرج بھی نہ تھا۔ بانی پی ٹی آئی قومی رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور ان کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کا ملک گیر ہونا قدرتی بات ہے۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ آفریدی صاحب اپنی حلف برداری کے بعد صوبے کی باگ ڈور سنبھال کے وہاں کی انتظامی و سیاسی امور سے شناسائی کی کوشش کرتے اور پھر بانی کی رہائی کی جدوجہد کی ابتدا اپنے صوبے سے کرتے۔ مگر انھوں نے اس منصوبے کو ایک ایڈونچر کی شکل دے دی اور حلف برداری کے بعد ہی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا رخ کیا۔ اہل پنجاب نے شاید ان کے استقبال میں مناسب گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا۔ مناسب گرم جوشی سے مراد یہ تھی کہ ان کا سرکاری طور پر وہ استقبال نہیں کیا گیا جس کی وہ توقع کر رہے تھے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں جائے تو وہاں اس کا والہانہ استقبال ہو۔

والہانہ استقبال سے ان کی مراد جو بھی رہی ہو انھیں پنجاب حکومت کے رویے میں سرد مہری نظر آئی۔ بات یہ بھی ہے کہ صوبہ پنجاب نے مریم نواز کی سرکردگی میں قابل تعریف ترقی کی ہے اور انھوں نے پنجاب کو جدید عہد کے ترقی یافتہ معاشروں کے ہم پلہ بنا دیا ہے۔ اب اہل پنجاب بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ دوسرے صوبے بھی انھی کی طرح اپنے اپنے صوبوں کو ترقی دیں۔ لیکن آفریدی صاحب بجائے ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کیپارٹی بانی کی مقبولیت کی مہم پر نکل کھڑے ہوئے۔ ظاہر ہے پنجاب میں بانی تحریک انصاف کو فی الوقت وہ مقبولیت حاصل نہیں رہی جو انھیں چند سال قبل میسر تھی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پنجاب حکومت نے ’’مہمان نوازی‘‘ کے آداب میں کمی کی ہو جو آفریدی صاحب کی توقع کے خلاف رہی۔

وہ پنجاب سے مایوس ہو کر سندھ تشریف لائے۔ حکومت سندھ نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا، اجرک اور سندھی ٹوپی پہنا کر اپنی روایتی مہمان نوازی کا اظہار کیا اور انھیں ’’باغ قائد‘‘ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی۔ مگر یہاں بھی آفریدی صاحب عوام کو اکٹھا نہ کر سکے اور جلسہ گاہ ویران سی رہی ۔ نتیجتاً انھوں نے مزار قائد کے پاس جلسہ کرنے کی کوشش کی جس کی انھیں اجازت نہ تھی اور یوں ان کے مٹھی بھر کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہو گئی جس میں متعدد لوگ زخمی ہوئے اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔

اب آفریدی کو دونوں صوبوں سے شکوہ ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ ان کو حکومت پنجاب کا رویہ یاد رہے گا جس کا انھیں سخت افسوس ہے۔ ہو سکتا ہے حکومت سندھ کو ان سے شکوہ رہے کہ ہم نے تمام سہولتیں فراہم کیں پھر بھی معزز مہمان کے رویے نے یہ صورت حال پیدا کر دی کہ پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ پولیس کے کارکن بھی زخمی ہوئے اور پی ٹی آئی کے کارکن بھی۔

یہ موقع تدبر کے اظہار کا تھا نہ کہ جذباتی ابال کے مظاہرے کا۔ سیاست دانوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

Load Next Story