پاکستان کے لیے مضبوط اورسستاریلوے نظام ضروری
پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق دوقومی پالیسیاں موجودہیں،مگر دونوں ہی عام آدمی کی ضروریات کو نظراندازکرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک پالیسی 2018 میں پلاننگ کمیشن نے تیارکی، جبکہ دوسری 2020 میں وزارتِ مواصلات نے جاری کی۔
دونوں پالیسیوں میں ورلڈکلاس اوربہترین ٹیکنالوجی جیسے الفاظ تو شامل ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ ملک کی اکثریتی،کم آمدن والی آبادی ان سے کس طرح مستفید ہو گی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی میں بنیادی عوامل جیسے آبادی کی تقسیم،آمدنی کی سطح، جغرافیہ اور شہری کثافت کوخاطر میں نہیں لایاگیا۔
نتیجتاً ایک ایساغیرمربوط اور غیر مؤثر نظام وجودمیں آگیاہے جو صرف ایک محدودطبقے کوفائدہ پہنچاتاہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اربوں روپے کی لاگت سے وسیع موٹرویزاور شاہراہیں تعمیرکی گئیں،مگر ملک کی نصف سے زیادہ آبادی سالانہ ایک ہزارڈالرسے بھی کم آمدنی پرگزاراکرتی ہے۔
ایسے میں کارخریدنااکثریت کیلیے ممکن نہیں،جبکہ بسوں کے ذریعے سفر مہنگااور توانائی کے لحاظ سے غیر مؤثر ثابت ہو رہاہے۔ اس کے برعکس ریل کانظام توانائی، لاگت اور ماحولیات کے لحاظ سے کہیں زیادہ فائدہ مندہے۔
ریل کے ذریعے فی ٹن کلومیٹر فریٹ کی ترسیل سڑک کے مقابلے میں ایک تہائی توانائی استعمال کرتی اورگرین ہاؤس گیسوں کااخراج بھی نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔
اسی طرح مسافر ٹرینیں، خاص طور پر برقی نظام،کم لاگت اورزیادہ استعدادرکھتی ہیں بشرطیکہ وہ زیادہ گنجائش کے ساتھ چلیں، پاکستان کاجغرافیہ بھی ریل کے حق میں ہے،کراچی سے پشاور تک آبادی اورصنعتی سرگرمیوں کابڑاحصہ دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے،جو قدرتی ہائی ڈینسٹی ریل کوریڈور بناتاہے،اس کے باوجودریل کے بجائے سڑکوں پر انحصار بڑھایا گیا۔
ماہرین کاکہناہے کہ ایک دانشمندانہ ٹرانسپورٹ پالیسی میں شہروں کے اندر ماس ٹرانزٹ سسٹمزکوترجیح دیناچاہیے،جن میں ریل،میٹرو،ٹرام اور بسوں کامربوط نظام شامل ہو۔ بین الاضلاعی سطح پر بھی مسافروں اور مال برداری کیلیے ریل کوبنیادی ذریعہ بنایا جانا چاہیے،جبکہ سڑکوں کااستعمال زیادہ ترفارم ٹو مارکیٹ یا فارم ٹوریل رابطوں تک محدود ہوناچاہیے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان نے جو سڑکیں تعمیرکی ہیں وہ بالآخر چھوٹے طبقے کی خدمت کرتی ہیں، وقت آگیا ہے کہ پالیسی سازی میں اکثریتی کم آمدن والے عوام کی ضروریات کوترجیح دی جائے، ریل کامضبوط اورمؤثر نظام نہ صرف سستااور پائیدارہے، بلکہ یہی پاکستان کے مستقبل کیلیے موزوں راستہ بھی ہے۔