کے الیکٹرک کی ادائیگیاں نہ ہونے سے سرکلر ڈیٹ بڑھا، اویس لغاری
فوٹو: فائل
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے-الیکٹر نے بجلی کی ادائیگیاں بروقت نہیں کی جس کی وجہ سے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہوا۔
30 نومبر 2025 تک 300 ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ 5 سال میں 600 ارب روپے سے زیادہ سبسڈی لی، حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے اور پہلی بار میرٹ پر فیصلے کرتے ہوئے مستقبل کے 8000 میگاواٹ کے مہنگے منصوبے ختم کیے گئے ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کو 17 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کا تخمینہ ہے،8700میگا واٹ سرپلس بجلی موجود ہے لیکن ٹیک اینڈ پے کے کنٹریکٹس پر نظرثانی نہ کرنے کی بات درست نہیں، بجلی ترسیل کی نقصانات حکومت برداشت کرتی ہے۔
ریکوریز کی شرح ایک سال میں 96.6 فیصد تک پہنچائی ہے، 5-6 سالوں میں قرض کی ادائیگی مکمل ہو جائے گی، حالیہ لوڈشیڈنگ کی متعدد وجوہات ہیں دھند سے لائنیں ٹرپ کیں۔
وفاقی وزیر نے کہا نیپرا کی سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ اگست 2025 میں جاری ہونا چاہیے تھی تاہم ناکافی اعداد و شمار کی وجہ سے اس رپورٹ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، ڈیٹ سروس سرچارج کے-الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز پر سرکلر ڈیٹ بڑھنے کی ذمہ داری کے باعث عائد کیا گیا۔