کراچی میں ہونے والے آتشزدگی کے ہلاکت خیز واقعات پر ایک نظر!
فوٹو: ایکسپریس نیوز
شہر قائد کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور تجارتی مرکز گل پلازہ میں 2 روز قبل لگنے والی آگ انتہائی تباہ کن ثابت ہوئی جبکہ گزشتہ دس سالوں کے دوران آسے آتشزدگی کا خوفناک ترین واقعہ قرار دیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہفتے کو رات 10 سے ساڑھے 10 بجے کے قریب گل سینٹر کے گراؤنڈ فلور پر واقع گھریلو سجاوٹ کی دکان میں لگنے والی آگ کے شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ کے شعلے کچھ ہی دیر میں دوسری، تیسری اور چوتھی منزل تک پہنچے جس کو مسلسل جدوجہد کے بعد 35 گھنٹوں کے بعد قابو پایا گیا۔ ابتدائی طور پر 7 اموات جبکہ 18 زخمی ہوئے تھے جن میں سے 7 کی حالت تشویشناک تھی۔
تاہم آج آگ بجھنے کے بعد رضاکار جب عمارت میں داخل ہوئے تو ملبے سے سوختہ لاشیں و انسانی اعضا برآمد ہوئے، جن کی تعداد 26 تک ہوگئی ہے جبکہ 70 سے زائد افراد لاپتہ بھی ہیں جن کے اہل خانہ شدت غم سے نڈھال ہیں۔
25 دسمبر 2023 کو کریم آباد میں واقع عرشی شاپنگ مال میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساتھ میں موجود رہائشی عمارت کو لپیٹ میں لے لیا تھا، جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ تمام دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں تھیں۔
اس سے قبل 25 نومبر 2023 کو آر جے شاپنگ مال کے چوتھے فلور پر لگنے والی آگ سے 11 افراد جاں بحق جبکہ 35 زخمی ہوئے تھے۔
اپریل 2023 میں نیوکراچی کے صنعتی ایریا کی فیکٹری میں لگنے والی آگ فائر فائٹرز کیلیے تباہ کن ثابت ہوئی، امدادی کاموں کے دوران عمارت گرنے سے چار فائر فائٹرز جاں بحق ہوئے تھے۔
سنہ 2021 میں گورنگی کے تھانہ مہران ٹاؤن میں واقع ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 16 ملازمین جاں بحق ہوئے تھے۔
اس کے بعد صدر میں واقع مشہور کوآپریٹیو مارکیٹ اور وکٹوریہ سینٹر میں خوفناک آتشزدگی ہوئی جس نے پوری مارکیٹ کو لیپٹ میں لیا اور تمام دکانیں جل کر راکھ ہوگئیں تھیں۔
سنہ 2015 میں ریجنٹ پلازہ میں لگنے والی آگ سے 11 افراد ہلاک جبکہ 75 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اس سے قبل کراچی کی تاریخ کا سب سے خطرناک واقعہ 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں پیش آیا، جس میں آتشزدگی کے نتیجے میں 289 ملازمین (لیبر) بشمول خواتین جاں بحق ہوئے۔
اس واقعے کا الزام ایم کیو ایم پاکستان پر عائد کیا جاتا رہا ہے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی گئی ہے۔
اس سے قبل 23 جنوری 2008 کو سائٹ ایریا میں رنگ (پینٹ) بنانے والی غیر ملکی کمپنی میں آتشزدگی ہوئی جس میں 7 افراد زخمی ہوئے جبکہ 15 جنوری 2007 کو سائٹ ایریا میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 5 ریسکیو رضاکار جاں بحق ہوئے تھے۔
2024 میں ہونے والا فائر سیفٹی آڈٹ اچانک کیوں بند ہوا؟
سندھ حکومت نے آر جے شاپنگ مال میں آتشزدگی کے بعد تین اہم شاہراہوں، شاہراہ فیصل، آئی آئی چند ریگر روڈ اور شاہراہ قائدین پر قائم 266 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا جبکہ اس کے دائرے کو شہر بھر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔
آڈٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ 266 میں سے صرف 6 عمارتیں ہی فائر سیفٹی کے معیار پر پورا اتر سکیں جبکہ 62 فیصد میں ہنگامی اخراج کا راستہ اور 70 فیصد میں فائر الارم نہیں ہے۔
ان عمارتوں کے آڈٹ کے بعد سلسلے کو ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر پھر سے روک دیا گیا تھا۔ اب گل پلازہ میں پیش آنے کے سانحے کے بعد سندھ حکومت نے ایک بار پھر فائر سیفٹی آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کیلیے آگ بجھانے کے کیا اقدامات ہیں؟
محکمہ فائر بریگیڈ کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ شہر میں آگ بجھانے کیلیے 43 فائر ٹینڈر، 8 اسنارکلز، دو باؤزر جبکہ ایک ریسکیو یونٹ اور ایک فوم یونٹ موجود ہے۔
مناسب آلات نہ ہونے کی وجہ سے نقصانات
محکمہ فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات اور رضاکاروں کی جدید تربیت نہ ہونے کی وجہ سے آتشزدگی کے واقعات میں بڑے نقصانات ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک سب سے بڑا مسئلہ پانی کی فراہمی کا ہوتا ہے، جس میں تاخیر کی وجہ سے بڑے نقصانات ہوتے ہیں۔
آتشزدگی کے بڑے واقعات پر نیوی، فوج اور دیگر اداروں کا تعاون
شہر میں ہونے والے آتشزدگی کے بڑے واقعات کے بعد صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج، نیوی اور دیگر اداروں سے بھی انتظامیہ تعاون طلب کرتی ہے۔
گل پلازہ کے حالیہ واقعے کے بعد بھی نیوی کے اہلکار اور گاڑیاں جبکہ پاک فوج کے جوان، رینجرز کے جوانوں نے بھی امدادی کاموں میں حصہ لیا ہے۔