سانحۂ گل پلازہ پھر ایک زخم دے گیا
فوٹو: ایکسپریس نیوز
کہا جاتا ہے کہ لاعلمی سب سے بڑا خوف ہوتی ہے اور ہم سب لاعلمی کے خوف میں مبتلا ہیں۔ صاحبِ منصب و مقتدر حلقے اب بھی حقائق و قانونی ضروریات کا ادراک نہیں کریں گے تو اس طرح کے نقصانات کا کبھی ازالہ نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان میں سیفٹی کا قانون سول ڈیفنس اسپیشل پاور رولز 1951 میں نافذ ہوا۔ اس کے بعد سول ڈیفنس لیجسلیشن کا نفاذ 1952 میں ہوا۔ بلڈنگ کی سیفٹی کا قانون 2016 بلڈنگ کوڈ آف پاکستان کا نفاذ ہوا۔ یہ ایک گزیٹڈ document ہے (بیشتر ذمے داران اس سے واقف ہی نہیں) لیکن بتدریج ہم نے مفادات کےلیے سول ڈیفنس کے ادارے کو تباہ کیا۔
2005 میں NDMA بنا کر غیر تربیت یافتہ بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں سیفٹی اور بہبود کا اربوں روپیہ دے کر انہیں مسلط کیا جبکہ سول ڈیفنس کو بجٹ اور افرادی قوت دے کر مستحکم کیا جا سکتا تھا۔
قابلِ ذکر اور غور طلب بات یہ ہے کہ این ڈی ایم اے ، پی ڈی ایم اے، یا ریسکیو 1122 جیسے ادارے حادثات ہوجانے کے بعد کام کرتے ہیں، جبکہ سول ڈیفنس کا ادارہ حادثات سے بچاؤ اور انہیں وقوع پذیر ہونے سے روکنے کے ساتھ حادثات کے دوران ان کے خاتمے اور بعد میں نقصانات کے اثرات دور کرنے اور بہبود کےلیے بھی کام کرتا ہے۔ یہ اس ادارے کا انتظامی اور قانونی اسٹرکچر ہے۔
سول ڈیفنس واحد آرگنائزیشن ہے جو پاکستان میں منظم تربیت فراہم کرتی ہے۔ فائر فائٹنگ، ریسکیو، ڈیزاسٹر رسک پلاننگ، casualty، بم ڈسپوزل سمیت پاکستان میں تمام تر ٹریننگز کی اتھارٹی سول ڈیفنس ہے۔ سیفٹی رولز اور lagislation بھی سول ڈیفنس کا ہی ہے، لیکن افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ بتدریج سول ڈیفنس سے فائر سروس ختم کی گئی۔ اب اداروں کے پاس یہ سروس ہے مثلاً بلدیہ کراچی، کے پی ٹی، اسٹیل ملز، پی آئی اے وغیرہ۔
ریسکیو سروس سول ڈیفنس سے پی ڈبلیو ڈی کو دی گئی تھی جو پھر غیر فعال ہوگئی تھی۔ بم ڈسپوزل کو پولیس کے حوالے کیا گیا اور اس طرح ایک قانونی ادارے سول ڈیفنس کو دانستہ غیر فعال کیا گیا۔
پاکستان کے چاروں صوبوں میں سول ڈیفنس کے ٹریننگ اسکول موجود ہیں، اکیڈمیز ہیں، اسلام آباد میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فائر ٹیکنالوجی موجود ہے، جہاں دیگر ممالک سے لوگ تربیت لینے آتے ہیں۔ لیکن سندھ میں سول ڈیفنس کو تباہ اور نظر انداز کردیا گیا ہے۔ سندھ کے تمام اضلاع میں سول ڈیفنس کی کل آسامیاں تین سو آٹھ ہیں، یعنی تقریباً دو فائر اسٹیشنز کے اسٹاف کے برابر۔ لیکن اس کے برعکس فی الوقت پورے سندہ میں صرف 80 کے قریب لوگ اس ادارے میں موجود ہیں، جن میں چپراسی، چوکیدار، ڈرائیورز وغیرہ بھی شامل ہیں اور ان میں سے بھی بیشتر اس حالت میں ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں کہ 39 سال کی ملازمت میں بھی انہیں کبھی کوئی پروموشن نہیں دیا گیا اور ان کےلیے کوئی ڈی پی سی نہیں بٹھائی گئی۔ جو پانچ گریڈ میں آئے تھے وہ اسی گریڈ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔
2018 میں بارہ افسران پبلک سروس کمیشن سے ملازمت پر رکھے گئے جو کہ ڈپٹی کنٹرولر کی ٹیکنیکل پوسٹ پر تعینات ہوئے اور تمام غیر تربیت یافتہ تھے۔ سندھ کے بیشتر اضلاع میں اسٹاف تو درکنار افسران بھی نہیں ہیں۔
اس ادارے کے پاس سندھ میں، خاص کر کراچی میں کوئی اپنا آفس نہیں ہے، گاڑیاں نہیں ہیں، لینڈ لائین فون نہیں ہیں، سامان ایک فیصد نہیں ہے، تنخواہوں کے علاؤہ ایسا کوئی بجٹ نہیں ہے جس سے سول ڈیفنس کی سروسز بحال کی جاسکیں۔ قانون کے مطابق بلدیہ اپنی آمدن اور کل بجٹ کا پانچ فیصد محکمۂ سول ڈیفنس کو دینے کا پابند ہے لیکن شاید اس قانون کا علم مئیر کراچی کو خود نہ ہو۔ اس کے برعکس چار ماہ کے تربیت یافتہ ورکرز اور کروڑوں اربوں روپے کے بجٹ سے کراچی میں ریسکیو 1122 قائم کیا گیا ہے، لیکن تربیت یافتہ اور تجربے کار فعال ادارے سول ڈیفنس کو مزید غیر فعال کردیا گیا ہے۔
پھر باور کرا دوں کہ پاکستان میں سیفٹی رولز، قانون سول ڈیفنس کا ہی ہے اور باقی ادارے مختلف آرڈیننس یا انتظامی احکامات کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔
ضلع کا ڈپٹی کمشنر قانونی طور سے سول ڈیفنس کا کنٹرولر ہوتا ہے اور میں اپنے تجربے کی بنیاد پر سمجھتا ہوں کہ بیشتر ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز سول ڈیفنس اسپیشل پاور رولز، سول ڈیفنس lagislation, اور building code of Pakistan 2016 سے نابلد ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اس ادارے کی بحالی کےلیے خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر پاتے۔
سول ڈیفنس کے پاس رضاکاروں کی بھی ایک فورس ہوتی ہے، جو کسی بھی ایمرجنسی میں اپنی تربیت کی بنیاد پر ریلیف ایجنسیوں کی معاونت کرتے ہیں۔ سندہ میں بھی ہزاروں رضاکار موجود ہیں لیکن ادارے کو رضاکاروں (وارڈن سروس) کےلیے ایک دھیلے کا بجٹ نہیں دیا جاتا، حتیٰ کہ موومنٹ کےلیے لاجسٹکس کی سہولت بھی نہیں ہے۔ اس کے برعکس پنجاب میں رضاکاروں کو ماہانہ مشاہیرہ اور دیگر سہولیات دی جاتی ہیں۔ سندھ سول ڈیفنس کا بجٹ زیرو ہے جبکہ پنجاب میں اربوں روپے ہے، سہولیات ہیں، اپنے دفاتر، گاڑیاں، ساز و سامان ہے۔ سندھ میں ادارے کا اپنا ڈائریکٹر تک نہیں بلکہ وقتی پوسٹنگ کرکے کسی افسر کو سول سروس سے تعینات کردیا جاتا ہے۔
سندھ اور کراچی میں سائرن سسٹم بھی اب موجود نہیں۔ مئی 2025 کی جنگ کے موقع پر سائرن سسٹم کی بحالی کےلیے بمشکل بیس لاکھ روپے جاری ہوئے، جن سے صرف پندرہ سائرن خریدے جا سکے جبکہ صرف کراچی میں تین سو سے ساڑھے تین سو سائرن اور ایک جدید سسٹم کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مئی 2025 جنگ کے موقع پر پنجاب سول ڈیفنس کےلیے پچاس کروڑ روپے جاری ہوئے تھے۔
ان تمام حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ جب تک حکومت سنجیدہ ہوکر ملک اور عوام کے مفاد کےلیے سول ڈیفنس کے تربیت یافتہ، محرک اور تجربے کار افراد سے تجاویز و معاونت حاصل کرکے ادارے کو وسعت دیتے ہوئے فعال نہیں بنائے گی، یہ منتشر نئی نویلی آدھی ادھوری ریلیف ایجنسیاں شہر اور صوبے کو آفات سے نہیں بچا سکتیں۔
اس شہر کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان، کنٹی جنسی پلان، ڈیفنس سیکیورٹی/ سیفٹی پلان اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قانون کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری صورت میں خدانخواستہ حادثات بھی ہوتے رہیں گے اور نقصانات بھی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلانن، کنٹی جنسی پلان ،ڈیفنس سیفٹی پلان اور کمانڈ اینڈ کنٹرول پلان بنانے والے افراد ہی دستیاب نہیں ہیں اور اگر ہیں تو ان سے مستفید ہونے والا کوئی نہیں ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔