ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے جامعہ کراچی کی اراضی پر قائم کیے جانے والے پمپ کا این او سی منسوخ کردیا

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے غیر قانونی پمپ کی تعمیر کے حوالے سے ضلع شرقی کے کمشنر کو خط لکھا تھا

(فوٹو: فائل)

ڈپٹی کمشنر شرقی نے جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والے غیر قانونی پیٹرول پمپ کا این او سی منسوخ کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے اپنی زمین کو بچانے کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ(شرقی) نے جامعہ کراچی کی اراضی پر بننے والے غیر قانونی پیٹرول پمپ کی این او سی منسوخ کردی ہے اور اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ایسٹ کے دفتر سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دستخط سے باقاعدہ ایک خط بھی جاری کردیا گیا ہے۔

جس کے مطابق یہ این او سی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے خط اور مختیار کار کی رپورٹ کے ضمن میں منسوخ کی گئی ہے۔

این او سی کی منسوخی کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکٹر 22 اسکیم 33 تعلقہ گلشن اقبال ڈسٹرکٹ ایسٹ حافظ پیٹرول پمپ کی این او سی جو اس سے قبل جاری ہوئی تھی اب منسوخ کردی گئی ہے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی جانب سے پیٹرول پمپ کی این او سی منسوخ کیے جانے کی تصدیق کردی ہے۔

یاد ریے کہ اس سے قبل جامعہ کراچی نے اپنی زمین پر بننے والے اس پیٹرول پمپ کی تعمیر رکوانے کے لیے حکومت سندھ کے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے ایک خط کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔

جس کے بعد محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے اس سلسلے میں خط ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو لکھا تھا محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ(شرقی) کو خط لکھ کر 
فوری طور پر انتظامی و قانونی کارروائی کرنے کی سفارش کی تھی  19 جنوری کو لکھے گئے۔

خط میں جامعہ کراچی کے اراضی پر ختم نبوت چوک کنیز فاطمہ سوسائٹی کے نزدیک حال ہی میں قائم کیے گئے پیٹرول پمپ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ساتھ ساتھ مزید ایک پیٹرول پمپ کا تذکرہ بھی کیا گیا تھا۔

جو یونیورسٹی روڈ پر شیخ زید اسلامک سینٹر گیٹ نمبر 2 پر موجود ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی اراضی بچانے کے لیے ان دونوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس حوالے سے پہلے سے جاری تحقیقات کو بھی مکمل کیا جائے۔

متعلقہ

Load Next Story