ہندوستانی پروپیگنڈہ اور بالی ووڈ فلمیں

بالی ووڈ لگاتار خطے کے ممالک بالخصوص پاکستان کے خلاف زہریلے مواد پر مبنی فلمیں بنا رہا ہے

پروپیگنڈہ ویسے تو انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ عام بول چال میں اس لفظ کے معنی دروغ گوئی، ترغیب و تحریص، یا غلط افواہ کا پھیلانا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اکثر اوقات سیاسی جماعتیں یا حکومتیں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے اپنے فوری اور ذاتی مفاد کے پیش نظر غلط روایات یا واقعات کا چرچا کرکے اپنی مطلب برآری کر لیتی ہیں۔

اس میں مثال کے طور پر جرمنی کے سابق ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کے پروپیگنڈے کے وزیر جوزف گوئبلز کا بیان پیش کیا جاسکتا ہے کہ جس نے کہا تھا کہ ’’جھوٹ کو اگر بہت کثرت سے دہرائیں تو وہ سچ بن جاتا ہے‘‘۔ اگر گوئبلز کا ہندوستانی متبادل کسی کو کہا جاسکتا ہے تو وہ جے پی دتہ ہے۔ آگے ہم اس کا اور پروپیگنڈہ فلموں کا ذکر تفصیل سے کریں گے۔

یہ لازم نہیں ہے کہ پروپیگنڈے کی بنیاد جھوٹ پر ہی ہو۔ پروپیگنڈہ سچا بھی ہوتا ہے اور عوام کے فائدے کا باعث بھی ہوتا ہے۔ سچے پروپیگنڈے میں بھی کچھ عنصر مبالغہ آرائی کا ہوتا ہے لیکن اس کا مقصد لوگوں، اداروں یا ملکوں میں مفاہمت اور باہمی رابطے کو فروغ دینا تاکہ مثبت نتائج حاصل کیے جاسکے۔

اس وقت بالی ووڈ ہندوستان کی خارجہ حکمت عملی کا مکبر صوت یا لاؤڈ اسپیکر بنا ہوا ہے اور لگاتار خطے کے ممالک بالخصوص پاکستان کے خلاف زہریلے مواد پر مبنی فلمیں بنا رہا ہے۔ ان فلموں کا مقصد اندرونی طور پر پاکستان یا مسلمانوں کے خلاف نفرت اور منفی جذبات کو فروغ دینا اور بین الاقوامی طور پر پاکستان کو ایک دہشت گرد اور ناکام ریاست قرار دینا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور یہ ہندو متعصبانہ قیادت ہی تھی جو نہ صرف تقسیم کے خلاف تھی بلکہ اس نے تقسیم اور تقسیم کے بعد بھی کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور ہر موقعے پر پاکستان کے وجود کو مٹانے کی مذموم سازشیں کی ہیں۔

یہ ہندوستان ہی تھا کہ جس نے تقسیم کے فوراً بعد پاکستان کو اس کے حصے کی رقم اور اسلحے سے محروم کیا۔ موہن داس کرم چند گاندھی نے پاکستان کے حصے کی رقم کی ادائیگی کےلیے مرن بھرت یا بھوک ہڑتال کی اور ان کے اس اقدام کی پاداش میں ایک ہندو انتہاپسند نتھو رام گوڈسے نے ان کا قتل کردیا۔ نتھو رام گوڈسے کا تعلق ہندو مہاسبھا سے تھا اور وہ آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کا بھی سابق رکن رہ چکا تھا، جو کہ انتہا پسند ہندو تنظیمیں ہیں۔ یہ خیال رہے کہ آر ایس ایس ہندوستان کی موجودہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی اثاث ہے۔ اب اگر آپ اس پیرایے میں دیکھیں گے تو بالی ووڈ کی اس زہر افشانی اور اس کے پیچھے حکومتی حکمت عملی آپ کو صاف نظر آجائے گی۔

بی جے پی کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں بالی ووڈ کے تمام حالیہ ناکام ڈائریکٹروں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور پاکستان مخالف فلمیں بنا کر اپنی دکان جو بند ہونے کے قریب پہنچ چکی تھی، اس کو چمکا رہے ہیں اور اس میں سر فہرست جے پی دتہ، ویویک اگنی ہوتری، اور آدتیہ دھر ہیں۔

اس سلسلے میں بالی ووڈ سے پاکستان مخالف فلموں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں سے چند نام یہ ہیں: بارڈر (1997) یہ 1971 کی جنگ کے حوالے سے تھی اور اب جس کا سیکوئیل بھی آرہا ہے۔ یہ دونوں فلمیں جے پی دتہ کی ہیں، جسے ہم نے جوزف گوئبلز کا ہندوستانی متبادل قرار دیا تھا۔ ایل او سی (لائن آف کنٹرول 2003)، فانٹم (2015)، اڑی دی سرجیکل اسٹرائیک (2019)، دی کشمیر فائلز (2022)، مشن مجنوں (2023)، غدر (2001) اور غدر 2 (2023)، اس سلسلے کی آخری فلم دھرندھر پانچ دسمبر 2025 کو ہندوستان میں نمائش کےلیے پیش کی گئی ہے۔ اس فلم کا ڈائریکٹر بھی آدتیہ دھر ہے جس نے اس پہلے اڑی دی سرجیکل اسٹرائیک بھی بنائی تھی۔

ان تمام فلموں میں پاکستان کو ایک غیر ذمے دار، عسکریت پسند بلکہ دہشت گرد اور ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کے مقابلے میں ہندوستان جوکہ دراصل ایک متعصب، غیر ذمے دار، عسکریت پسند بلکہ درحقیقت ایک دہشت گرد ملک ہے، اس کو بالکل اس کا الٹ پیش کیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پتہ نہیں یہ ہندوستانی کیوں سمجھتے ہیں کہ ہم پاکستانی ’’جناب‘‘ کے بغیر کوئی جملہ مکمل ہی نہیں کرسکتے۔

اس سلسلے کی اب تک کی آخری فلم دھرندھر تقریباً تین سو کروڑ کے بجٹ کے ساتھ پیش کی گئی اور اس نے اب تک ریکارڈ بزنس کیا ہے۔ اس میں پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے علاوہ لیاری کے چند جرائم پیشہ افراد کو دکھایا گیا ہے اور اس میں سے کچھ ریاستی اداروں کے افسران کو بھی دکھایا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں بالی ووڈ نے اپنے ریاستی اداروں کو دودھ کا دھلا پیش کیا ہے جبکہ ان کے اداروں کی نااہلی بہت بار دنیا دیکھ چکی ہے۔

دھرندھر میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کے نمائندے کو دکھایا گیا ہے جو لیاری سے انتخاب لڑتا ہے۔ آپ سوچئے کہ اگر کچھ جرائم پیشہ افراد اور سیاسی رکن کو دکھانے پر فلم اتنی کامیاب ہورہی ہے تو اگر انھوں نے پاکستانی سیاسی کرداروں پر فلم بنانا شروع کردی تو کامیابی کا کیا حال ہوگا۔ میں بالی ووڈ کو خیال نہیں پیش کررہا بلکہ اپنے ارباب اختیار کو یہ باور کروانا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں اپنے اس وسائل کا خاتمہ کیا ہے۔ میرا اشارہ ہماری اپنی فلم صنعت کی جانب ہے۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی اگر ارباب اختیار تھوڑے وقت کےلیے اپنے ٹیکس کی آمدنی سے صرف نظر کرلیں تو یہ انڈسٹری مہینوں میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد ہمارے پاس اپنا ریاستی نقطہ نظر پیش کرنے اور پڑوسی ملک کے مکروہ عزائم کو بےنقاب کرنے کےلیے ہمارا اپنا ایک بہت ہی موثر ابلاغ کا ذریعہ ہاتھ آجائے گا۔

دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وارفیئر جاری ہے اور اس میں پروپیگنڈے کا بھرپور کردار ہے۔ یہ سلسلہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوج کے خلاف پروپیگنڈہ سے شروع ہوا تھا جو آج تک جاری ہے۔ امریکا اپنے عزائم ہالی ووڈ کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ ہندوستان اسی کی پیروی کرتے ہوئے بالی ووڈ کا استعمال کرتا ہے بلکہ اب تو وہ بالی ووڈ کے ذریعے تاریخ کو بھی مسخ کررہے ہیں اور پانی پت میں احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کی جنگ کے نتائج کو تبدیل کردیا ہے اور تاج محل کے متعلق بھی غلط بیانی کررہے ہیں۔ ان حالات میں ہمیں لالی ووڈ کو استعمال کرنے سے کوئی اور نہیں روک رہا بلکہ اس کی راہ کی بڑی رکاوٹ ہم خود ہے۔ ہم جتنی جلدی یہ رکاوٹ ہٹا دیں گے، اتنا ہی ہمارے پیارے ملک کےلیے بہتر ہوگا۔ اس سلسلے میں لالی ووڈ کی کاوشیں پرواز جنوں، وار اور خدا کےلیے کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

جنوری کی تئیس تاریخ کو بارڈر 2 نمائش کےلیے پیش کردی جائے گی۔ 1997 کی بارڈر فلم 1971 کے معرکے کے حوالے سے تھی۔ 1971 کے حوالے سے ہندوستان پہلے ہی بہت ساری فلمیں بنا چکا ہیں کہ جن میں مجیب، پیپا اور سیم بہادر شامل ہیں۔ ہم اس میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ہم سچ نہ دیکھنا چاہتے ہیں، نہ پڑھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی سننا چاہتے ہیں۔ اس سے بڑی انتہا اور کیا ہوگی کہ اکہتر کے سانحے پر فلم بنانا تو دور کی بات ہے اس کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ بھی ہم نہیں جاری کر سکے اور پہلی دفعہ یہ رپورٹ ہندوستان سے شائع ہوئی اور یہاں پہنچی۔

ہندوستان کی اس تمام پروپیگنڈہ فلموں کے باوجود جب اس نے مودی پر فلم بنائی تو وہ ایک بھیانک تجربہ ثابت ہوئی، بالکل ان کے تین دفعہ کے منتخب ہونے والے وزیراعظم کی طرح اور اس کو نمائش کےلیے بھی سینما گھروں میں وہ پیش نہ کرسکے۔ اس سے امید بنتی ہے کہ سچ کےلیے ابھی بھی بہت گنجائش ہے۔ میرے خیال سے تو ہمیں فلم بنانے کا آغاز مئی 2025 سے کرنا چاہیے جو ہماری مکمل اور بھرپور فتح تھی اور انشاءاللہ آگے بھی ہماری فتح کےلیے بنیاد کا کام کریں گی۔

اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہندوستان چاہے میدان میں شکست کھاتا رہے، وہ یہ فلمیں بنا بنا کر ہماری نئی نسل کو ورغلاتا رہے گا اور کہیں جوزف گوئبلز کے بقول جھوٹ اگر تواتر کے ساتھ دہرایا جائے تو سچ بن جاتا ہے، تو کہیں ہندوستان کا بیانیہ دنیا کو سچ نہ لگنے لگے۔ ہم نے اپنا فرض ادا کرنا تھا سو کردیا آگے ارباب اختیار کی رضا اور مرضی، ہم تو اپنا کردار ادا کرنے کےلیے تیار ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story