رہبرمعظم پر حملہ ہوا تو علما دنیا بھر میں جہاد کا فتویٰ جاری کردیں گے؛ ایران

سپریم لیڈر خامنہ ای پر حملہ پوری مسلم دنیا کیخلاف اعلان جنگ تصور ہوگا؛ ایرانی قومی سلامتی کمیشن

خامنہ ای پر حملہ ہوا تو دنیا بھر میں اسلام سپاہیوں کیلیے جہاد کا فتویٰ جاری ہوگا؛ ایران

ایران نے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ سخت ردعمل قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق پارلیمانی کمیشن نے اپنے ایک بیان میں دیا ہے۔

جس میں کہا گیا ہے کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا تو نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ اس کے خلاف متحد ہو جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر پر حملے کی صورت میں علما جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے جس کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں موجود اسلام کے سپاہیوں کا بھرپور ردعمل سامنے آئے گا۔

ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن نے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں موجود اسلام کے سپاہیوں کے ردعمل کی ذمہ داری آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب ایرانی صدر نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا سبب بن جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام کے نتائج صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں نئی قیادت کی ضرورت پر بات کی تھی۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے پس منظر میں سامنے آیا اور جس مقصد آیت اللہ خامنہ ای کی تبدیلی سے تھا۔

اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں بدامنی، ہلاکتوں اور احتجاجی واقعات کا ذمہ دار براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے حکمران اقتدار برقرار رکھنے کے لیے بے مثال جبر اور تشدد پر انحصار کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے مظاہرین کو اکساتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایرانی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، آپ کی مدد راستے میں ہیں۔

Load Next Story