جیسا وینزویلا نے امریکا کیساتھ معاہدہ کیا ویسا ہی دیگر ممالک کو بھی کرنا چاہیئے؛ ٹرمپ
امریکی کمپنیاں آئندہ 18 ماہ کے اندر وینزویلا میں کام شروع کردیں گی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا میں بڑی کارروائی کے بعد اب ہر بڑی آئل کمپنی ہمارے ساتھ آ رہی ہے اور یہ حیران کن ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ جب امریکا پھلتا پھولتا ہے تو دنیا بھی ترقی کرتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم سے اپنے خطاب کے ابتدائیہ میں ہی خاصا وقت وینزویلا پر گفتگو کی۔
امریکی کنٹرول میں وینزویلا شاندار کارکردگی دکھائے گا
امریکی صدر نے پیش گوئی کی کہ نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا امریکی کنٹرول میں شاندار کارکردگی دکھائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا اگلے چھ ماہ میں اتنا پیسہ کمائے گا جتنا اس نے پچھلے 20 سال میں نہیں کمایا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہر بڑی آئل کمپنی ہمارے ساتھ آ رہی ہے اور یہ حیران کن ہے۔ تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔
ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر دلسی رودریگز کی قیادت میں چلنے والی انتظامیہ کی تعریف کی اور کہا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ اچھے طریقے سے تعاون کر رہی ہے۔
وینزویلا کی طرح دیگر ممالک بھی امریکا سے معاہدے کریں
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ جیسے ہی وہاں امریکی حملہ ختم ہوا تو وینزویلا کی نائب صدر نے امریکا کو پیغام دیا کہ آؤ معاہدہ کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی نائب صدر کے معاہدہ کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے مشورہ دیا کہ دیگر ممالک کو بھی یہی کرنا چاہیے۔
یورپی ممالل کی حالت پر افسوس کا اظہار اور تنقید
امریکی صدر نے یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپ کے بعض حصے، سچ کہوں تو، اب پہچان میں نہیں آتے۔ وہ اب پہلے جیسے نہیں رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ یورپ ترقی کرے، مجھے ان سے پیار ہے لیکن یہ درست سمت میں نہیں جا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گرین انرجی پر ضرورت سے زیادہ توجہ اور بڑی تعداد میں ہجرت (امیگریشن) وہ عوامل ہیں جنہوں نے یورپ کو نقصان پہنچایا۔
گرین لینڈ ہمارا علاقہ ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو برف ایک ٹکڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کی مکمل ملکیت اور قانونی حق امریکا کو دیا جائے تاکہ اس کا دفاع ممکن ہو۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ سمندر کے بیچ ایک بہت بڑا برفانی علاقہ ہے۔ جنگ ہوئی تو زیادہ تر کارروائیاں اسی برفانی خطے پر ہوں گی۔ ذرا تصور کریں میزائل اسی برفانی جزیرے کے اوپر سے گزریں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ گرین لینڈ کی مکمل ملکیت اس لیے مانگ رہے ہیں کیونکہ آپ کسی جگہ کا دفاع اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک وہ آپ کی ملکیت میں نہ ہو۔
صدر ٹرمپ نے سوال اُٹھایا کہ آپ لیز یا لائسنس پر لی گئی جگہ کا دفاع نہیں کرسکتے۔ کون ایک لائسنس یا لیز کے معاہدے کا دفاع کرنا چاہے گا؟
گرین لینڈ پر امریکی ملکیت اور نیٹو سے شکوہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی کنٹرول میں گرین لینڈ ہونا نیٹو کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
انھوں نے شکوہ کیا کہ گا۔ امریکا کے ساتھ نیٹو میں برتاؤ بہت غیر منصفانہ رہا ہے تاہم گرین لینڈ کی ملکیت ملنے سے یہ نیٹو اتحاد کی سیکیورٹی کو بہت زیادہ مضبوط کرے گا۔