توانائی کے ذرائع کی منتقلی، یورپی یونین نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا
یورپی یونین نے 2025 میں حصولِ توانائی کے ذرائع کی منتقلی میں اہم سنگِ میل عبور کرلیا۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق تاریخ میں پہلی بار یورپی یونین نے ہوا اور شمسی سے فاسل فیول کے مقابلے میں زیادہ بجلی پیدا کی۔
انرجی تھنک ٹینک Ember کے دسویں سالانہ یورپین الیکٹرسٹی ریویو میں 2025 میں یورپی یونین کے پاور سیکٹر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر پہلا مفصل جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سنگِ میل کے پیچھے سولر توانائی میں حیران کن اضافہ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ غیر معمولی موسمی حالات کے باوجود قابلِ تجدید ذرائع نے گزشتہ برس یورپی یونین کو توانائی کا تقریباً نصف حصہ فراہم کیا۔
اگرچہ گزشتہ برس ہائڈرو توانائی میں کمی کے باعث توانائی کے لیے گیس کے استعمال میں اضافہ ہوا، البتہ اس کے استعمال میں طویل مدتی کمی برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہوا سے بنائی جانے والی بجلی یورپی یونین میں دوسرا بڑا توانائی کا ذریعہ (اور گیس سے اوپر) رہا۔ جبکہ کوئلے کے استعمال میں تاریخی کمی واقع ہوئی۔
یہ نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے موسم اور قابلِ تجدید توانائی کے معاملات سے مزید پیچھے ہٹنے کا اشارہ دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے معاہدہ برائے موسمیات سے دستبردار اختیار کی اور وینزویلا کی تیل کی صنعت میں دخل اندازی کی ہے۔
رپورٹ کی مصنفہ ڈاکٹر بِٹریس پیٹرووچ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر فاسل فیول پر انحصار میں کمی واقع ہونے سے صاف توانائی پر منتقلی کے نتائج واضح ہوئے ہیں۔ یہ سنگِ میل بتاتا ہے کہ یورپی یونین کتنی تیزی سے ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی کی پیدوار کے نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔