معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں اہم پیشرفت؛ مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی کا بیان قلمبند

عدالت نےوکیل صفائی کو دھمکیوں کے معاملے پر این سی سی آئی اے حکام کو طلب کرتے ہوئے سماعت 27 جنوری تک ملتوی کردی

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے معروف ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے مبینہ قتل کیس میں مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی کا بیان قلمبند کر لیا جبکہ وکیل صفائی کو دھمکیوں کے معاملے پر این سی سی آئی اے حکام کو طلب کرتے ہوئے سماعت 27 جنوری تک ملتوی کردی۔

ملزم عمر حیات کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ابتدائی سماعت کے وقت ملزم کا کوئی وکیل عدالت میں موجود نہ تھا جس پر جج نے استفسار کیا کہ آپ کے وکیل کہاں ہیں؟ ملزم نے جواب دیا کہ وکیل نے آنے کا کہا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے 12 بجے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ملزم کے وکیل چوہدری رضوان الہی عدالت میں پیش ہوئے اور دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ انہیں اس کیس میں وکالت کرنے پر مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔

رضوان الہی ایڈووکیٹ کے مطابق انہیں ویڈیو کالز اور میسجز کے ذریعے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دھمکیاں دینے والوں کے افغانستان سے روابط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان پر اس کیس سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور جب وہ ہائیکورٹ میں اپیل لے کر گئے تو دھمکیوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس موقع پر ثناء یوسف کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی کو دھمکیاں دی گئی ہیں تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حربہ کیس کو تاخیر کا شکار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

رضوان الہی ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ ثناء یوسف کے وکلاء سوشل میڈیا پر زیر سماعت کیس کے حوالے سے غیر ضروری گفتگو کرتے ہیں اور عدالت سے باہر سخت بیانات دیتے ہیں۔

عدالت نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ثناء یوسف کے وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ زیر سماعت مقدمے پر سوشل میڈیا پر غیر ضروری ویڈیوز اور بیانات دینے سے گریز کریں۔

جج افضل مجوکہ نے کہا کہ ایک صحافی نے بھی ایسا کیا تھا جسے انہوں نے منع کیا۔ بعد ازاں مقتولہ ثناء یوسف کی والدہ فرزانہ یوسف نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

بیان کے دوران وہ آبدیدہ ہو گئیں۔ فرزانہ یوسف نے بتایا کہ ان کا بیٹا یاور یوسف گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث چترال گیا ہوا تھا جبکہ گھر میں ان کی نند لطیفاں شاہ مہمان تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2 جون کی شام تقریباً پانچ بجے ایک شخص کالی شرٹ اور نیلے ٹراؤزر میں ملبوس گھر میں داخل ہوا، جسے انہوں نے اور لطیفاں شاہ نے دیکھا۔

ملزم نے ثناء یوسف کے سینے پر دو فائر کیے اور فائرنگ کے بعد پستول اور ثناء یوسف کا موبائل فون لے کر سیڑھیوں سے فرار ہو گیا۔فرزانہ یوسف کے مطابق شور مچانے پر اہلِ محلہ اکٹھے ہو گئے اور ہمسائی کی گاڑی میں ثناء یوسف کو ہسپتال لے جایا گیا، تاہم کے آر ایل ہسپتال پہنچنے پر ثناء یوسف دم توڑ چکی تھیں۔ بعد ازاں لاش کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 13 جون 2025 کو وہ اور لطیفاں شاہ شناخت پریڈ کے لیے اڈیالہ جیل گئیں جہاں 9 ڈمی ملزمان کے درمیان عمر حیات کو شناخت کیا۔ انہوں نے عدالت سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملزم بچیوں کے لیے خطرناک ہے ۔ بعد ازاں ثناء یوسف کی پھوپھو بی بی لطیفاں شاہ نے بھی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

بیان سے قبل پراسکیوٹر اور وکیلِ صفائی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ لطیفاں شاہ نے اپنے بیان میں واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ نامعلوم شخص نے گھر میں داخل ہو کر ثناء یوسف پر دو فائر کیے اور وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ انہوں نے بھی شناخت پریڈ میں ملزم عمر حیات کو شناخت کرنے کی تصدیق کی۔

دوران سماعت وکیل صفائی رضوان الہی کی جانب سے دھمکیوں کے انکشاف پر عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی  کے حکام کو طلب کر لیا۔

جج افضل مجوکہ نے کہا کہ وکیل کی درخواست پر باقاعدہ آرڈر جاری کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی۔

Load Next Story