پاکستان کا غزہ امن بورڈ کا حصہ بننا خوش آئند، پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے، ایکسپریس فورم
اسٹرٹیجک تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کا غزہ امن بورڈ کا حصہ بننا خوش آئند ہے، ہم خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنا کردار بہتر طریقے سے کردار ادا کرسکیں گے، غزہ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد شہادتیں ہوئیں، ٹرمپ کے امن نکات کے بعد سے غزہ میں قتل و غارت میں کمی آئی، پاکستان کو مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا چاہیے، اسرائیل کے حوالے سے بانی پاکستان کی پالیسی ہی پاکستان کی پالیسی ہے۔
ان خیالات کا اظہار ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں نے ’’غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا، فورم کی معاونت احسن کامرے نے کی۔
چیئرمین شعبہ تاریخ جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکات کے بعد سے فلسطین اور غزہ میں خونریزی میں کمی آئی ہے، اب ’بورڈ آف پیس‘ قائم کر دیا گیا ہے جس میں شمولیت کیلئے 60 ممالک کو دعوت دی گئی، پاکستان بھی اس کا حصہ بن گیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی نے کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسی ہے جس کے پیچھے گریٹر اسرائیل کی خواہش ہے، صیہونی طاقتیں مذہبی دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا، کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
ماہر امور خارجہ محمد مہدی نے کہا کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں ترکیہ، سعودی عرب، انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہو رہے ہیں تو ایسے میں پاکستان کیا کرسکتا تھا، زمینی حقائق کے پیش نظر ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا، روس بھی اس بورڈ میں شمولیت کا خواہاں ہے، اسرائیل کے حوالے سے قائداعظمؒ کی پالیسی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔