خطرناک شیروں کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے نس بندی اور پرسکون موت دینے پرغور

کیپٹو وائلڈلائف مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا بگ کیٹس کے مستقبل اور آبادی پر قابو پانے کے لیے اہم فیصلے متوقع ہیں

لاہور میں ایک پالتو شیر کے معصوم بچی پر حملے کے واقعے کے بعد پنجاب میں شوقیہ طورپر پالے گئے خطرناک شیروں سے متعلق پالیسی پر نظرثانی شروع کر دی گئی، بگ کیٹس کی آبادی کنٹرول کرنے کے لئے سخت فیصلے، پہلے مرحلے میں بیمار اور لاعلاج شیروں کو پرسکون موت دی جائیگی.

چیف وائلڈلائف رینجر پنجاب مبین الٰہی کے مطابق اس حوالے سے کیپٹو وائلڈلائف مینجمنٹ کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا جس میں بگ کیٹس کے مستقبل اور آبادی پر قابو پانے کے لیے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مبین الٰہی نے کہا کہ شہری آبادی میں بگ کیٹس رکھنا قانوناً ممنوع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور کے حالیہ واقعے میں ملوث افراد نے شیروں کی ڈیکلیئریشن اور رجسٹریشن شیخوپورہ میں کرائی تھی، مگر انہیں غیرقانونی طور پر لاہور میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور سمیت پورے پنجاب میں بگ کیٹس کی دوبارہ انسپکشن شروع کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بگ کیٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے اب سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ پہلے مرحلے میں چڑیا گھروں اور وائلڈلائف پارکس میں موجود بیمار اور لاعلاج بگ کیٹس کو پرسکون موت دئیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب وائلڈلائف ایکٹ اس کی اجازت دیتا ہے اور اس کے باقاعدہ قواعد بھی موجود ہیں، تاہم اس اقدام کے لیے کیپٹو وائلڈلائف مینجمنٹ کمیٹی سے منظوری لی جائے گی۔

چیف وائلڈلائف رینجر نے بتایا کہ بیمار بگ کیٹس کو نکالنے کے بعد چڑیا گھروں میں پیدا ہونے والی جگہ پر وہ بگ کیٹس منتقل کی جائیں گی جو غیرقانونی نجی تحویل سے برآمد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعے نے وائلڈلائف سسٹم کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے بعد اب دوبارہ جانچ کی جا رہی ہے کہ جن افراد نے بگ کیٹس ڈیکلیئر کی تھیں، آیا وہ جانور اسی جگہ رکھے گئے ہیں جن کی نشاندہی کی گئی تھی یا نہیں۔

ادھر کیپٹو وائلڈلائف مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بدر منیر نے بتایا کہ گزشتہ برس بگ کیٹس سے متعلق قانون سازی کے بعد شوقیہ طور پر شیر پالنے والوں کو اپنے پاس موجود بگ کیٹس کی تعداد اور جنس ڈیکلیئر کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پنجاب بھر میں 587 بگ کیٹس ڈیکلیئر کی گئی تھیں، جبکہ غیرقانونی طور پر رکھی گئی 34 بگ کیٹس تحویل میں لی گئی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور کے حالیہ واقعے کے بعد مزید 11 بگ کیٹس برآمد کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیکلیئر کیے گئے بگ کیٹس کے مالکان کی ہاؤسنگ سہولیات کی جانچ جاری ہے اور ایس او پیز کے مطابق بریڈنگ لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

وائلڈلائف حکام کے مطابق بگ کیٹس کو غیرقانونی طور پر رکھنے پر 50 لاکھ روپے تک جرمانہ اور سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ لاہور کے واقعے میں ملوث چار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دوسری طرف شہریوں نے پنجاب وائلڈلائف کی کارکردگی پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے محکمہ اس وقت ہی حرکت میں کیوں آتا ہے جب حادثہ رونما ہوتا ہے۔

ایک خاتون رابعہ بصری نے کہا وائلڈلائف کا عملہ گھروں میں طوطے اور چڑیاں پالنے والوں کو تو پکڑتا ہے لیکن شہری آبادیوں میں گھروں کی چھتوں پر شیر رکھنے والوں کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا۔

ایک نوجوان احمد حسن نے کہا وائلڈلائف نے لاہور کی شہری آبادی کو بگ کیٹس فری بنانے کا دعوی کیا تھا لیکن حالیہ واقعہ نے ان کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے.

Load Next Story