اقتدار کے محض 3 ماہ بعد جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم نے اسمبلی تحلیل کردی
پہلی خاتون وزیراعظم نے محض 3 ماہ بعد ہی اسمبلی تحلیل کردی
جاپانی وزیرِاعظم سَنائے تاکائیچی نے کہا ہے کہ اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ آیا مجھے وزیرِاعظم رہنا چاہیے یا نہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم سَنائے تاکائیچی نے بتایا کہ اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا مقصد اکثریت حاصل کرکے پارلیمان میں آنا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ معاشی اصلاحات، دفاعی پالیسیوں میں تبدیلی اور سخت امیگریشن قوانین جیسے اقدامات کے نفاذ کے لیے اسمبلی میں اکثریت درکار ہوتی ہے۔
جاپانی وزیرِاعظم تاکائیچی نے مزید کہا کہ اسی مقصد کے لیے وہ اپنی سیاسی ساکھ داؤ پر لگا کر عوام سے اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
اسمبلی کے تحلیل اور 8 فروری کو الیکشن کرانے کے اعلان کے بعد ایوانِ زیریں کی 465 نشستوں کے لیے 12 روزہ انتخابی مہم کا آغاز ہوگیا۔
یاد رہے کہ 2024 کے انتخابات میں حکمراں اتحادی جماعتوں کو معمولی اکثریت ملی تھی جب کہ ایوانِ بالا میں حکومت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے۔
جس کے باعث حکومت کو قانون سازی میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ حکمراں اتحاد کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ اور اختلافات بھی بڑھتے جا رہے تھے۔
خیال رہے کہ سنائے تاکائیچی نے اپنے دیرینہ اتحادی کومیتو کے الگ ہوجانے کے بعد دائیں بازو کی جماعت جاپان انوویشن پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔
دونوں جماعتوں نے مضبوط فوج، مردوں تک محدود شاہی جانشینی، اور بند نیوکلیئر ری ایکٹرز کی بحالی جیسے نکات پر اتفاق کیا ہے۔
دوسری جانب کومیتو نے اپوزیشن کی جماعت کانسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان کے ساتھ مل کر "سینٹرسٹ ریفارم الائنس" تشکیل دے دیا جو صنفی مساوات، جامع معاشرہ اور عوام کو اولیت دینے کا منشور پیش کیا ہے۔