اخلاقی مالیات کے ذریعے سماجی معاہدے کی ازسرنو تشکیل
گزرتے وقت کے ساتھ بینکنگ ایک تجارتی سرگرمی سے بڑھ کر ایک ایسے شعبے میں ڈھل چکی ہے جس پر گہری سماجی ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔
مالیاتی ادارے قومی معیشتوں کی ترقی کے لیے کام کرتے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں اور مواقع کی منصفانہ تقسیم میں معاون ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشت، جہاں مالی شمولیت ترقی کررہی ہے، ایسے وقت میں اداروں پر عوامی اعتماد بعض اوقات نازک صورتِ حال اختیار کرلیتا ہے۔
بینکوں کی کارپوریٹ ذمے داری (سی ایس آر) صرف فلاحی سرگرمیوں یا ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل تک محدود نہیں رہ سکتی، اس کے لیے ضروری ہے کہ بینک معاشرتی فلاح، شفافیت اور طویل المدتی معاشی استحکام کو مرکز نگاہ بناتے ہوئے ایک اسٹرٹیجک اور اقدار پر مبنی لائحہ عمل بنائیں۔
ماحولیات، سماج اور حکمرانی کے اصول (ای ایس جی) آج کی دنیا کی مانگ اور ضرورت ہے، جب تک پائیداری سے متعلق اقدامات کو ایس ایس جی کے تحت یکجا کرنے کےلیے اصطلاحات نہیں کی جاتیں۔ سی ایس آر کو کسی ثانوی یا اضافی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ ایک بنیادی اور اسٹرٹیجک ذمے داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
سرمایہ کی تقسیم اور مالی وسائل تک رسائی میں مرکزی کردار کے سبب بینک سماجی و معاشی ترقی کو سمت دینے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کن شعبوں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں، کہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور کن طبقات کو بااختیار بناتے ہیں۔ یہ تمام فیصلے براہِ راست ان معاشروں کی معاشی و سماجی خدوخال کی تشکیل کرتے ہیں جن سے وہ وابستہ ہوتے ہیں۔
عالمی سطح پر صف اول کے مالیاتی اداروں نے اخلاقی فیصلہ سازی اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ای ایس جی فریم ورک کو اپنے نظام کا حصہ بنالیا ہے، تاہم پاکستان جیسے معاشرے میں یہ ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر اسلامی بینکوں کےلیے، جن کے کاروباری ماڈل اخلاقیات، انصاف اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہیں۔
اسلامی بینکاری اپنے بنیادی اقدار کے سبب دیگر مالیاتی نظام سے ممتاز ہے۔ خدمت (خدمت خلق)، عدل (انصاف) اور مصلحت عامہ (عوامی فلاح) جیسے تصورات اخلاقی نعرے نہیں، بلکہ ایسے رہنما اصول ہیں جو یہ متعین کرتے ہیں کہ ذمے دار مالیاتی نظام کی حقیقی شکل کیا ہونی چاہیے۔
روایتی کارپوریٹ سماجی ذمے داری کے ماڈلز کے برعکس، جو اکثر فلاحی عطیات تک محدود رہتے ہیں، اسلامی مالیات میں سماجی ذمے داری کو معاشی سرگرمی کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے۔ سود کی ممانعت، غیریقینی صورتحال سے بچنا اور حقیقی اثاثوں سے منسلک لین دین پر زور، نہ صرف مالی نظم و ضبط کو فروغ دیتا ہے بلکہ اس امر کو بھی یقینی بناتا ہے کہ معاشی قدر حقیقتاً پیدا ہو۔ تاہم اسلامی بینکاری کی اصل سماجی طاقت اس کے اصول ہیں، جس کے تحت مالیات صرف منافع کمانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانی وقار کے تحفظ اور منصفانہ و ہمہ گیر ترقی کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔
پاکستان کے موجودہ سماجی و معاشی منظرنامے میں یہ فکری و اخلاقی بنیاد غیرمعمولی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ آمدن کے بڑھتے ہوئے فرق، ماحولیاتی خطرات، صحت کے شعبے پر بڑھتا ہوا دباؤ اور مالیاتی و ڈیجیٹل آگاہی تک محدود رسائی نے بینکاری شعبے کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے بیک وقت چیلنجز اور مواقع کا سامنا ہے۔
بینک کم لاگت، صاف توانائی، پانی تک محفوظ رسائی، کمیونٹی صحت اور جامع تعلیمی مواقع جیسے شعبوں میں انقلابی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل اور مالیاتی شمولیت کے فروغ میں بینکوں کی شراکت داری نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ 21 ویں صدی میں معاشی نقل و حرکت کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کے بینکاری شعبے میں مقصد پر مبنی مالیات کے تصور کو اپنانے والے اداروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، اور اس تبدیلی کی قیادت اسلامی بینک کر رہے ہیں، جن کے اقدار پر مبنی فریم ورک انہیں قدرتی برتری فراہم کرتے ہیں۔ اس طرز فکر کی ایک مثال فیصل بینک کی ہے، جو مکمل اسلامی بینکاری ماڈل کے تحت کام کرتا ہے اور اپنی سی ایس آر کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) سے ہم آہنگ رکھتا ہے۔
دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے اسکولوں کے لیے بینک کا سولر انرجی کا منصوبہ اس امر کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ماحولیاتی ذمے داری کو تعلیمی بہتری کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بجلی کی عدم دستیابی کے باعث تعلیم میں پیش آنے والی رکاوٹ کم ہوئی ہے بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں ایف بی ایل کی شراکت داری، چاہے بچوں کے لیے دل کے مہنگے آپریشنز میں معاونت کرنا ہو یا موبائل میڈیکل کلینکس کا قیام اس بات کی عکاس ہے کہ یہ اقدامات وقتی یا علامتی نہیں بلکہ نظام میں موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے طویل المدتی اور پائیدار اقدامات ہیں۔ پسماندہ اور دیہی علاقوں میں صاف پینے کے پانی کے منصوبے، اسلامی مالیات کی تعلیم میں سرمایہ کاری، مالیاتی خواندگی اور صحت کے شعبے میں انفرااسٹرکچر جیسے بریسٹ کینسر یونٹس کا قیام اس امر کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ اسلامی بینکاری ادارے خدمت خلق اور طویل المدتی سماجی فلاح کے اصولوں کو عملی شکل دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسلامی بینکاری کے پیشہ ورانہ فروغ میں مسلسل سرمایہ کاری اور مالی خواندگی کے پروگرام بالترتیب نیم شہری و دیہی آبادیوں کے رویوں میں تبدیلی لارہے ہیں اور معاشی شمولیت کے دائرے کو وسیع کررہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ جب اسلامی اقدار کو جدید سی ایس آر حکمت عملی میں ڈھال کر نافذ کیا جائے تو قابلِ پیمائش، دیرپا اور بامعنی سماجی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
اسلامی اقدار اور جدید سی ایس آر کے درمیان یہ ہم آہنگی صرف پاکستان تک محدود نہیں، دنیا بھر میں اس کے مشابہ ماڈلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اخلاقی اسلامی مالیات کس طرح معاشرتی تبدیلی کے لیے حقیقی اور پائیدار اثرات پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کی ایک عالمی مثال ملائیشیا کے ”بینک اسلام“ کی ہے، جس نے صدقہ ہاؤس متعارف کرایا ہے۔ یہ شریعہ کمپلائنٹ کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے رضاکارانہ عطیات کو صحت، تعلیم اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے تاکہ کم مراعات یافتہ کمیونیٹیز کی مدد کی جاسکے۔ شفاف حکمرانی اور قابلِ پیمائش سماجی نتائج کے امتزاج کے ذریعے بینک اسلام نے یہ ثابت کیا ہے کہ جدید اسلامی مالیات کس طرح ہمدردی کو ادارہ جاتی شکل دے سکتی ہے اور بامعنی و قابلِ توسیع اثر ات پیدا کرنے کے ساتھ تجارتی طور پر مستحکم بھی رہتی ہے۔
کارپوریٹ سماجی ذمے داری کا مستقبل بینکاری آپریشنز کو سماجی اقدار میں ضم کرنے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی معاونت کے فیصلے صرف منافع یا قانونی تقاضوں کی بنیاد پر نہ ہوں، بلکہ ان میں ماحولیاتی اثرات، کمیونیٹیز کی ضروریات اور اخلاقی مضمرات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اسی کے ساتھ بینکوں کو چیریٹی پر مبنی ماڈلز سے آگے بڑھتے ہوئے پائیدار اور طویل المدتی ترقیاتی شراکت داریاں کرنی چاہیے۔ بجٹ کو روایتی سی ایس آر تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کے اثرات کو مصنوعات، شعبوں اور مالی رویوں میں شامل کرنا چاہیے جن کی وہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
اسلامی بینکوں کے لیے سوال یہ نہیں کہ انہیں عمل کرنا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسلامی اصولوں کو جدید مالیاتی عمل میں کس حد تک جامع انداز میں منتقل کرسکتے ہیں۔ اس میں شریعہ کمپلائنٹ مائیکرو فنانس کے ذریعے مالی شمولیت کو فروغ دینا، خواتین کی زیرقیادت کاروبار کی حمایت کرنا، گرین فنانسنگ انفرا اسٹرکچر کی تیاری، اخلاقی سرمایہ کاری کے فریم ورک کو فروغ دینا، علم و صحت کی سہولت اور ڈیجیٹل رسائی کے ذریعے کمیونیٹیز کو مستحکم بنانا شامل ہے۔ پائیداری کی جانب یہ منتقلی شفاف رپورٹنگ، اثرات کی پیمائش اور عالمی معیار جیسے پائیدار ترقیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگی کا تقاضا کرتی ہے۔
مستقبل کے منظرنامے میں بینکوں کی کارپوریٹ ذمے داری کا اندازہ بڑھتی ہوئی شفافیت اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، جن میں صارفین، ریگولیٹرز اور بین الاقوامی شراکت دارشامل ہیں اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ بینک واضح طور پر دکھائیں کہ ان کے اقدامات کس طرح سماجی استحکام، پائیدار ترقی اور کمیونیٹیز کی بھلائی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ سب سے زیادہ قابلِ احترام بینک وہ ہوں گے جو مشترکہ قدر پیدا کریں، یعنی ایسے ادارے جو اپنے کاروباری اہداف کے حصول کے ساتھ ساتھ زندگیوں کو بہتر بنائیں، ماحولیاتی استحکام کو فروغ دیں اور کمیونیٹیز کو مضبوط کریں۔ پاکستان کے تیز رفتار اور متحرک معاشی و سماجی منظرنامے میں یہ صرف ایک خواہش یا ترجیح نہیں، بلکہ طویل المدتی استحکام، اعتماد اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔