حکومت کا ملک میں مربوط توانائی منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ
حکومت کاملک میں مربوط توانائی منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ فوٹو؛ فائل
توانائی کے شعبے میں طویل عرصے سے جاری گردشی قرضے، وزارتوں کے درمیان عدم ہم آہنگی اور غیر مربوط منصوبہ بندی کے باعث پیداہونے والے مسائل کے حل کیلیے حکومت نے انٹیگریٹڈ انرجی پلان پر عملی پیش رفت شروع کر دی ہے،منصوبے کامقصد تمام متعلقہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکرفیصلہ سازی کو مربوط، شفاف اورشواہد پرمبنی بناناہے۔
توانائی معاشی ترقی،سماجی بہتری اور انسانی ترقی کابنیادی محرک ہے،تاہم ماضی میں واضح منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث وسائل کاغیر مؤثر استعمال، پالیسی تضادات اور سائلوز میں فیصلے ہوتے رہے۔ ان چیلنجزسے نمٹنے کیلیے حکومت نے PAK-IEM اور انٹیگریٹڈانرجی پلاننگ پراجیکٹ سمیت متعدداقدامات کیے ہیں۔۔حالیہ عالمی توانائی تبدیلیوں، ماحولیاتی تقاضوں اور نئی ٹیکنالوجی کے تناظر میں مضبوط قومی انٹیگریٹڈ انرجی پلان کی ادارہ جاتی سطح پر تشکیل کو ناگزیر قراردیاگیاہے۔
کابینہ کمیٹی برائے توانائی سے منظورشدہ منصوبے کے مطابق وزیراعظم آفس نے وزارتِ توانائی (پاور اور پیٹرولیم ڈویژنز)کو وزارتِ پانی، دیگروفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ مؤثر بین الوزارتی رابطہ قائم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ستمبر 2025 میں وفاقی وزیر PD&SI کی زیر صدارت ہونیوالے بین الوزارتی اجلاس میں پاور،پیٹرولیم، پانی اوراقتصادی امورکے وزرا نے انٹیگریٹڈ انرجی پلاننگ ایکوسسٹم،سیکرٹریٹ کے ڈھانچے اورروڈمیپ پر غورکیا۔ بعد ازاں اکتوبر 2025 میں سیکرٹری سطح کے اجلاس میں مجوزہ فریم ورک اورروڈمیپ سے اتفاق کیاگیا۔
کابینہ کمیٹی نے انٹیگریٹڈ انرجی پلان کاڈھانچہ،ایکوسسٹم اور 2025–27 کااعلیٰ سطح روڈمیپ منظورکر لیا،جس کے تحت اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائیگی اورانرجی انفارمیشن سسٹم کومختلف وزارتوں اور اداروں کے ڈیٹابیسزکے انضمام کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دی جائیگی۔ وزارتِ تجارت نے بھی منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے اسے تجارتی پالیسی، پائیدار ترقیاتی اہداف اور نیٹ زیرو اہداف سے ہم آہنگ کرنے پرزور دیا۔ صوبوں اور گلگت بلتستان نے بھی منصوبے کی توثیق کردی،جبکہ آزادکشمیرکے چیف سیکرٹری کوبھی مجوزہ کمیٹی میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب گردشی قرضے کے خاتمے کی کوششوں کے تحت او جی ڈی سی ایل کو پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے سود کی ادائیگی کی ساتویں قسط موصول ہوگئی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کوجاری نوٹس کے مطابق مجموعی طور پر 92 ارب کی رقم جولائی 2025 سے بارہ ماہانہ اقساط میں اداکی جارہی ہے۔