پنجاب میں بچوں پر حملے کے بعد کریک ڈاؤن، 59 شیر اور ٹائیگر قبضے میں لے لیے گئے
فوٹو: اسکرین گریب
لاہور میں ایک ہفتے کے دوران پالتو شیروں کے حملے سے دو بچوں کے زخمی ہونے کے افسوسناک واقعات کے بعد پنجاب بھر میں نجی تحویل میں شیر اور ٹائیگر رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور، ملتان، جہلم اور دیگر اضلاع میں کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 59 شیر اور ٹائیگر برآمد کر کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
وائلڈلائف حکام کے مطابق نجی وائلڈلائف بریڈنگ فارمز کو شیر اور دیگر خطرناک جنگلی جانور رکھنے کے لیے محکمہ کے مقررہ معیار کے مطابق پنجرے اور رہائشی سہولیات بہتر بنانے کی مہلت دی گئی تھی، جو مکمل ہونے کے بعد صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں بیدیاں روڈ پر واقع ایک فارم ہاؤس پر کارروائی کے دوران 20 سے زائد شیر اور ٹائیگر تحویل میں لے لیے گئے۔
وائلڈلائف حکام کا کہنا ہے کہ ملزم فیاض عرف فیضی اور اس کے تین ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایڈیشنل چیف وائلڈلائف رینجر سنٹرل پنجاب مدثر حسن کے مطابق برآمد کیے گئے تمام جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح ملتان میں عسکری بائی پاس کے قریب واقع ایک فارم ہاؤس سے نو شیر اور ایک بندر برآمد کیا گیا۔ حکام کے مطابق مذکورہ بریڈنگ فارم محکمہ کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، جس پر ملزم وقاص کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔
وائلڈلائف رینجرز نے جہلم میں کارروائی کے دوران 23 شیر اور ٹائیگر تحویل میں لے کر ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ گوجرانوالہ سے تین شیر برآمد کیے گئے، جہاں ایک ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ فیصل آباد سے تین، سیالکوٹ سے دو شیر برآمد کر کے دو افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 59 شیر اور ٹائیگر قبضے میں لیے گئے ہیں اور مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق کریک ڈاؤن لاہور کے علاقے سبزہ زار میں پالتو شیر کے حملے کے واقعے کے بعد شروع کیا گیا، جہاں ایک آٹھ سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔
واقعہ میاں عمر ڈولا بریڈنگ فارم میں پیش آیا، جو عمر اقبال اور علی اقبال کی ملکیت ہے۔
وائلڈلائف حکام کے مطابق اس فارم کو پہلے ڈیکلیئر کیا گیا تھا اور مالکان کو سہولیات بہتر بنانے کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم خلاف ورزی پر مالکان کو گرفتار کر کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
چیف وائلڈلائف رینجر پنجاب مبین الٰہی نے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے فیلڈ اسٹاف کو سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل لاہور کے علاقے بھیکے وال موڑ میں بھی شیرنی کے حملے سے ایک بچی زخمی ہوئی تھی، جس کے بعد نجی سطح پر رکھے گئے خطرناک جنگلی جانوروں اور ان کی نگرانی کے نظام پر تحفظات مزید بڑھ گئے ہیں۔