ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026: تحفظ یا نیا سماجی امتحان؟
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہونے والا ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 بلاشبہ پاکستان کے قانونی اور سماجی منظرنامے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس قانون کے تحت بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، گالی دینا، ذہنی دباؤ ڈالنا، اور معاشی استحصال جیسے افعال کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ قانون کا اطلاق فی الحال وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک محدود ہے، تاہم اس کے اثرات پورے معاشرے میں بحث و مباحثے کا باعث بن چکے ہیں۔
یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ قانون گھریلو تشدد کے خاتمے کی جانب ایک مضبوط قدم ثابت ہوگا یا پھر یہ خاندانی نظام میں نئے تنازعات اور قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے گا۔
خاندانی نظام پر ممکنہ اثرات
پاکستانی معاشرہ روایتی خاندانی اقدار پر قائم ہے جہاں گھریلو معاملات اکثر نجی سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اس قانون کے ذریعے پہلی بار بعض ایسے رویوں کو واضح طور پر جرم قرار دیا گیا ہے جو ماضی میں اخلاقی یا سماجی دائرے میں رکھے جاتے تھے۔
حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے خواتین، بچوں اور کمزور افراد کو فوری قانونی تحفظ ملے گا اور گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی۔ تاہم ناقدین کے مطابق بعض شقیں مبہم ہیں، جیسے ’’گھورنا‘‘ یا ’’نفسیاتی اذیت‘‘، جن کی تشریح عدالتوں پر چھوڑ دی گئی ہے، اور یہی اب مستقبل میں قانونی بحثوں کو جنم دے سکتی ہیں۔
نفسیاتی پہلو: خوف، تحفظ یا بداعتمادی؟
نفسیاتی ماہرین کے مطابق قانون سازی کا مقصد تشدد کا سدباب ہوتا ہے، مگر جب روزمرہ رویے قانونی دائرے میں آجائیں تو اس سے گھریلو فضا پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ایک جانب متاثرہ افراد کو حوصلہ مل سکتا ہے کہ اب ان کے پاس ریاستی تحفظ موجود ہے۔ دوسری طرف خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اعتماد کی فضا متاثر ہو سکتی ہے اور معمولی تنازعات بھی قانونی کارروائی تک پہنچ سکتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر شکایات کے نظام کے ساتھ مشاورت، ثالثی اور نفسیاتی مدد کے مراکز کو مضبوط نہ کیا گیا تو قانون محض سزا کا آلہ بن کر رہ جائے گا، اصلاح کا ذریعہ نہیں۔
سماجی اثرات اور عوامی ردعمل
شہری سماجی حلقوں میں اس قانون کو خواتین کے حقوق کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ مذہبی اور سماجی گروہوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اس سے خاندانی ادارہ کمزور ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے: کچھ لوگ اسے ظلم کے خلاف ڈھال سمجھتے ہیں، تو کچھ کے نزدیک یہ قانون ازدواجی رشتوں میں غیر ضروری مداخلت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس تقسیم شدہ رائے نے واضح کر دیا ہے کہ قانون سے زیادہ اس کے نفاذ کا طریقہ فیصلہ کن ہوگا۔
تحقیقات کیسے ہوں گی؟ قانونی عمل کی نزاکت
قانون کے مطابق شکایت موصول ہونے پر عدالت سات دن کے اندر سماعت کی پابند ہوگی اور نوے دن میں فیصلہ دینا ہوگا۔ ملزم کو متاثرہ فریق سے دور رہنے کا حکم دیا جا سکتا ہے اور حتیٰ کہ جی پی ایس ٹریکر پہننے کی ہدایت بھی دی جا سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اصل امتحان تفتیشی مرحلہ ہوگا۔ بیوی کی جانب سے شکایت کی صورت میں پولیس کو شواہد، گواہوں، ڈیجیٹل ریکارڈ، میڈیکل رپورٹس اور نفسیاتی تجزیوں کی بنیاد پر تحقیقات کرنا ہوں گی۔ تاہم خدشہ ہے کہ اگر تفتیش کے معیارات واضح نہ ہوئے تو غلط یا جذباتی بنیادوں پر دائر ہونے والی شکایات عدالتی نظام پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔
مردوں کے لیے ممکنہ مشکلات
قانون کے ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اس میں غلط شکایات سے بچاؤ کے لیے مؤثر حفاظتی شقیں موجود ہیں؟ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ فوری حفاظتی احکامات، رہائش سے بے دخلی یا سفری پابندیاں مردوں کے لیے سماجی اور پیشہ ورانہ مسائل پیدا کر سکتی ہیں، خاص طور پر اگر الزام بعد میں ثابت نہ ہو۔
اسی لیے قانونی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انصاف کے تقاضوں کو برقرار رکھنے کے لیے شفاف تحقیقات، اپیل کے مؤثر فورمز اور جھوٹے الزامات کی صورت میں کارروائی کے طریقۂ کار کو بھی واضح کرنا ضروری ہوگا۔
قانون سے زیادہ نفاذ اہم ہوگا
ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026 ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کا مطالبہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ یہ قانون متاثرہ افراد کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے، لیکن اگر اس پر عملدرآمد میں توازن، شفافیت اور سماجی حساسیت نہ رکھی گئی تو یہ خاندانی نظام میں نئے تناؤ کو جنم دے سکتا ہے۔
بالآخر اصل کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ ریاست سزا کے ساتھ ساتھ اصلاح، مشاورت اور آگاہی کو کس حد تک فروغ دیتی ہے۔ کیونکہ مضبوط معاشرہ صرف قوانین سے نہیں، بلکہ اعتماد، انصاف اور سماجی شعور سے تشکیل پاتا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔