سانحہ گل پلازہ: ایک خاندان کی 3 خواتین کا کوئی سراغ نہ ملا، 4 مزید باقیات کی شناخت

لاپتا خواتین میں شہری قیصر علی کی بیوی، سالی اور بہو شامل، کوثر پروین ،حسام محمد، محمد اشرف، محمد عارف کی شناخت ہوگئی

فوٹو: فائل

کراچی:

سانحہ گل پلازہ میں ایک ہی خاندان کی 3 خواتین کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا جبکہ خاتون سمیت مزید 4 افراد کی باقیات کی شناخت ہوگئی۔

اس حوالے سے قیصر علی نامی شخص کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ سانحہ میرے گھر کی 3 خواتین بھی شہید ہوئی ہیں جس میں میری بیوی، میری سالی اور میری بہو شامل ہیں، میں اس بیان کے ذریعے چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ تک اپنی درد بھری اپیل پہنچانا چاہتا ہوں۔

 ہم نے لاپتہ افراد کی رپورٹس اور تمام قانونی دستاویزات ڈی سی ساؤتھ کے دفتر میں جمع کرا دی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ہمارے پیاروں کی باقیات ہمیں موصول نہیں ہوسکیں۔

ویڈیو میں انہوں نے اپیل کی کہ جب تک ڈی این اے رپورٹس مکمل نہ ہوجائیں، گل پلازہ کو منہدم نہ کیا جائے تاکہ شواہد محفوظ رہیں اور ہمیں اپنے پیاروں کی شناخت اور ان کی باعزت تدفین کا حق مل سکے۔

انھوں ںے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم انصاف چاہتے ہیں سیاست نہیں، ہم ایک متاثرہ اور بے سہارا خاندان ہیں ہمیں نعروں کی نہیں بلکہ عملی انصاف، تحفظ اور ریاستی تعاون کی ضرورت ہے۔


خاتون سمیت مزید 4 افراد کی باقیات کی شناخت

سانحہ گل پلازہ میں جھلس کر جاں بحق خاتون سمیت مزید 4 افراد کی باقیات کو شناخت کرلیا گیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹرسمیعہ اور شناخت پروجیکٹ کے سربراہ عامر حسن کے مطابق گل پلازہ کے ملبے سے نکالی گئی باقیات کو کوثرپروین ،حسام محمد، محمد اشرف اور محمد عارف کے نام سے شناخت کیا گیا۔

 اب تک پلازہ کے ملبے سے نکالی گئی 27 لاشوں اور باقیات کو شناخت کیا جاچکا ہے، جن میں سے 20 افراد کی باقیات کی شناخت ڈی این اے  کے ذریعے سندھ فارنزک ڈی این اے لیباٹری (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی سے ہوئی ہے۔

پولیس سرجن ڈاکٹرسمعیہ سید نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں 65 لاپتا افراد کے لیے 56 فیملی ریفرنس کے نمونے جمع کیے گئے۔

متعلقہ

Load Next Story