ہوش مندی سے کام لیا جائے
اگر سیاسی تحریکوں میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کا عنصر در آئے تو پھر نظام کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔
اگر سیاسی تحریکوں میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کا عنصر در آئے تو پھر نظام کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ فوٹو؛ اے ایف پی
حکومت نے ایک کام اچھا کیا کہ لاہور سے روانہ ہونے والے تحریک انصاف کے آزادی مارچ اور عوامی تحریک کے انقلاب مارچ کی راہ سے رکاوٹیں ہٹا لیں' لاہور ہائی کورٹ نے بھی یہ رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا تاہم 14 اگست تک بھی رکاوٹیں موجود رہیں۔آخری لمحات میں پولیس راستے سے ہٹ گئی اور رکاوٹیں ہٹانے کا عمل شروع ہوا بعض جگہ پر رکاوٹیں لانگ مارچ کے شرکاء نے خود ہٹائیں اور راستے کلیئر کیے اور وہ علاقے جو حصار میں لیے گئے تھے وہ حصار بھی ختم ہو گیا اس طرح لاہور میں جو گزشتہ کئی دنوں سے تنائو کی کیفیت جاری تھی وہ ختم ہوگئی۔
یوں یہ مارچ پرامن انداز میں لاہور سے روانہ ہوئے اور اگلے روز رات گئے تک یہ دونوں لانگ مارچ پرامن طریقے سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے، تاہم میڈیا کی اطلاعات کے مطابق گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ن کے ورکروں نے بھی جلوس نکالا اور انھوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے شرکاء پر پتھرائو کیا'اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا،عمران خان کے کنٹینر پر بھی پتھرائو کیا گیا اور جوتے پھینکے گئے جس کے باعث وہاں تصادم ہوا جس میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔پولیس کو پتھرائو کرنے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کرنا پڑی۔
ادھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بلوچستان کے پرامن مقام زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ کی اصل حالت میں بحالی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی تخریب کاری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ منفی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے' مثبت سیاست کا سوچنا چاہیے، ہماری توجہ ترقی سے نہ ہٹائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف آپریشن ضرب عضب جاری ہے تو دوسری طرف کوئی لانگ مارچ کر رہا ہے تو کوئی آزادی مارچ کر رہا ہے' اصل آزادی اور انقلاب مارچ یہ ہے کہ جہاں سول اور فوجی قیادت ایک جگہ اکٹھے ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی باتیں درست ہو سکتی ہیں لیکن نظر بظاہر یہی آتا ہے کہ انھوں نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مارچ کو منفی سیاست سے تعبیر کیا ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں اور عوامی انجمنیں اپنے مطالبات منوانے یا حکومت تک پہنچانے کے لیے مختلف طریقے یا آپشن استعمال کرتی ہیں' اس کے لیے تشہیری مہم بھی چلاتی ہیں۔ ذرایع ابلاغ میں مطالبات یا بیانات بھی دیتی ہیں' جلسے بھی منعقد کرتی ہیں اور جلوس بھی نکالتی ہیں۔
لانگ مارچ وغیرہ بھی ہوتے ہیں جو جمہوری نظام کا حصہ ہیں لیکن سیاسی جماعتیں یہ اقدام اس وقت اٹھاتی ہیں جب ان کے مطالبات کو حکومت کسی طرح بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ حکومت نے دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی پیشکش اس وقت کی جب لانگ مارچ شروع ہونے میں بہت کم دن رہ گئے تھے۔ اگر موجودہ حکومت تحریک انصاف کے ساتھ بہت پہلے مذاکرات کرتی اور اس کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرتی تو شاید بات یہاں تک نہ پہنچتی اور معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو چکے ہوتے۔
اس طرح عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کے ساتھ بھی سختی کے رویے کے بجائے مفاہمتی انداز اپنایا جاتا تو انھیں بھی کسی قابل قبول حل پر لایا جاسکتا تھا' حکومت کو اس حوالے سے اپنی ناکامی یا کوتاہی کو تسلیم کرنا چاہیے' اب جب کہ صورت حال خاصی گمبھیر ہوچکی ہے' تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے انقلاب مارچ کا پرامن انداز میں اپنی منزل تک پہنچنا انتہائی ضروری ہے۔
گوجرانوالہ میں جو واقعہ ہوا' یہ حکومت کے خلاف ایک سازش بھی ہو سکتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے مقامی رہنمائوں کو موجودہ صورت حال کی نزاکت کا ادراک کرنا چاہیے، 1977کی تحریک میں پیپلز پارٹی کے ورکروں نے بھی ایسا ہی طرز عمل اختیارکیا تھا جس کے باعث حالات زیادہ خراب ہوئے۔جب تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے قائدین نے حکومت کو لکھ کر دے دیا ہے کہ ان کے لانگ مارچ پرامن رہیں گے تو پھر مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی کارکنوں کو پرامن رہنے کے احکامات جاری کریں۔ ہنگامہ آرائی اور تشدد کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
اگر سیاسی تحریکوں میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کا عنصر در آئے تو پھر نظام کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔لانگ مارچ کے شرکاء کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ احتجاج پرامن رکھیں اور کسی قسم کی ہنگامہ آرائی پیدا نہ کی جائے اور ملک کو خانہ جنگی کی جانب نہ دھکیلا جائے۔ حکومت پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تشدد' گولی اور لاٹھی چارج کا رستہ نہ اپنائے اور احتجاج کو حکمت عملی سے نمٹے۔ سیاست میں بعض ایسے مقام بھی آ جاتے ہیں جب کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر مسائل کو حل کرنا پڑتا ہے' تصادم سے بچنے کے لیے اگر مفاہمت یا لچکدارانہ رویہ اختیار کرنا پڑتاہے تو اس سے بہتر راستہ کوئی نہیں۔
حکومتی ارباب کو بھی اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ افراتفری اور کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ملک کے دگرگوں کے معاشی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہر ممکن طور پر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کی سیاست سے گریز کیا جائے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکمران اپنا اقتدار بچانے کے لیے تشدد کا جو حربہ آزماتے ہیں اس سے عوامی احتجاج میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے جو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لے جانے سے بہتر ہے کہ اب بھی اسے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے قدم آگے بڑھایا جائے۔جمہوریت ایک طویل عرصے بعد پٹری پر چڑھی ہے اسے ڈی ریل ہونے سے بچانا حکومت میں شریک اور حکومت سے باہر تمام سیاستدانوں کی ذمے داری ہے۔ لہٰذا معاملات کو سدھارنے کے لیے ہوش مندی سے کام لیا جائے۔
یوں یہ مارچ پرامن انداز میں لاہور سے روانہ ہوئے اور اگلے روز رات گئے تک یہ دونوں لانگ مارچ پرامن طریقے سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے، تاہم میڈیا کی اطلاعات کے مطابق گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ن کے ورکروں نے بھی جلوس نکالا اور انھوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے شرکاء پر پتھرائو کیا'اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا،عمران خان کے کنٹینر پر بھی پتھرائو کیا گیا اور جوتے پھینکے گئے جس کے باعث وہاں تصادم ہوا جس میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔پولیس کو پتھرائو کرنے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کرنا پڑی۔
ادھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بلوچستان کے پرامن مقام زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ کی اصل حالت میں بحالی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی تخریب کاری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ منفی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے' مثبت سیاست کا سوچنا چاہیے، ہماری توجہ ترقی سے نہ ہٹائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف آپریشن ضرب عضب جاری ہے تو دوسری طرف کوئی لانگ مارچ کر رہا ہے تو کوئی آزادی مارچ کر رہا ہے' اصل آزادی اور انقلاب مارچ یہ ہے کہ جہاں سول اور فوجی قیادت ایک جگہ اکٹھے ہیں۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی باتیں درست ہو سکتی ہیں لیکن نظر بظاہر یہی آتا ہے کہ انھوں نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مارچ کو منفی سیاست سے تعبیر کیا ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں اور عوامی انجمنیں اپنے مطالبات منوانے یا حکومت تک پہنچانے کے لیے مختلف طریقے یا آپشن استعمال کرتی ہیں' اس کے لیے تشہیری مہم بھی چلاتی ہیں۔ ذرایع ابلاغ میں مطالبات یا بیانات بھی دیتی ہیں' جلسے بھی منعقد کرتی ہیں اور جلوس بھی نکالتی ہیں۔
لانگ مارچ وغیرہ بھی ہوتے ہیں جو جمہوری نظام کا حصہ ہیں لیکن سیاسی جماعتیں یہ اقدام اس وقت اٹھاتی ہیں جب ان کے مطالبات کو حکومت کسی طرح بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ حکومت نے دھاندلی کے الزامات کی انکوائری کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی پیشکش اس وقت کی جب لانگ مارچ شروع ہونے میں بہت کم دن رہ گئے تھے۔ اگر موجودہ حکومت تحریک انصاف کے ساتھ بہت پہلے مذاکرات کرتی اور اس کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرتی تو شاید بات یہاں تک نہ پہنچتی اور معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو چکے ہوتے۔
اس طرح عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کے ساتھ بھی سختی کے رویے کے بجائے مفاہمتی انداز اپنایا جاتا تو انھیں بھی کسی قابل قبول حل پر لایا جاسکتا تھا' حکومت کو اس حوالے سے اپنی ناکامی یا کوتاہی کو تسلیم کرنا چاہیے' اب جب کہ صورت حال خاصی گمبھیر ہوچکی ہے' تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے انقلاب مارچ کا پرامن انداز میں اپنی منزل تک پہنچنا انتہائی ضروری ہے۔
گوجرانوالہ میں جو واقعہ ہوا' یہ حکومت کے خلاف ایک سازش بھی ہو سکتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے مقامی رہنمائوں کو موجودہ صورت حال کی نزاکت کا ادراک کرنا چاہیے، 1977کی تحریک میں پیپلز پارٹی کے ورکروں نے بھی ایسا ہی طرز عمل اختیارکیا تھا جس کے باعث حالات زیادہ خراب ہوئے۔جب تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے قائدین نے حکومت کو لکھ کر دے دیا ہے کہ ان کے لانگ مارچ پرامن رہیں گے تو پھر مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی کارکنوں کو پرامن رہنے کے احکامات جاری کریں۔ ہنگامہ آرائی اور تشدد کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
اگر سیاسی تحریکوں میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کا عنصر در آئے تو پھر نظام کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔لانگ مارچ کے شرکاء کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ احتجاج پرامن رکھیں اور کسی قسم کی ہنگامہ آرائی پیدا نہ کی جائے اور ملک کو خانہ جنگی کی جانب نہ دھکیلا جائے۔ حکومت پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تشدد' گولی اور لاٹھی چارج کا رستہ نہ اپنائے اور احتجاج کو حکمت عملی سے نمٹے۔ سیاست میں بعض ایسے مقام بھی آ جاتے ہیں جب کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر مسائل کو حل کرنا پڑتا ہے' تصادم سے بچنے کے لیے اگر مفاہمت یا لچکدارانہ رویہ اختیار کرنا پڑتاہے تو اس سے بہتر راستہ کوئی نہیں۔
حکومتی ارباب کو بھی اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ افراتفری اور کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ملک کے دگرگوں کے معاشی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہر ممکن طور پر توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کی سیاست سے گریز کیا جائے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکمران اپنا اقتدار بچانے کے لیے تشدد کا جو حربہ آزماتے ہیں اس سے عوامی احتجاج میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے جو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لے جانے سے بہتر ہے کہ اب بھی اسے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے قدم آگے بڑھایا جائے۔جمہوریت ایک طویل عرصے بعد پٹری پر چڑھی ہے اسے ڈی ریل ہونے سے بچانا حکومت میں شریک اور حکومت سے باہر تمام سیاستدانوں کی ذمے داری ہے۔ لہٰذا معاملات کو سدھارنے کے لیے ہوش مندی سے کام لیا جائے۔