ورلڈ کپ کا بائیکاٹ، سابق بورڈ سربراہان کی مختلف آراء سامنے آگئیں
آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر کیے جانے اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے فیصلے کے پاکستان میگا ایونٹ میں شرکت کرتا ہے یا نہیں، یہ فیصلہ ہونا باقی ہے تاہم اس حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
بھارتی رویے پر بنگلہ دیش کے اخراج سے سامنے آنے والی صورتحال میں پاکستان بھی ٹی 20 ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر غور کررہا ہے، البتہ اس معاملے پر پی سی بی کے 2 سابق سربراہان کی رائے مختلف ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے، بی بی سی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش سے متعلق آئی سی سی کے فیصلے میں کسی اور بورڈ نے اعتراض نہیں کیا، کونسل نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا لہٰذا پاکستان کو اب معاملے کو طول دینے کے بجائے اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے موقف کے اصولی ہونے پر کوئی شک نہیں لیکن پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کا ایک اہم رکن ہے، پاک بھارت میچ کے نشریاتی حقوق کا بھی معاملہ ہے، ان حالات میں پاکستان کے لیے اس میچ کا بائیکاٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا، اب کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ حکومت پر چھوڑدیا ہے، دیکھنا ہوگا کہ حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔
دوسری جانب ایک اور سابق چیئرمین خالد محمود اس رائے سے متفق دکھائی نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو اپنے اْصولی موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے، ایک بار پھر آئی سی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کریں، ہمیں دیگر ارکان کو یہ باور کرانا چاہیے کہ بھارت ہر بار کھیل میں سیاست لے کر آتا ہے، یہ سلسلہ رُکنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کبھی بھارتی کرکٹر ہاتھ نہیں ملاتے، کبھی ٹرافی وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں، کبھی کسی دوسرے ملک میں جا کر کھیلنے سے انکار کرتے ہیں، آئی سی سی کے دیگر رکن ممالک کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ آخر بھارت کے ساتھ ہی ہرملک کا تنازع کیوں ہوتا ہے۔
خالد محمود نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کئی ٹیمیں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان آنے سے انکار کرتی رہی ہیں، آئی سی سی نے کسی ٹیم کو پاکستان جا کر کھیلنے پر مجبور نہیں کیا تو اب بنگلہ دیش کو بھارت جانے پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے، اگر اْصولوں کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر بھی قربان کرنے پڑیں تو اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، دنیا پیسہ نہیں اصول دیکھتی ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ جمعہ یا پیر تک کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔