قانون، خاندان اور فکری دیوالیہ پن
غلط سوچ اور تصورات لے کر جب دو لوگوں کو نئے رشتے میں باندھ دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج بھی منفی نکلتے ہیں، فوٹو:فائل
میاں بیوی کا رشتہ کسی ریاستی ضابطے یا قانونی شق کا محتاج نہیں، بلکہ یہ محبت، برداشت، درگزر اور باہمی اعتماد سے تشکیل پانے والی وہ اخلاقی و سماجی اکائی ہے جس پر پورا خاندانی نظام استوار ہوتا ہے۔
خاندان کمزور پڑ جائے تو معاشرہ محض افراد کا ہجوم بن جاتا ہے۔ بے سمت، بے ربط اور جذباتی طور پر غیر محفوظ۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں خاندانی معاملات سے متعلق جو قانون سازی سامنے آرہی ہے، اس میں انسانی نفسیات، معاشرتی ساخت اور معاشی حقیقتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے محض وقتی جذبات، میڈیا کے بنائے ہوئے بیانیے اور سیاسی نعرہ بازی کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔
طلاق کی محض دھمکی پر شوہر کو تین سال قید کی سزا جیسی تجاویز اسی فکری سطحیت اور جذباتی قانون سازی کی عکاس ہیں۔
بظاہر یہ اقدامات خواتین کے تحفظ کے نام پر پیش کیے جاتے ہیں، مگر جب انہیں پاکستانی سماج کے زمینی حقائق پر پرکھا جائے تو یہ کسی تحفظ کے بجائے ایک منظم خاندانی انہدام کا خاکہ بن جاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ عورت کو تحفظ ملنا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کس قیمت پر، کس طریقے سے اور کس انجام کے ساتھ؟
فرض کیجیے، کسی گھریلو تنازعے کے دوران، جذباتی کیفیت یا بیرونی دباؤ کے تحت ایک خاتون اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کرا دیتی ہے اور وہ شخص تین سال کے لیے جیل چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس گھر کا معاشی، نفسیاتی اور سماجی نظام کس کے رحم و کرم پر ہوگا؟
کیا ریاست اس خاتون کو مستقل روزگار، بچوں کی معیاری تعلیم، صحت، ذہنی بحالی اور سماجی تحفظ فراہم کرے گی؟
یا پھر ایک پہلے سے معاشی و سماجی دباؤ کا شکار عورت کو ایک ایسی جدوجہد میں دھکیل دیا جائے گا جس کی قیمت سب سے پہلے بچے ادا کریں گے؟
یہاں ایک اور بنیادی انسانی سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا قید سے واپس آنے والا شوہر اس رشتے کو عزت، اعتماد اور محبت کے ساتھ دوبارہ قبول کر پائے گا؟
عملی تجربہ بتاتا ہے کہ قید اصلاح نہیں، بلکہ تلخی اور انتقام کو جنم دیتی ہے۔ ایسے قوانین رشتوں کو جوڑنے کے بجائے دشمنی کو ادارہ جاتی شکل دے دیتے ہیں، اور اکثر صورتوں میں جیل سے واپسی کے بجائے وہیں سے طلاق کے کاغذات روانہ ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک وقتی غصہ مستقل جدائی میں ڈھل جاتا ہے۔
یہ مسئلہ محض نظری بحث نہیں رہا۔ پاکستان میں طلاق اور خلع کے مقدمات میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خصوصاً شہری علاقوں میں جہاں خاندانی عدالتیں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ ہزاروں خواتین علیحدگی کے بعد معاشی عدم تحفظ، سماجی تنہائی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، جبکہ بے شمار بچے ایسے ٹوٹے ہوئے گھروں میں پرورش پا رہے ہیں جہاں باپ کی عدم موجودگی اور ماں کی مجبوریوں نے ان کی نفسیاتی نشوونما کو شدید متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے بچے تعلیمی کمزوری، جذباتی عدم توازن اور معاشرتی بے یقینی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کا ازالہ کسی ایک سخت قانون سے ممکن نہیں۔
اس پورے عمل کا سب سے بڑا نقصان عورت اور بچوں دونوں کو ہوتا ہے۔ عورت ایک ایسی سنگل مدر بن جاتی ہے جو معاشی دباؤ، سماجی بدنامی اور نفسیاتی تھکن کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے، جبکہ بچے ایک ایسے خلا میں پرورش پاتے ہیں جہاں نہ باپ کا سایہ میسر ہوتا ہے اور نہ ہی ماں مکمل ذہنی اور جذباتی توجہ دینے کے قابل رہتی ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ برسوں سے ڈراموں اور میڈیا کے ذریعے خاندانی تنازعات کو بغاوت، آزادی اور خود مختاری کے رومانوی استعاروں میں پیش کیا جاتا رہا، اور اب اسی ذہنی بیانیے کو قانونی شکل دی جا رہی ہے۔
یہ سمجھ لینا کہ ایسے قوانین چند مخصوص علاقوں یا طبقات تک محدود رہیں گے، ایک خطرناک خوش فہمی ہے۔ جب یہ فکری آگ عام گھروں تک پہنچے گی تو سب سے پہلے عورت اور بچے ہی اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔
اصل ضرورت سخت اور جذباتی قوانین نہیں بلکہ سنجیدہ، دوراندیش اور انسان دوست سماجی حکمتِ عملی ہے۔ ریاست کا کردار خاندان توڑنا نہیں بلکہ مصالحت، کونسلنگ، نفسیاتی معاونت، معاشی تحفظ اور اخلاقی تربیت کے ذریعے رشتوں کو بچانا ہونا چاہیے۔ اسلام نے بھی علیحدگی کو آخری حل کے طور پر تسلیم کیا ہے، مگر اس کے ساتھ وقار، عدل اور احسان کو لازم قرار دیا ہے۔ نہ کہ قید، تذلیل اور دائمی دشمنی کو۔
آخر میں یہ حقیقت پورے شعور کے ساتھ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ خاندان قانون کے زور پر نہیں بلکہ کردار کے سہارے چلتے ہیں۔ مرد ہوں یا عورتیں، جب تک برداشت، خود احتسابی، تزکیۂ نفس اور ایک دوسرے کی عزت کا شعور پیدا نہیں کیا جائے گا، تب تک کوئی قانون رشتوں کو نہیں بچا سکتا۔
اختلاف زندگی کا حصہ ہے، مگر اختلاف کو دشمنی اور غصے کو مقدمے میں بدل دینا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ اسی طرح ریاست کا کام جذباتی قوانین بنا کر جیلیں بھرنا نہیں، بلکہ ایک فلاحی ریاست کے طور پر شہریوں کو ایسا نظام دینا ہے جو رشتوں کو بچائے، گھر آباد رکھے اور بچوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرے۔
یاد رکھیے! جو ریاست برداشت، اصلاح اور تزکیۂ نفس کے ماحول کو فروغ دینے کے بجائے انتقام اور سختی کی راہ اختیار کرتی ہے، وہ نہ خاندانوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے اور نہ ہی معاشرے کو استحکام دے سکتی ہے۔ بلکہ وہ پوری قوم کو ایک مسلسل اخلاقی اور سماجی آزمائش میں مبتلا کر دیتی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔