لاہور، مین ہول سے آؤٹ فال تک داتا دربار سانحہ نے حفاظتی نظام پر سوال اٹھا دیے
لاہور کے قلب داتا دربار کے سامنے جاری ترقیاتی منصوبے کے دوران ماں بیٹی کے مبینہ طور پر کھلے مین ہول میں گرنے کے واقعے نے ایک شدید تنازع کی شکل اختیار کر لی ہے۔
ایک طرف ریسکیو، پولیس اور سیف سٹی کیمروں نے حادثے کی تصدیق کی، وہیں دوسری جانب حکومتی ترجمان اور انتظامیہ کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔
واقعے کے بعد جائے حادثہ کو سبز کپڑے اور لوہے کی چادروں سے مکمل سیل کر دیا گیا۔ خاتون کی لاش آؤٹ فال روڈ ڈسپوزل سے ملنے کے بعد ریسکیو آپریشن رات گئے روک دیا گیا تھا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق جائے حادثہ سے بچی کی لاش ملنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، تاہم ڈرین کے تمام راستوں اور ڈسپوزل اسٹیشن پر آج دوبارہ سرچ آپریشن کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق صبح ہوتے ہی واسا اور ریسکیو کی جانب سے مختلف مقامات پر دوبارہ سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
اس سانحے نے حکومت، پولیس، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ترجمان نے ایک ہی گھنٹے میں دو متضاد بیانات جاری کیے، جن میں پہلے حادثے کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔
تاہم اسی “جھوٹی اطلاع” کے باوجود حکومت نے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر ٹیپا کو معطل کیا اور تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی، جو اپنی رپورٹ آج شام تک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو پیش کرے گی۔
حکومتی ترجمان کے دوسرے بیان میں پولیس کی ابتدائی تفتیش کا حوالہ دیتے ہوئے متوفی خاتون کے شوہر پر شدید تنازعات اور سنگین الزامات کا ذکر کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق خاتون کے والد نے پولیس سے رابطہ کر کے دعویٰ کیا کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے اور سسرالیوں کو گرفتار کیا جائے۔ پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لیا۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واضح طور پر کہا کہ داتا دربار کے اندر اور باہر نصب سی سی ٹی وی کیمروں نے حادثے کی تصدیق کر دی ہے اور متوفی خاتون کے شوہر کی بیان کردہ ہر بات سچ ثابت ہوئی ہے۔
تاہم ریسکیو ذرائع کے ابتدائی موقف میں کہا گیا کہ جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی، اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔
لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا گیا، لیکن کافی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق جائے حادثہ کے اطراف رات کے اوقات میں عارضی پارکنگ اسٹینڈ کا قیام اور ترقیاتی منصوبے کے گرد حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا انتظامیہ کی کھلی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔