کپتان کا ابھی نہیں سوچا، بابراعظم کو شامل کرنا چاہتے ہیں، اونر حیدرآباد فرنچائز

اچھا ہوتا کہ کوئی ریٹینشن نہیں کی جاتی اور زیرو سے آغاز ہوتا، فواد سرور

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی نئی فرنچائز حیدرآباد نے کوچنگ کی ذمہ داری آسٹریلیا کے جیسن گلیسپی کو سونپ دی ہے۔

حیدرآباد ٹیم کے اونر فواد سرور نے امریکا سے ایکسپریس کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ کریگ وائٹ اور گرانٹ بریڈ برن اسسٹنٹ کوچز ہوں گے۔

فواد سرور کے مطابق غیر ملکی کوچز کی تقرری سے کھلاڑیوں کو خاصہ فائدہ ہوگا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ قیادت میں پاکستانی یا غیر ملکی کسی کا کوئی حق نہیں کہ نام بڑا یا سینئر پلیئر ہے تو اسے ہی ذمہ داری ملے گی، ہمارا اپنا ایک طریقہ کار ہے جس پر مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔

ٹیم اونر نے کہا کہ کپتان تو کسی کو بھی بنایا جا سکتا ہے لیکن اسے اچھا لیڈر ہونا چاہیے، جو بھی مناسب پلیئر ہوگا ہم اس کو قیادت سونپیں گے۔

فواد سرور نے کہا کہ بابر اعظم میرے پسندیدہ کرکٹر ہیں، اگر چانس بنا تو ہم انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہیں گے۔ فی الحال کسی اور کھلاڑی کے بارے میں نہیں سوچا، جب پتہ چلے گا کہ کس ٹیم نے کسے برقرار رکھا ہے تب ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آکشن سے اچھا کوئی اور اقدام ہو ہی نہیں سکتا تھا، چیئرمین پی سی بی اور مینجمنٹ نے بہترین فیصلہ کیا، ہم واحد گروپ تھے جس نے زور لگایا جس پر بعد میں دیگر کو بھی آنا پڑا۔

حیدرآباد ٹیم اونر کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام کھیلوں میں یہی طریقہ رائج ہے، آکشن سے نہ صرف پلیئرز بلکہ ٹیم اونرز کو بھی فائدہ ہوتا ہے، اگر کوئی کھلاڑی اچھا پرفارم کر رہا ہو تو اس کو اسی لحاظ سے صلہ ملتا ہے، اسی طرح اگر پلیئر جانتا ہو کہ آکشن میں جانا ہے تو اسے اضافی محنت کرنا پڑے گی۔

فواد سرور نے مزید کہا کہ ڈائریکٹ سائننگ کے لیے میرے ذہن میں کئی نام ہیں لیکن ان کھلاڑیوں کی مصروفیات بھی دیکھنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کوچز اور مینجمنٹ اس پر کام کر رہے ہیں، مختلف اچھے کھلاڑیوں سے رابطے کیے گئے ہیں، البتہ ابھی میں کسی کا نام نہیں بتا سکتا کیونکہ بات چیت جاری ہے۔

2 ارب میں بھی ٹیم ملتی تو ضرور خریدتا

فواد سرور نے کہا ہے کہ اگر پی ایس ایل کی ٹیم 2 ارب روپے میں بھی ملتی تو ضرور خریدتا، میں کرکٹ کا بہت شوقین ہوں، وقت کے ساتھ یہ شوق بڑھتا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکا میں کرکٹ کی سرگرمیوں میں حصہ لے ہی رہے تھے، امریکی لیول پر ٹیم نے کھیلنے کے ساتھ آسٹریلیا کا دورہ بھی کیا، پھر جب پی ایس ایل میں ٹیم لینے کا موقع نظر آیا تو ہم نے سوچا کوشش کرتے ہیں، شکر ہے کامیاب بھی رہے۔

حیدرآباد ٹیم اونر نے کہا کہ ٹیمیں فروخت کرنے سے قبل پی سی بی نے اچھے روڈ شوز کیے، ان کیلیے مومینٹم بھی بنا، البتہ ہم نے اس سے پہلے سے ٹیم خریدنے کا سوچ لیا تھا۔

فواد سرور نے کہا کہ ہم نے بڈنگ سے پہلے اپنا ہوم ورک کیا ہوا تھا، اپنی ورکنگ کے حساب سے ہمیں اندازہ تھا کہ بڈ کہاں تک جا سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کافی عرصے سے پی ایس ایل کے حوالے سے یہی باتیں سامنے آرہی تھیں کہ پیسہ نہیں بن رہا لیکن ملک سے باہر معاملات کو مختلف انداز سے دیکھا جاتا ہے، ہم بھی یہ دیکھ رہے تھے، ہم نے بعض افراد سے مشاورت کی اور پھر یہ سوچ لیا کہ کس طرح بڈنگ میں حصہ لیں گے۔

حیدرآباد ٹیم اونر نے بتایا کہ بڈ کے حوالے سے میری طرف سے اپنی ٹیم کو یہی ہدایت تھی کہ کوئی حد نہیں ہے، وننگ بڈ ہماری ہونی چاہیے، جب ہم نے دوسروں کو بڈز کرتے دیکھا تو پھر اسی حساب سے اپنی بڈز بڑھائیں، اگر بڈز 2 ارب سے زائد تک جاتیں تو بھی ہم پیچھے نہیں ہٹتے۔

فواد سرور نے کہا کہ ڈالرز ہوں یا روپے بڑی رقم تو جس میں بھی ہو بڑی ہی رہتی ہے، میری سوچ یہ ہے کہ اگر آپ کو کچھ خریدنا ہے تو اچھے طریقے سے ویلیو دیکھیں اور استعمال کیسے کریں گے یہ سوچیں، پھر اگر سمجھ آ رہا ہو تو پیسے اس وقت اہمیت نہیں رکھتے، اسے لے لینا چاہیے۔

ٹیم کا مکمل نام اور لوگو کا سوچا ہوا ہے

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی ٹیم کا مکمل نام اور لوگو کا سوچا ہوا ہے بس لانچنگ کیلیے درست موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔

فواد سرور نے کہا کہ پی سی بی نے آکشن کیلیے تاریخ کا بتا دیا ہے، ہم اس کے قریب ہی اعلان کریں گے، ہماری ٹیم اس پر کام کر رہی ہے، ہم اس حوالے سے ایک بہت اچھا ایونٹ کرانا چاہتے ہیں۔

خود پر کوئی مالی بوجھ ڈالے بغیر پی ایس ایل فرنچائز کو چلا سکتے ہیں

فواد سرور نے کہا کہ فنانشل ماڈل پر بعد میں بات ہو تو بہتر ہے، ابھی تو آکشن پر ہی کافی شور مچا ہے، اس پر کچھ کہا تو نجانے کیا ہو جائے گا، فی الحال میرے ذہن میں یہ بات نہیں آئی، جب ساری چیزیں ہمارے سامنے آئیں گی تو مناسب وقت پر بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ جو سرمایہ کاری کریں وہ واپس کیسے آئے گی اس کا سوچتے تو ہیں لیکن اسپورٹس کی ٹیموں کو نفع نقصان میں نہیں دیکھا جاتا، کرکٹ فرنچائز کا الگ ماڈل ہوتا ہے یہ ویلیو بیس ہوتی ہے، اسے ریئل اسٹیٹ کی طرح دیکھنا ہوتا ہے، یہ ایک اثاثہ ہوتا ہے، اسے برانڈ کی طرح آگے لے کر جاتے ہیں۔

فواد سرور نے بتایا کہ ہمارے جو کرکٹ کے کرنٹ آپریشنز چل رہے ہیں ہم ان میں پرافٹ میں ہی ہیں، ہم  خود پر کوئی مالی بوجھ ڈالے بغیر پی ایس ایل فرنچائز کو بھی چلا سکتے ہیں۔

پی ایس ایل ٹیموں کا سیلری کیپ بہت زیادہ ہونا چاہیے

فواد سرور نے کہا کہ پی ایس ایل ٹیموں کا سیلری کیپ بہت زیادہ ہونا چاہیے، ورنہ چیلنجز آتے رہیں گے،  اس بار بورڈ نے کچھ اضافہ کر کے اچھا کیا، اگر آپ خود اپنی پروڈکٹ کی اہمیت نہیں جانیں گے تو کسی اور سے کیسے توقع رکھ سکتے ہیں۔ اسپانسرز اور براڈ کاسٹنگ حقوق سے کیسے زیادہ رقم کما سکتے ہیں۔

ندیم عمر بہت اچھے انسان ہیں

فواد سرور نے کہا کہ دیگر اونرز سے میرا زیادہ تعارف نہیں ہے، البتہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اونر ندیم عمر بھائی سے دو، تین سال سے بات چیت ہے، وہ بہت اچھے انسان ہیں، بہت خیال بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ندیم عمر کے سوا اور کسی سے جان پہچان نہیں ہے لیکن وہ سب بھی بہت اچھے لوگ ہی ہوں گے، آہستہ آہستہ بات ہوتی رہے گی۔

امریکا میں میچز کا پی سی بی کا کبھی ارادہ ہوا تو ہرممکن تعاون کریں گے

فواد سرور نے کہا کہ امریکا میں میچز کا پی سی بی کا کبھی ارادہ ہوا تو ہر ممکن تعاون کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہیوسٹن میں موجود موسیٰ اسٹیڈیم کو گزشتہ برس ہم نے حاصل کیا اور اسے اپ گریڈ کر رہے ہیں، اسے ٹیسٹ پلئینگ اقوام کے وینیوز کی طرح عالمی معیار کا بنایا جائے گا۔

فواد سرور نے کہا کہ شائقین کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ فلڈ لائٹس بھی لگائیں گے، ہم ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی کام کریں گے تاکہ براڈ کاسٹنگ وغیرہ اچھے انداز میں ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا میں باقی 2 مقامات پر بھی اسٹیڈیم بنا رہے ہیں، میں ابھی ان کے نام ظاہر نہیں کر سکتا، وہاں ابھی پرمٹ، تعمیراتی ڈیزائن وغیرہ کا کام ابتدائی مراحل میں ہے، جلد ہی اس پر اپ ڈیٹ جاری کی جائے گی۔

نیاز اسٹیڈیم کو اپ گریڈ کرنے کے لیے ضرور کام کریں گے

فواد سرور نے کہا کہ میرا حیدرآباد سے تعلق ہے، اسی لیے اس نام سے ٹیم لی، میں اور میرے بہن بھائی وہیں پیدا ہوئے، ہمارے والدین نے وہیں ہمیں بڑا کیا، مجھے جب پتا چلا کہ آکشن جیتنے پر کسی شہر کا بھی نام رکھ سکتے ہیں تو وہیں سے دلچسپی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی، میرے ذہن میں کوئی اور شہر نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری ٹیم کے حوالے سے بورڈ سے بات ہوئی تو پہلا سوال یہی تھا کہ کیا نیاز اسٹیڈیم کو اپ گریڈ کرنے کی اجازت ملے گی، مثبت جواب ملنے پر ہی آگے بڑھے، ہم اس حوالے سے ضرور کام کریں گے، پی سی بی نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ وہاں جلد از جلد کام شروع ہو سکے۔

آئی پی ایل سے تاریخوں میں تصادم سے فرق نہیں پڑے گا

پی ایس ایل اور آئی پی ایل کی تاریخوں میں تصادم کے حوالے سے فواد سرور نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، میری دلچسپی پی ایس ایل میں ہے، اس دوران کوئی اور ایونٹ ہو رہا ہو تو مجھے فرق نہیں پڑتا، ہم جس کام میں شامل ہوں گے اسے بہت اچھے انداز میں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ بھی تفریح کا ذریعہ ہی ہے، ایک ہی وقت ٹی وی پر بہت سے شوز چل رہے ہوتے ہیں، فلمیں بھی آئی ہوتی ہیں لیکن سب کے اپنی فالووئنگ ہوتی ہے جو برقرار رہتی ہے۔

ہمارے پلیئرز پر مالی یا ہیلتھ کیئر کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا

فواد سرور نے کہا کہ پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلادیش، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقا کے بھی کھلاڑی ہماری اس ٹیم میں شامل ہیں جو امریکی لیگز میں حصہ لیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کافی اچھا ٹیلٹ ہے، ان میں سے جو پلیئرز طریقہ کار پر پورا اترے ہماری پوری کوشش ہو گی کہ انہیں پی ایس ایل کی اپنی ٹیم میں بھی شامل کریں۔

فواد سرور نے کہا کہ حتمی فیصلہ تو کوچز وغیرہ کا ہی ہوگا، البتہ ہماری کوشش یہی ہو گی کہ ہمارے جو پلیئرز امریکا میں کافی عرصے سے ہمارے ساتھ ہیں ان کو موقع ملے، میرے لیے بھی اس سے بڑی خوشی کوئی اور نہیں ہو گی کہ وہ لوگ بھی پی ایس ایل میں حصہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پلیئرز کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں، ان کی عزت کرتے ہیں، انہیں ذہنی طور پر پریشانی سے دور رکھنے کی کوشش ہوتی ہے، ان پر مالی بوجھ، ہیلتھ کیئر کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا، اس لیے توجہ صرف اپنے کھیل اور ٹریننگ پر ہوتی ہے۔

فواد سرور نے بتایا کہ ہم نے امریکا میں زبردست نیوٹریشنسٹ اور ٹرینرز رکھے ہوئے ہیں، ہم ٹیکنالوجی کا بھی اچھا استعمال کرتے ہیں، پی ایس ایل میں بھی آپ فرق دیکھیں گے۔

کوئی ریٹینشن نہ کرتے ہوئے زیرو سے آغاز کرنا مناسب ہوتا

فواد سرور نے کہا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ بات ہوئی ہے اتنے برس سے کوئی کھلاڑی ٹیم کے ساتھ تھا اب جانا پڑے گا، کھیلوں میں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیئں، جب کوئی نئی ٹیم آئے تو نئے طریقے سے آغاز کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی طورپر میں پی سی بی کے فیصلے سے خوش ہوں لیکن اچھا یہی ہوتا کہ کوئی ریٹینشن نہیں کی جاتی اور زیرو سے آغاز ہوتا، یہ کسی کا استحقاق نہیں کہ اگر کوئی 10 سال سے آپ کے ساتھ ہے تو ہمیشہ رہے گا۔

Load Next Story