تعلیم کے نام پر تجارت؛ نجی اسکولوں کے اساتذہ، سستے ترین مزدور
تعلیم کو دنیا کے ہر معاشرے میں ہمیشہ سے ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں استاد کو روحانی باپ، کردار ساز اور قوم کا معمار جیسے القابات سے نوازا گیا۔
پاکستان میں جہاں سرکاری تعلیمی نظام کی بدحالی سے ہرکوئی واقف ہے، وہیں نجی تعلیمی اداروں کی صورت حال بھی بہت زیادہ قابل تعریف نہیں ہے۔ آج ہم نجی تعلیمی اداروں کے دیدہ زیب اشتہارات، شان دار چمکتی عمارتیں، جدید یونیفارمز اور ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز دیکھتے ہیں تو اس چکاچوند کے پیچھے ایک ایسا سیاہ اور بے رحم نظام چھپا نظر آتا ہے جس میں سب سے زیادہ پسنے والا کردار استاد کا ہے۔
نجی اسکولوں کے اساتذہ کی شکل میں دستیاب یہ سستے ترین مزدور، جو کسی بھی سخت موسم یا حالات کی پروا نہ کرتے ہوئے ہر صبح اپنے چہروں پر مسکراہٹ سجا کر بچوں میں علم کا نور بانٹتے ہیں، شام کو اپنی تذلیل، محرومیوں اور معاشی بدحالی کا بوجھ اٹھا کر گھروں کو لوٹتے ہیں۔
تعلیم گاہیں یا منافع کی فیکٹریاں
پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں کا تیز رفتار پھیلاؤ اس شعبے میں ریاست کی ناکامی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی نے والدین کو نجی اسکولوں کی طرف دھکیلا اور یوں تعلیم ایک پراڈکٹ بن گئی، اسکول ایک فیکٹری، والدین کسٹمر، طلبہ مال اور استاد ایک کم اجرت پر رکھا گیا مزدور۔
کراچی کے ایک معروف اسکول میں پڑھانے والی خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ’’ہمیں انٹرویو میں بتایا گیا تھا کہ ہم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ملازمت پر رکھے جا رہے ہیں، لیکن نوکری ملنے کے بعد احساس دلایا گیا کہ کہ ہم دراصل ’فیس وصولی کے نظام‘ کا ایک حصہ ہیں، جہاں استاد کی عزت اور پیشہ ورانہ قابلیت نہیں بلکہ ’کارکردگی‘ دیکھی جاتی ہے‘‘۔
نجی اسکولوں پر سروے کرنے، اساتذہ، والدین اور طلبا سے گفتگو کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے ان ’’کمپنیوں‘‘ کا اندرونی ڈھانچہ کسی جمہوری ادارے کے بجائے ایک آمرانہ جاگیرداری نظام کی تصویر پیش کرتا ہے، جہاں قانون صرف مالکان کی مرضی کا دوسرا نام ہے۔
جابرانہ طرز کا نظام
ملک کے بہت سے نجی اسکول بظاہر جدید ہیں، مگر اندر سے ایک آمرانہ طرزِ انتظام رکھتے ہیں۔ یہاں آئین نہیں، مالک کی مرضی قانون ہوتی ہے۔ بہت سے اساتذہ کو ملازمت کے وقت باقاعدہ تقرر نامہ یا معاہدہ نہیں دیا جاتا اور اگر دیا بھی جائے تو اکثر یکطرفہ شرائط پر مشتمل ہوتا ہے۔
نجی اسکولوں کے عام قوانین میں چند منٹ لیٹ ہونے پر تنخواہ کٹ جانا، بیماری میں میڈیکل سرٹیفکیٹ کے باوجود چھٹی نہ ملنا، شو کاز نوٹس کا بے جا استعمال، تنخواہ روکنے کی دھمکی اور آپ کے پاس متبادل بہت ہیں والی نفسیاتی جنگ شامل ہے۔
تنخواہ یا خیرات؟ اساتذہ کا معاشی استحصال
نجی اسکولوں میں اساتذہ کے ساتھ سب سے بڑا ظلم ان کا معاشی استحصال ہے۔ ہزاروں روپے فی طالب علم فیسیں لینے والے اسکول اپنے اساتذہ کو ایسی تنخواہیں دیتے ہیں جو اکثر کم از کم مقرر کی گئی اجرت سے بھی کم ہوتی ہیں۔
ایک اسکول میں ساتویں جماعت کے طلبا کو پڑھانے والے سر عارف محمود نے بتایا کہ میرا دن صبح 7 بجے شروع ہوتا ہے اور شام 5 بجے ختم۔ تنخواہ 22 ہزار روپے ہے، وہ بھی کبھی وقت پر نہیں ملتی، جس کے نتیجے میں، میں مستقل قرض کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہوں۔
نجی اسکولوں میں تنخواہوں کی خوفناک صورتحال
• دو دو ماہ کی تاخیر
• قسطوں میں ادائیگی
• غیر ضروری کٹوتیاں
• ایونٹس اور فنڈز کے نام پر زبردستی چندہ
اس طرح کے جبری اقدامات بے بس اور مجبور اساتذہ کی سفید پوشی کو روندنے کے مترادف ہیں۔
کام کا پہاڑ؛ ایک استاد، درجنوں ذمے داریاں
نجی اسکولوں میں استاد کو ایک ملٹی ٹاسکنگ مشین سمجھا جاتا ہے، جہاں تدریسی بوجھ اٹھائے یہ مزدور روزانہ 6 تا 8 پیریڈز کھڑے ہوکر اور بغیر کسی وقفے کے انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر انتظامی بوجھ بھی لادا جاتا ہے، جس میں رجسٹرز بھرنا، فائلوں کا حساب، ڈائریوں کی جانچ، ایونٹس کی منصوبہ بندی، ڈیکوریشن کے کام اور رپورٹس کی تیاریاں شامل ہیں۔
رکیں رکیں، استاد کا فرض ابھی ختم نہیں ہوا، ابھی تو واٹس ایپ گروپس کو دیکھنے کے لیے الرٹ رہنا، بروقت جواب دینا، رات گئے آنے والے میسجز پر ردعمل دینا، والدین کے بے جا اور بے وقت سوالات کا فوری جواب دینا اور بے وقت کی آن لائن میٹنگز جیسی ڈیجیٹل غلامی بھی اساتذہ کی ذمے داریوں میں شامل ہے۔
اسلام آباد کی ایک ٹیچر نے گفتگو میں بتایا کہ ’’میں اسکول سے نکلتی ہوں، مگر اسکول مجھ سے نہیں نکلتا۔ واٹس ایپ نے ہماری نجی زندگی ختم کر دی ہے‘‘۔
خواتین اساتذہ: دہری ذمے داریاں
نجی اسکولوں میں 80 فیصد سے زائد اساتذہ خواتین ہیں اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس حقیقت کا بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے۔ خواتین کو سستی لیبر سمجھا جاتا ہے کیوں کہ ان کے پاس متبادل روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں کام کرنے والی خواتین اساتذہ کو گھر اور ملازمت کے عدم توازن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے لیے ترقی کے مواقع ہیں نہ اچھے کام کی تعریف، اچھا کام کرنے پر اس کا بوجھ مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کی خواتین اساتذہ کو انتظامی بے حسی کے نتیجے میں کئی طبی مسائل کی وجہ سے چھٹی بھی نہیں ملتی، جو ان کے لیے دہرے جسمانی و ذہنی کرب کا سبب بنتا ہے۔
اس حوالے سے ایک خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ’’حمل کے دوران مجھے کہا گیا کہ یا تو استعفیٰ دو یا پھر بغیر چھٹی کام کرو‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اسکول کے لیے میں ایک مزدور جب کہ انتظامیہ کی بے حسی کی وجہ سے اسکول میرے لیے ایک بوجھ بن کر رہ گیا ہے‘‘۔
والدین کا رویہ اور استاد کی تذلیل
تعلیم کو پروڈکٹ بنا دینے کا سب سے خطرناک نتیجہ والدین کا نامناسب رویہ اور ذہنیت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فیس دے کر انہوں نے استاد کی عزت خرید لی ہے، لہٰذا جائز ناجائز کسی بھی حال میں استاد کو طلبا اور دیگر عملے کے سامنے بے عزت کردیا جاتا ہے۔
والدین کی جانب سے اساتذہ سے بے جا شکایات تو معمول ہے، لیکن اسکول جاکر بدتمیزی کرنا ،چیخنا، سیاسی یا سماجی دباؤ ڈالنا اور بعض اوقات بات دھمکیوں یا تشدد تک بھی پہنچ جاتی ہے۔
اس صورت حال میں بدترین لمحہ وہ ہوتا ہے جب اسکول انتظامیہ حقیقت جانتے ہوئے بھی اپنے استاد کا دفاع نہیں کرتی بلکہ کچھ کیسز میں تو ’’کسٹمر اِز آل ویز رائٹ‘‘ کے مطابق انتظامیہ والدین کی شکایت پر استاد کو ملازمت سے فارغ بھی کردیتی ہے۔
ذیلی اسٹاف: گم نام لوگ
نجی تعلیمی اداروں کے گارڈز، سوئپرز، آیا اور چپڑاسی وغیرہ، اس نظام کے وہ گمنام لوگ ہیں جن کے بغیر کوئی اسکول نہیں چل سکتا، مگر انتظامیہ کا اِن کے ساتھ رویہ اساتذہ سے بھی بدتر ہے۔ نہ کوئی معاہدہ، نہ سہولت اور نہ ہی عزت۔
نجی اسکولوں کی تنظیمیں: صرف مفادات کا کھیل
نجی تعلیمی اداروں سے متعلق حکومت فیس کم کرنے، طلبہ و اساتذہ کے حقوق یا اسکولوں میں سہولیات کی بات کرے تو ان اداروں کے مالکان سڑکوں پر آ جاتے ہیں لیکن اپنے مفاد کا کھیل کھیلنے والے یہ لوگ اساتذہ کی تنخواہ، حقوق یا عزت کے لیے کبھی آواز نہیں اٹھاتے۔
سخت اصلاحات اور ضوابط نافذ کرنے کی ضرورت
ملک بھر کے نجی تعلیمی اداروں میں سخت اصلاحات کے تحت قواعد و ضوابط کا نفاذ یقینی بنانا وقت کا اولین تقاضا ہے، جس میں اساتذہ کے حقوق کا قانونی تحفظ، کم از کم مقرر کی گئی تنخواہ کی ادائیگی، کنٹریکٹ لیٹر، سوشل سیکیورٹی جیسے بنیادی حقوق شامل ہیں۔
اسی طرح والدین کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق وضع ہونا چاہیے، جس کے تحت شکایت درج کروانے کا باعزت طریقہ اور استاد کی تذلیل کو ہرقیمت پر ناقابلِ قبول قرار دینا بنیادی نکات ہیں۔
علاوہ ازیں اساتذہ سمیت عملے کے لیے کچھ آرام کا وقت (خواہ چند منٹ کے لیے ہو)، اوور ٹائم کا معاوضہ ادا کرنا، اچھے کام کی حوصلہ افزائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔
خواتین اساتذہ کے لیے خصوصی پالیسی بنائی جانی چاہیے، جس میں تعلیمی اداروں کے اندر ڈے کیئر بنانا، پیڈ (Paid) میٹرنٹی لیوز کا حق، اوقاتِ کار میں نرمی بنیادی ضروریات ہیں۔
اسی طرح اساتذہ کے لیے ذہنی صحت کے سیشنز، نفسیاتی کونسلنگ، پیشہ ورانہ تربیت کی ورکشاپس اور انتظامیہ کے لیے لیڈرشپ ٹریننگ جیسے ایونٹس کا انعقاد بھی اسکول مالکان کی ذمے داری ہے۔
استاد کی اہمیت اور معماروں کا مستقبل
تعلیمی اداروں کے مالکان، انتظامیہ اور طلبا کے والدین کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ استاد کی تذلیل دراصل علم کی توہین ہے۔ جو قوم اپنے معلم کو عزت نہ دے وہ کبھی باوقار مستقبل نہیں پا سکتی۔ مختصراً یہ کہ تعلیمی اداروں کے ماحول کو ایک کمائی کی فیکٹری کے بجائے انسان سازی کا مرکز بنانا ہوگا، جہاں سے علم کی کرنیں پھوٹیں اور نسلوں کا مستقبل مضبوط و محفوظ ہو۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔