ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ کس کی حکومت ہوگی؟ امریکی وزیر خارجہ نے بتادیا
امریکا مستقبل میں ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کا کوئی کردار دیکھنا نہیں چاہتا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ نئی قیادت لانے کا عندیہ دے چکے ہیں اور اب یہ معاملہ پہلی بار امریکی سینیٹ میں زیر بحث لایا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے سینیٹ کمیٹی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت ختم ہونے کے بعد کے لائحہ عمل کے بارے میں سوال کیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے سینیٹ ارکان نے پوچھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران میں اقتدار کس کے ہاتھ میں آئے گا۔
جس پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ کوئی منجمد کھانا نہیں کہ مائیکروویو میں رکھیں اور ڈھائی منٹ بعد تیار ہو جائے۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ یہ نہایت پیچیدہ معاملات ہیں۔ کسی کے پاس اس کا سادہ جواب نہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران میں کیا ہوگا۔
تاہم مارکو روبیو نے ایرانی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ امریکا خطے میں موجود اپنے ہزاروں امریکی اہلکاروں اور تنصیبات پر ایرانی حملوں کو پیشگی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن امید ہے اس کی نوبت نہیں آئے گی۔
امریکی وزیر کارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام پر سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی متعدد جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے جن سے ایرانی جوہری صلاحیتوں کو نمایاں دھچکا لگا تھا۔