حصص مارکیٹ نچلی قیمتوں پر زبردست خریداری 412 پوائنٹس کا اضافہ
سیاسی غیریقینی کے باوجود غیرملکیوں، مالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیزودیگر آرگنائزیشنز کی سرمایہ کاری
سرمایہ کاروں نے نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری کو ترجیح دی جس سے کے ایس ای100 انڈیکس میں 412 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ فوٹو: آن لائن
دوجماعتوں کے لانگ مارچ سے ملک کے سیاسی افق پرغیریقینی کیفیت کے باوجود کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو بھی سرکاری مالیاتی اداروں کی سپورٹ کے باعث تیزی کا تسلسل قائم رہا جس سے انڈیکس کی28600 ، 28700 ، 28800 اور28900 کی 4 حدیں بیک وقت بحال ہوگئیں۔
تیزی کے سبب75 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید90 ارب35 کروڑ46 لاکھ4 ہزار283 روپے کا اضافہ ہوگیا البتہ کاروباری حجم میں تیزی کے باوجود22 فیصد کی کمی واقع ہوئی کیونکہ جاری مارچ کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں خوف کی فضا بدستور موجود ہیں جس کی وجہ سے بیشتر شعبے جمعہ کو بھی غیرمتحرک رہے اور مجموعی طور پر10 کروڑ43 لاکھ60 ہزار300 حصص کے سودے ہوئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ جمعہ کو سرکاری مالیاتی اداروں کی جانب سے نچلی قیمتوں پر بلیوچپس میں خریداری کی گئی جس سے مارکیٹ کا مورال بلند ہوا لیکن جاری لانگ مارچ کی وجہ سے بیشترسرمایہ کار سائیڈ لائن رہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ فی الوقت تو لانگ مارچ پرامن ہے لیکن مارچ میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے مارکیٹ بری طرح متاثر ہوسکتی ہے اور انہی خدشات کے سبب سرمایہ کاروں کی اکثریت مارکیٹ میں غیرمتحرک ہے۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر49 لاکھ67 ہزار583 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے27 لاکھ88 ہزارڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے21 لاکھ79 ہزار579 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 412.20 پوائنٹس کے اضافے سے 28917.75 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 287.10 پوائنٹس کے اضافے سے 20149.25 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 712.61 پوائنٹس کے اضافے سے 46828.54 ہوگیا۔
کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 346 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں259 کے بھائو میں اضافہ، 68 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھائو 300 روپے بڑھ کر 10400 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھائو 200.13 روپے بڑھ کر7700 روپے ہوگئے جبکہ بھنیرو ٹیکسٹائل کے بھائو23.90 روپے کم ہوکر490 روپے اور شیزان انٹرنیشنل کے بھائو23.40 روپے کم ہوکر900 روپے ہوگئے۔
تیزی کے سبب75 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید90 ارب35 کروڑ46 لاکھ4 ہزار283 روپے کا اضافہ ہوگیا البتہ کاروباری حجم میں تیزی کے باوجود22 فیصد کی کمی واقع ہوئی کیونکہ جاری مارچ کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں خوف کی فضا بدستور موجود ہیں جس کی وجہ سے بیشتر شعبے جمعہ کو بھی غیرمتحرک رہے اور مجموعی طور پر10 کروڑ43 لاکھ60 ہزار300 حصص کے سودے ہوئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ جمعہ کو سرکاری مالیاتی اداروں کی جانب سے نچلی قیمتوں پر بلیوچپس میں خریداری کی گئی جس سے مارکیٹ کا مورال بلند ہوا لیکن جاری لانگ مارچ کی وجہ سے بیشترسرمایہ کار سائیڈ لائن رہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ فی الوقت تو لانگ مارچ پرامن ہے لیکن مارچ میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے مارکیٹ بری طرح متاثر ہوسکتی ہے اور انہی خدشات کے سبب سرمایہ کاروں کی اکثریت مارکیٹ میں غیرمتحرک ہے۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر49 لاکھ67 ہزار583 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے27 لاکھ88 ہزارڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے21 لاکھ79 ہزار579 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، تیزی کے سبب کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 412.20 پوائنٹس کے اضافے سے 28917.75 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 287.10 پوائنٹس کے اضافے سے 20149.25 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 712.61 پوائنٹس کے اضافے سے 46828.54 ہوگیا۔
کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 346 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں259 کے بھائو میں اضافہ، 68 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھائو 300 روپے بڑھ کر 10400 روپے اور نیسلے پاکستان کے بھائو 200.13 روپے بڑھ کر7700 روپے ہوگئے جبکہ بھنیرو ٹیکسٹائل کے بھائو23.90 روپے کم ہوکر490 روپے اور شیزان انٹرنیشنل کے بھائو23.40 روپے کم ہوکر900 روپے ہوگئے۔