کینیڈا اور چین میں قربتیں، امریکا سے فاصلے

کینیڈا نے تو یہ سبق سیکھ لیا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ برطانیہ یہ سبق کب سیکھتا

sohailyaqoob

دنیا کے متعدد قائدین نے اپنے تجربے کی روشنی میں امریکا کی دوستی کو امریکا کی دشمنی سے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے  اور یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے،بہت سے ممالک  اور ان کے حکمرانوں کی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے امریکا سے بھرپور دوستی نبھائی مگر امریکا نے انھیں اپنے مفادات کے کھیل کا حصہ بنایا اور ٹشو پیپر کی طرح  استعمال کرکے پھینک دیا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ  امریکا کے اس شاطرانہ رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے حال ہی میں کینیڈا نے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لیتے ہوئے ’’ کم خطرناک‘‘ راستے کا انتخاب کیا ہے۔

کینیڈا اور برطانیہ کی قیادت نے اپنی یہ حکمت عملی بنائی ہوئی تھی کہ وہ ہر امریکی حکم پر سر تسلیم خم کیا کریں گے اور اسی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے برطانیہ نے ہر موقع پر امریکا کا ساتھ دیا اور کسی نقصان کی پرواہ  نہ کی ، جسٹن پئیرجیمز ٹروڈو نے 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر سو فیصد ٹیرف عائدکیا تھا، جو امریکا کی جانب سے لگائی گئی ڈیوٹی کے مماثل تھا۔

اس کے جواب میں چین نے کینیڈا کی زرعی پیداوار پر ڈیوٹی عائد کی تھی کہ جس کے نتیجے میں کینیڈین کینولا کی برآمدات رک گئی تھی اور اس کے اثرات کینیڈین کسان پر تباہ کن ثابت ہوئے ہیں اور ان کے مفادات کو شدید ضرب پہنچی تھی۔

 مگر اب کینیڈا نے بدلتے وقت کے ساتھ یہ سبق سیکھ لیا کہ امریکا سر تسلیم خم کرواتے ہوئے سرنگوں کرتا ہوا، اپنے مفادات کے لیے وقت پڑنے پر سر قلم کرنے یا کروانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

کینیڈا نے تو یہ سبق سیکھ لیا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ برطانیہ یہ سبق کب سیکھتا اور کب ہوش کے ناخن لیتا ہے۔کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم مارک کارنی نے جنھوں نے مارچ 2025 میں یہ منصب سنبھالا ہے ابھی 14 سے 17 جنوری 2026 تک چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ کی دعوت پر چین کا دورہ کیا ہے۔

یہ کسی بھی کینیڈین وزیراعظم کا 2017کے بعد پہلا دورہ تھا کہ جس سے آپ اس دورے کی اہمیت اور افادیت کو سمجھ سکتے ہیں۔

  اس دورے میں کینیڈین وزیراعظم کی ملاقات چین کے صدر، وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت سے ہوئی۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے کئی برس کی سفارتی کشیدگی کے بعد کینیڈا کے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک امریکی ٹیرف کے دباؤ کے درمیان تعلقات کی بحالی کی جانب بڑھ رہے ہیں جو مشترکہ مفاد، باہمی احترام اور تعاون پر مشتمل ہیں۔

اب سے کچھ عرصے پہلے تک اس بات کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ براعظم امریکا کا کوئی ملک چین کے ساتھ اس قسم کا اسٹرٹیجک معاہدہ کرے گا، چہ جائیکہ کہ وہ امریکا کا پڑوسی ملک کینیڈا ہوگا۔

 کینیڈا کے وزیراعظم کے اس دورے میں متعدد معاہدے ہوئے کہ جس کے تحت چین نے کینیڈین کینولا آئل پر محصولات 85 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو یکم مارچ 2026 سے نافذالعمل ہوگا، جب کہ کینیڈا نے بھی چینی برقی گاڑیوں پر محصولات کو 6.1 فیصد پر مقررکرنے پر اتفاق کیا ہے۔

کینیڈا چین سے انچاس ہزار برقی گاڑیاں درآمد کرے گا کہ جس کی تعداد پانچ سالوں میں بڑھ کر ستر ہزار ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ زراعت، زرعی خوراک، توانائی اور مالیات کے شعبے میں بھی معاہدے شامل ہیں۔

اب یہ کہنا کہ یہ تمام معاہدے امریکا کی اپنی بیوقوفی سے ہو رہے ہیں یا چین اس معاملے میں زیادہ خوش قسمت ہیں، حالانکہ بین الاقوامی سیاست اور تعلقات میں خوش قسمتی کچھ نہیں ہوتی بلکہ یہ برسوں کی محنت اور حکمت عملی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

بات جو بھی ہوں، امریکا ایک ایک کر کے اپنے حلیف ممالک کوگنوا رہا ہے۔ میں اپنی تحاریر میں لگاتار یہ لکھ رہا ہوں کہ دنیا بہت تیزی سے تیسری عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے اور آج کل دنیا میں جوکچھ ہو رہا ہے،آپ اسے جنگ سے پہلے کی صف بندی کہہ سکتے ہیں۔

 ہم چونکہ ڈالرکی وجہ سے امریکی کیمپ میں ہے، اس لیے ہمارے یہاں چین کینیڈا معاہدے کا زیادہ چرچا نہیں ہوا۔ یقین مانیے کہ دنیا بالخصوص یورپ اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک تو اب تک شاک کی کیفیت میں ہے کہ یہ کیسے ہوگیا؟

شاک میں تو مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر جب اپنے دورہ پاکستان سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کرسکے اور ہم نے اپنا سارا وزن  سعودیہ کے پلڑے میں ڈال دیا تو متحدہ عرب امارات کے پاس اس کے سوا کوئی اور گنجائش نہیں تھی وہ ہندوستان سے ’’ رجوع ‘‘ کرے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنے دوگھنٹے سے کم وقت کے دورے میں دو سو ارب ڈالرکے معاہدے کیے ہیں، تاکہ ہندوستان میں سعودی سرمایہ کاری کا نہ صرف مقابلہ کیا جاسکے بلکہ اس پر برتری حاصل کی جاسکے، تاکہ سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ حسب منشا سیاسی مقاصد بھی حاصل کیے جاسکے۔

 امریکا ایک ایک کر کے اپنے حلیف ممالک گنوا رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلی دفعہ ہے کہ یورپ اور امریکا کی راہیں جدا ہو رہی ہیں اور ان حالات میں نیٹوکا مستقبل دیوار پر لکھا نظر آرہا ہے۔

اب یہ یورپ پر منحصر ہے کہ وہ موجودہ حالات میں متحد رہتے ہیں یا تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو امریکا کے ساتھ رہے اور پھرجو امریکا کا انجام ہو، وہی ان کا بھی انجام ہوں یا پھر چینی کیمپ کا حصہ بن جائیں۔ یہ فیصلہ آسان نہیں ہے، لیکن شاید اسی سیاست اور بین الاقوامی سفارت کاری کہتے ہیں۔

  امریکا کو اپنے اسلحے پرکچھ زیادہ ہی اعتماد ہے اور وہ پراعتمادی سے بڑھ کر خوش فہمی کی حد تک چلاگیا ہے کہ جس کے بعدگرنا مقدر بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکا کا گرنا ٹھہرگیا ہے، صدر ٹرمپ کے فیصلے بہت تیزی سے اس کو اس کے انجام کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔

ایک بات تو طے ہے کہ امریکا لڑے بغیر اپنا مقام نہیں چھوڑے گا، چین کب تک جنگ کو ٹالنے کامیاب ہوتا ہے، اس کا دار و مدار اس کی حکمت عملی پر ہے جو اب تک کامیاب جا رہی ہے۔

اس میں ناکام وہ ہوگا جو جلد بازی کرے گا اور ہم کوکیا دنیا بھرکو پتہ ہے کہ کون جلد بازی کرے گا، ڈر یہ ہے کہ اس کے گرنے سے پہلے دنیا میں بہت خون خرابہ ہوگا اور ہم ہرگزرتے دن اس خون خرابے کے قریب جا رہے ہیں۔ اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)

Load Next Story