کراچی میں ہونے والے دلخراش واقعات
nasim.anjum27@gmail.com
گزشتہ سالوں سے کراچی حادثات اور بربریت کی آماج گاہ بن چکا ہے، ہر روز کوئی نہ کوئی سانحہ جس میں پانچ چھ لوگ ظلم، ناانصافی اور غیر ذمے دارانہ رویوں کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن چند روز قبل اتنا بڑا اور خوفناک سانحہ رونما ہوا، جس نے اہل کراچی کو ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا وہ حادثہ تھا گل پلازہ کا۔
وہی گل پلازہ جہاں زندگی مسکراتی تھی، دلوں میں شہنائی بجتی تھی، مسکان سے سجے چہروں پر آنے والے دنوں کے خواب سجے اور خیالوں میں سنہرا اور خوشیوں بھرا مستقبل ایک نئی منزل کا پتا دیتے تھے، وہ لوگ بھی گل پلازہ کا رخ کرتے تھے جنھیں اپنے خوابوں میں خوبصورت رنگ بھرنے تھے۔
چونکہ گل پلازہ تھا ہی خوشیوں کی علامت، ایک ایسی مارکیٹ تھی جہاں پائیدار اور خوبصورت چیزیں بڑی آسانی سے مل جاتی تھیں۔
دوسرے ملکوں کے دیدہ زیب ڈیکوریشن پیس، کراکری، جیولری اور ضرورت کی دوسری چیزیں آسانی سے دستیاب ہو جاتی تھیں۔ نہ جانے کیا بات تھی کہ گل پلازہ جاتے ہوئے، اس بات کا احساس ہوتا تھا جیسے خریداری کے لیے دبئی جا رہے ہیں،کچھ خاص بات تھی اس عمارت میں۔
دور دراز سے لوگ شاپنگ کرنے آیا کرتے تھے، لوگ خوشی خوشی تیاری کرتے گھر کے تمام امور نمٹا کر اپنی گاڑیوں یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے، خریداری کے لیے اپنی جمع پونجی اپنے ساتھ لے کر جاتے۔
یہ وہ لوگ تھے جنھیں خاص خریداری کرنی ہوتی تھی، خاص طور پر بچیوں کی شادیوں کے لیے جہیز کا سامان یا پھر نئے گھر کی تزئین و آرائش کے لیے گل دان، پھول، نقشین کٹورے، چاندی جیسے جھلملاتے برتن، کشن، تکیے، بیڈ شیٹس۔
اس کے ساتھ ہی گھر میں آنے والے مہمان کے لیے سردی گرمی کے کپڑے، بستر، کھلونے، جھولا، کوٹ، فیڈر، خریداری کے بعد خوشی خوشی گھر لوٹتے، نئی امیدوں اور مستقبل کے سہانے سپنے انھیں ہفتوں، مہینوں شاداب رکھتے، گویا گل پلازہ سے شاپنگ کرنا، خوشیوں میں اضافے کا باعث ہوتی۔
وہ یہ بات جانتے تھے کہ کم وقت میں انھوں نے ڈھیر ساری شاپنگ کر لی، نادر و نایاب چیزوں کی اور وہ بھی مناسب قیمت میں، ایک ٹکٹ دو مزے میسر آتے۔
لیکن اب گل پلازہ کا نام اور اس میں بے بسی اور جھلس کر دم گھٹنے سے جو اموات ہوئیں، پلازہ سے آہ و فریاد سنائی دیتی ہے،کتنے گھرانوں کے چراغ گل ہوئے، کتنی خوشیاں، ارمان خوبصورت زندگیوں کے ساتھ جل کر خاکستر ہوگئے۔ میاں بیوی بھی اپنے آنے والے بچے کے لیے خوشی خوشی خریداری کرنے آئے تھے لیکن افسوس صد افسوس ان کے ساتھ آنے والا خاندان شعلوں میں گھر گیا۔
حیف ہے اس حکومت اور اس کے کارندوں پر، جو اپنے ہی تعیشات زندگی میں کھوئے ہوئے ہیں۔ انھیں عوام کے دکھ اور مسائل نظر نہیں آتے ہیں، ان کی غریبی، کسمپرسی، مجبوری اور بے چارگی جہاں کھانے کو نہیں ہے، وہاں جوان اور اکلوتے بیٹوں کی لاشیں وصول کر رہے ہیں، چار چار جوان بیٹوں کو دشمنی اور تعصب میں مار دیا جاتا ہے۔
تشدد زدہ لاشیں جب والدین کو ملتی ہیں،کیا گزرتی ہوگی ان پر، جنھیں پال پوس کر بڑا کیا، ان کے دم سے گھر میں روشنی اور امید کے تناور درخت چھاؤں کیے ہوئے تھے ، پھل، پھول کھلنے والے تھے، کلیاں مسکا رہی تھیں اور خوشبو پھیل رہی تھی۔
کتنے ظالم اور بے درد لوگ تھے جنھوں نے بغیر کسی بات اور دشمنی کے شقی القلب ہونے کا ثبوت پیش کر دیا، یہ ایک دن کی بات نہیں ہے، ایسا سالہا سال سے ہو رہا ہے اور اب گل پلازہ کی کہانی میں بھی دل کو دہلاتی ہوئی یہ بات شامل ہو گئی ہے کہ گل پلازہ کو منصوبہ بندی کے تحت جلایا گیا ہے۔
اگر واقعی ایسا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ گل پلازہ میں آنے والے لوگ تو معصوم تھے، ان کی کیا خطا تھی؟ جس سے دشمنی ہو، اس سے بدلہ لینے میں تو منطق نظر آتی ہے، لیکن پوری عمارت پر نفرت و تعصب کے بارودی گولے برسانا کہاں کی دانش مندی ہے؟
لیکن جب ہم دانش و فہم کی بات کرتے ہیں، تو بڑی مضحکہ خیز صورت نظر آتی ہے، تھوڑے سے لوگوں کو مائنس کرکے زیادہ تر لوگوں کی اکثریت عقل سے پیدل اور جہالت کے اندھیروں میں کھوئی ہوئی ہے، اجرتی قاتلوں کو روپے پیسے سے مطلب ہوتا ہے، باقی اس سوچ اور عمل سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے کہ آیا وہ کسی انجانے کا قتل کیوں کر رہا ہے، وہ تو اسے جانتا تک نہیں ہے۔
پیسوں کے بدلے گناہ کبیرہ کا سودا کر رہا ہے جس کے نام ہمیشہ رہنے کے لیے جہنم لکھ دی جاتی ہے، وہ پاگل ہے، گھاس کھاتا ہے جو اپنے دین و دنیا کو اپنے ہاتھوں برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔
دراصل یہ ان لوگوں کی اولاد ہے جن کے والدین نے ان کی تربیت پر توجہ نہیں دی، جو معصوم بے زبان جانوروں کو بے مقصد پتھروں سے لہولہان کر دیتے ہیں، پالتو اور خوبصورت بلیوں کو قید کرکے مزے لیتے ہیں، محلے کے درختوں سے پھل توڑتے ہیں، چھوٹی چھوٹی چوریاں کرتے ہیں، ان کے ماں باپ بالکل نہیں پوچھتے ہیں، ان کی سرگرمیوں کے بارے میں لاعلم رہتے ہیں۔
ایسے ہی بچوں اور نوجوانوں سے تھوڑے سے پیسوں کے عوض جرم کرواتے ہیں اور ایک دن وہ آ جاتا ہے جب یہ ظالم، چور، ڈاکو اور کرائے کے قاتل اور بڑے مجرم بن کر سامنے آتے ہیں۔ گل پلازہ سے قبل بھی ایک عمارت کو باقاعدہ آگ لگائی گئی تھی۔
زندہ سلامت، ہنستے کھیلتے خوش باش نوجوانوں، بزرگوں کو آگ میں جھونک دیا تھا، یہ سیاست تھی، نفرت تھی، ہوس زر تھا، یہ کون سی عفریت ہے جو زندہ انسانوں کو جلانے کا کھیل کھیلتی ہے۔
کراچی میں ان حادثات کے ساتھ موسموں کی سنگینی بھی راس نہیں آتی ہے، سردی میں بے بس لوگ ٹھٹھر کر مرتے ہیں، حکومت کو ذرہ برابر ان فرش نشینوں کا خیال نہیں کہ گداگری کی لعنت کے خاتمے کے لیے کام کریں، ان کے بچوں کے لیے اسکول اور بے گھر اور در در کی ٹھوکریں کھانے والوں کے لیے شیلٹر کا انتظام کریں۔
گرمی اور برسات میں بھی بے شمار لوگ کرنٹ لگنے سے، نالوں میں ڈوب جانے سے مر جاتے ہیں، اسی طرح تپتی ہوئی دھوپ، لُو انسانی ابدان کو جھلسا کر رکھ دیتی ہے، سورج کی تمازت سے بچنے کے لیے لوگ سایہ تلاش کرتے ہیں جو ملتا نہیں۔ ہر سال درخت لگانے کی مہم شروع کی جاتی ہے لیکن کراچی کی شاہراہیں، گلیاں، محلے اور تناور درختوں کی چھاؤں سے محروم ہیں۔
کیا پاکستان اسی مقصد کے لیے بنایا تھا لوگوں کو تڑپا تڑپا کر ماریں گے، منہ سے نوالہ چھینیں گے، معصوم بچوں کا اغوا اور ڈکیتی کرنے کے لیے راہ ہموار کریں گے اور قانون کے نام پر ناانصافی، سیاہ دھبے اور غیر منصفانہ رویوں کو پروان چڑھائیں گے، حکمران ہوش کے ناخن لیں اور سنجیدگی کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں تاکہ تخریب کاری کا خاتمہ ہو۔