برداشت ہم سے کیسے رخصت ہوگئی؟

جب پیٹ اور جیب خالی ہوں تو دماغ صحیح طرح کام نہیں کر پاتا اور تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے

ہم کب اور کیسے عدم برداشت کا شکار ہوگئے، یہ سوال آج بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یہ صرف ایک سوال نہیں بلکہ ہمارے سماج کی وہ تصویر ہے جو خوشنما نہیں۔ اپنے اردگرد دیکھیں، سڑک پر، دفتر میں، گھروں کے اندر سوشل میڈیا پر ہر جگہ غصہ، جھنجھلاہٹ اور عدم برداشت نظر آئے گی۔

معمولی بات پر تلخی، اختلافِ رائے پر دشمنی اور ذرا سی تکلیف پر بدزبانی۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم سب کسی انجانی دوڑ میں شامل ہیں، جہاں جیتنے کا واحد راستہ چیخنا، دھمکانا اور دوسرے کو نیچا دکھانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم وہاں کیسے پہنچے؟ ہم نے برداشت کب اورکہاں کھو دی؟

برداشت کسی ایک دن میں ختم نہیں ہوتی، یہ آہستہ آہستہ رخصت ہوتی ہے، بالکل اس خاموش مہمان کی طرح جو بغیر بتائے گھر چھوڑ جاتا ہے اور ہمیں اس کی کمی اس کے جانے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔

اس سب کی پہلی کڑی ہمارے روزمرہ دباؤ سے جڑی ہے، مہنگائی، بے یقینی، روزگارکا خوف، مستقبل کی دھند یہ سب مل کر انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

جب پیٹ اور جیب خالی ہوں تو دماغ صحیح طرح کام نہیں کر پاتا اور تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ آدمی خود کو بے بس محسوس کرتا ہے اور بے بسی اکثر غصے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

پھر ہمارا سماجی ڈھانچہ ہے، جوکبھی رشتوں کی مضبوطی پرکھڑا تھا۔ اب وہی رشتے مفادات کی بنیاد پر تولے جاتے ہیں۔ صبر، برداشت اور لحاظ جیسے الفاظ لغت میں تو ہیں مگر زندگی میں کم کم دکھائی دیتے ہیں۔

ہم نے سننا چھوڑ دیا ہے، ہرکوئی بولنا چاہتا ہے،کوئی سننا نہیں چاہتا۔ مکالمہ ختم ہوا تو برداشت بھی ختم ہوگئی،کیونکہ برداشت سننے سے پیدا ہوتی ہے، چیخنے سے نہیں۔

سوشل میڈیا نے اس زوال کو تیزکردیا ہے۔ یہاں الفاظ کی کوئی قیمت نہیں، لہجوں کا کوئی حساب نہیں۔ اسکرین کے پیچھے بیٹھا شخص دوسرے کو انسان نہیں، ایک اکاؤنٹ سمجھتا ہے۔

اختلافِ رائے کو اختلاف نہیں دشمنی بنا دیا گیا ہے، چند لائکس اور شیئرز کے لیے ہم نے زبان کی شرافت قربان کردی۔ جو بات سامنے کہنے کی ہمت نہیں ہوتی، وہ لکھ دی جاتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عدم برداشت کی وباء وائرل پوسٹ کی طرح پھیلتی ہے۔ قصور صرف سوشل میڈیا کا نہیں، ہم نے اپنے گھروں میں بھی برداشت کی تربیت دینا چھوڑ دی ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں، جو دیکھتے ہیں۔

جب والدین معمولی بات پر ایک دوسرے پر چیختے چلاتے ہیں، جب اختلاف کو عزت سے نمٹانے کے بجائے اَنا کی جنگ بنا دیا جاتا ہے تو نئی نسل صبر کہاں سے سیکھے؟ ہم بچوں کو کامیاب ہونا تو سکھاتے ہیں مگر برداشت کرنا نہیں سکھاتے۔ انھیں جیتنا تو سکھاتے ہیں سر اٹھا کر ہارنا نہیں سکھاتے۔

تعلیم کا کردار بھی یہاں سوالیہ نشان ہے۔ ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری اور نوکری تک محدود کردیا ہے۔ کردار سازی، تنقیدی سوچ اور اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت نصاب سے نکل چکی ہے۔

نتیجتاً ہم ایسے پڑھے لکھے لوگ پیدا کررہے ہیں جو دلائل سے نہیں بلکہ دھونس سے بات کرتے ہیں، جو اختلاف کو ذاتی حملہ سمجھتے ہیں اور ہر بحث کو اَنا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

ہماری سیاست بھی عدم برداشت کی ایک بڑی درسگاہ بن چکی ہے۔ لیڈر ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے، کارکن ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے تو عام آدمی کہاں سے سیکھے؟

جب اختلافِ رائے کو ’’غداری‘‘ کہا جائے، جب سوال اٹھانے والے کو دشمن بنا دیا جائے تو سماج غصے کے لاوے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ہم نے سیاست کو خدمت کے بجائے نفرت کا میدان بنا دیا اور یہ نفرت نیچے تک سرایت کرگئی۔

برداشت کے ختم ہونے کی ایک وجہ ہماری جلد بازی بھی ہے۔ ہمیں سب کچھ فوراً چاہیے، نتائج کامیابی صبر ایک طویل عمل ہے اور ہم شارٹ کٹس کے عادی ہو چکے ہیں۔

جب چیزیں ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتیں تو ہم نظام لوگوں اور حالات کو کوسنے لگتے ہیں۔ خود احتسابی مشکل کام ہے، دوسروں کو الزام دینا آسان اور یہی آسانی ہمیں عدم برداشت کی طرف لے جاتی ہے، لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ ہم نے برداشت کہاں کھو دی، سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم اسے واپس پا سکتے ہیں؟

جواب مایوس کن نہیں۔ برداشت کوئی کھویا ہوا خزانہ نہیں، جس کا سراغ ناممکن ہو، یہ ہمارے اندر ہی کہیں دبی ہوئی ہے بس اسے جگانے کی ضرورت ہے۔ اس کا آغاز چھوٹے پیمانے پر ہوتا ہے، اپنے لہجے سے اپنے ردعمل سے اپنے رویے سے۔

ہمیں دوبارہ سننا سیکھنا ہوگا۔ اختلاف کو برداشت نہیں قبول کرنا ہوگا، ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، ہر سوال بغاوت نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے گھروں سے آغاز کرنا ہوگا، بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ غصہ آنا فطری ہے مگر غصے میں خود کو قابو میں رکھنا اصل طاقت ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر لکھتے وقت یہ یاد رکھنا ہوگا کہ سامنے بھی ایک انسان ہے جذبات کے ساتھ، مسائل کے ساتھ۔

سب سے بڑھ کر ہمیں خود سے سچ بولنا ہوگا۔ ماننا ہوگا کہ ہم چڑچڑے ہو چکے ہیں، تھکے ہوئے ہیں اور ہمیں ٹھہراؤکی ضرورت ہے۔ برداشت کمزوری نہیں بلکہ پختگی کی علامت ہے۔ جو قوم برداشت کھو دیتی ہے وہ صرف شور پیدا کرتی ہے حل نہیں اور جو قوم برداشت کو سنبھال لیتی ہے وہ اندھیروں میں بھی راستہ نکال لیتی ہے۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم رک کر سوچیں ذرا سانس لیں۔ ایک قدم پیچھے ہٹ کر خود کو دیکھیں برداشت کہیں دور نہیں گئی بس ہم نے اسے اہمیت دینا چھوڑ دیا ہے، اب اگر ہم نے اسے واپس نہ اپنایا تو نقصان صرف رشتوں کا نہیں ہوگا پورے سماج کا ہوگا۔

ہم نے جذبات کے اظہارکو بھی عدم برداشت کی نذر کردیا ہے۔ اب غصہ دکھانا حق سمجھا جاتا ہے اور تحمل کو کمزوری قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اصل قوت خاموشی ٹھہراؤ اور خود پر قابو میں مضمر ہے۔ جو انسان اپنے اندر کے طوفان کو سمجھ لیتا ہے وہ دوسروں کے احساسات کو بھی سمجھنے لگتا ہے۔

مگر ہم نے خود سے مکالمہ کرنے کا ہنرکھو دیا ہے۔ ہم ردِعمل کی زندگی گزار رہے ہیں، شعوری عمل کی نہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے فیصلے عارضی رشتے ناپائیدار اور رویے دن بہ دن سخت ہوتے جا رہے ہیں۔

Load Next Story