امیرجماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان

کراچی کو حقوق دو، حقوق نہ ملنے پر وہی حال ہوگا جو اس وقت دیگر صوبوں میں ہو رہا ہے، حافظ نعیم الرحمان

فوٹو: جماعت اسلامی فیس بک

کراچی:

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے  سندھ اسمبلی کے باہر 14 فروری کو دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنے میں روزہ بھی رکھیں گے، تراویح بھی پڑھیں گے اور اپنا حق لے کر اٹھیں گے۔

کراچی میں ‘جینے دو کراچی کو’ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ شہر منی پاکستان ہے، تین کروڑ آبادی کی آواز بن کر آپ لوگ شاہراہ فیصل پر آئے ہیں، یہاں نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن حکمران نہیں چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیرے اور جاگیردار جو مسلط ہیں اس شہر میں کچھ نہیں ہوگا، گل پلازہ جل رہا تھا تو ہم نے دیکھا 23 گھنٹے کے بعد میئر کراچی پہنچا، وزیر اعلیٰ بھی اس وقت پہنچا، بلاول اور زرداری صاحب نے متاثرین کے دکھوں کا مدوا نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ جل چکا، لوگ جل گئے اور اتنے دن گزرنے کے بعد بھی شہباز شریف نہیں آئے اور انہوں نے افسوس کا اظہار نہیں کیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کبھی کہتے وفاق کا قبضہ ہونا چاہیے، کبھی کہتے ہیں صوبائی حکومت کا قبضہ چلے گا، ہم کہتے ہیں کہ مقامی حکومتوں کو آئین کے مطابق اختیارات دیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بھٹو خاندان اور 40 وڈیروں نے قبضہ کیا ہوا ہے، یہ مارچ آغاز ہے۔

مظاہرین کو مخاطب کرکے انہوں نے پوچھا کہ اگر میں اعلان کروں کہ ہمیں سندھ اسمبلی پر دھرنا دینا ہے تو چلو گے، ہمیں کچھ نہیں چاہیے ہمیں ہمارے بچوں کا حق چاہیے۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بسوں کے لیے اربوں کے اشتہار چلاتے ہو، وہ بھی ہمارے ٹیکسوں کے پیسے ہیں، نوجوان مہنگا پیٹرول ڈلوا کر ٹوٹی سڑکوں پر سفر کررہے ہیں، ہماری مائیں اور بیٹیاں چنگچیوں میں دھکے کھا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں دھول مٹی ہے اور لوگ سانس کی بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں، مافیا کا نظام زرداری ہاؤس سے چل رہا ہے، جواب ان کو بھی دینا ہوگا جنہوں نے ان لوگوں کو ہم پر مسلط کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 14 فروری کو سندھ اسمبلی پر کامیاب دھرنا دیں گے، اپنا حق لے کر اٹھیں گے، وہ شہر آج اپنا حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر ہے، ہم جب یہاں دھرنا دیں گے تو اسلام آباد پر لوگ پارلیمنٹ کی طرف جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  کراچی میں لوگ جل کر جان دے دیتے ہیں، کراچی میں کوئی ادارہ نہیں ہے جو لوگوں کی ذمہ داری لے، گل پلازہ میں لوگ جلتے رہے اور لوگ بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے، نہ میئر تھا اور نہ شہر میں وزیراعلیٰ تھا، جب آگ بجھ گئی تو سیاست شروع کردی گئی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گل پلازہ میں فائر نظام کیوں موجود نہیں تھا، جب سب کچھ جل رہا تھا لیکن فائر بریگیڈ کے پاس پانی اور ڈیزل نہیں تھا، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان نے کراچی کی آبادی کو بھی کم دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ جینے کا حق مانگتے ہیں، آج بھی اس شہر کا 50 فیصد آبادی پانی سے محروم ہے، 10،10 سال سے منصوبے چل رہے ہیں، گرین لائن آج تک مکمل نہیں ہوئی ہے، ریڈ لائن کو 2023 میں مکمل ہونا تھا آج تک نہیں بنی ہے، یہ شہر سب کو چلا رہا ہے لیکن تم اس شہر کو کچھ نہیں دیتے ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کو صدر بنانے میں ایم کیو ایم نے ووٹ دیا لیکن کراچی کو کیا ملا، ہم کراچی کا حق لے کر رہیں گے کوئی کمپرومائز نہیں کریں، ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ میئر جان چھوڑو ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ گل پلازہ کی شفاف جوڈیشل تحقیقات کرائی جائیں، مطالبہ کرتے ہیں سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری ہو لیکن چیف جسٹس ہائی کورٹ کی سربراہی میں، ایسا نہیں چلے گا کہ خطوط لکھے جارہے ہیں، کمیشن بناؤ اور بتاؤ ایس بی سی اے کا کیا گناہ ہے۔

امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ایس بی سی اے زرداری ہاؤس سے چلتا ہے، سسٹم ختم کرنے کے دعوے کرنے والوں سے پوچھتے ہیں، تم سسٹم ختم کرنے چلے تھے تم نے تو سسٹم اسلام آباد میں بٹھا دیا، بی ٹیم کے طور پر سسٹم کو استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وڈیرہ اور ملکہ رانی راج نہیں چلے گا، سب ترمیمیں آتی ہیں تو عوام کے حق کی ترامیم کیوں نہیں آتی، مسلم لیگ (ن) ایک خاندان ہے باقی سب چوہدری ہیں، اسی طرح پیپلز پارٹی ہے اور ان کی دیکھا دیکھی دیگر لوگ وراثت کو سیاسیت میں تبدیل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور کو بھی دوحصوں میں تقسیم کردیا، ہم تبدیلی چاہتے ہیں، کراچی کو حقوق دو، حقوق نہ ملنے پر وہی حال ہوگا جو اس وقت دیگر صوبوں میں ہو رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی لوگوں کو مثبت راستے پر لا رہی ہے، دہشت گرد بنانا چھوڑ دو، ٹرمپ کی طرف جھکنا چھوڑ دو، فلسطینی حق پر ہیں، حماس حق ہے، ہم اسرائیل اور ٹرمپ کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ 14 جنوری کو میں آپ کے پاس آؤں گا، تعداد دگنی ہونی چاہیے، ہم یہ سیاست اقتدار کے لیے نہیں کررہے، دھرنے میں روزہ بھی رکھیں گے، تراویح بھی پڑھیں گے اور اپنا حق لے کر اٹھیں گے۔

امیرجماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ سندھ اسمبلی پر تاریخی دھرنا ہوگا۔

Load Next Story