عدالت کے بعد وزیر اعلیٰ کے احکامات بھی نظر انداز، گریڈ 19 کی سینیارٹی لسٹ کا اجراء تاحال نہ ہوسکا

محکمہ کالج ایجوکیشن میں 70 سے زائد 20 گریڈ کی آسامیاں خالی پڑی ہیں اور پروموشن سینیارٹی لسٹ کے اجراء سے مشروط ہے

رواں مالی سال میں بھی ادارے کے ماتحت اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ 3ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ فوٹو: فائل

محکمہ کالج ایجوکیشن نے عدالت کے بعد اب وزیر اعلیٰ کے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیے اور گریڈ 20 کی 70 سے زائد خالی نشستوں پر سینیارٹی لسٹ کا اجراء نہیں کیا جارہا جس کے سبب گریڈ 19 کے درجنوں اساتذہ کے 20 گریڈ میں پروموشنز رکے ہوئے ہیں جبکہ گریڈ 20 کی کئی اہم آسامیوں پر 19 گریڈ کے افراد کام کررہے ہیں۔

  تفصیلات کے مطابق کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ 19 کی سینیارٹی لسٹ کا اجراء تاحال تاخیر کا شکار ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے 6 نومبر 2025 کو اپنے فیصلے میں 26 سال بعد سروس ٹریبونل کے فیصلے کے تحت بنائی گئی سینیارٹی لسٹ کو معطل کردیا تھا اور تبدیل ہونے والی سینیارٹی لسٹ کو روک دیا تھا جس کے بعد  23 دسمبر2025 کو ہونے والے پروونشل سلیکشن بورڈ ون میں وزیراعلیٰ نے کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے تمام پروموشنز کے کیسز کو اس لیے موخر کر دیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق یہ لسٹ ترتیب نہیں دی گئی تھی۔

 ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے سپریم کورٹ کے احکامات پر گریڈ 19 کی ریوائز سینیارٹی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی مگر ایک ماہ سے زائد گزرنے کے بعد بھی تاحال محمکہ میں اس پر کوئی کام نہیں ہو سکا ۔

دلچسپ  امر یہ ہے کہ 10 اگست 2023 کو سندھ سروس ٹریبونل نے گریڈ 19 کی سینیارٹی لسٹ کو تبدیل کرنے کے احکامات دیے اور محکمہ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے دوسرے دن ہی یعنی 11 اگست 2023 کو تبدیل شدہ سینیارٹی لسٹ جاری کر کے پروموشن کے کیسز مانگ لیے مگر اب جبکہ سپریم کورٹ اور وزیر اعلیٰ سندھ دونوں جانب سے نئی سینیارٹی لسٹ کے اجراء کا کہا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود سنیارٹی لسٹ کا اجراء التواء کا شکار ہے۔

 یاد رہے سندھ  سروس ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف پروفیسر جادم گجو اور پروفیسر نثار احمد راجپر نے سپریم کورٹ اسلام آباد سے رجوع کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے سینیارٹی لسٹ کی تبدیلی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور سروس ٹربیونل کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

محکمہ کالج ایجوکیشن میں اس وقت 70 سے زائد 20 گریڈ کی آسامیاں خالی پڑی ہیں جس پر پروموشن سینیارٹی لسٹ کے اجراء پر مشروط ہے، اس وقت ریجنل ڈائریکٹر  لاڑکانہ،  میر پور خاص،  حیدرآباد اور سکھر کی آسامیوں پر جونیئر اساتذہ کو چارج دیا گیا ہے جبکہ اسی برس مارچ اور مئی میں ڈائریکٹوریٹ کراچی اور ڈائریکٹوریٹ شہید بے نظیر آباد کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ کا عہدہ بھی خالی ہوجائے گا جس سے انتظامی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

 دوسری طرف سندھ پروفیسر لیکچرر ایسوسی ایشن نے کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے خلاف 12 فروری کو بلاول ہاؤس پر مظاہرے کا اعلان بھی کر رکھا ہے جبکہ پیر کو بھی ایک ریلی سندھ سیکریٹریٹ تک نکالی جانی ہے۔

Load Next Story