بسنت: پابندی، پشیمانی اور پھر واپسی
بسنت محض پتنگ بازی کا نام نہیں بلکہ پنجاب کی روح، موسمِ بہار کی پہلی مسکراہٹ اور صدیوں پرانی ثقافتی روایت ہے۔
یہ وہ تہوار ہے جو سردیوں کی رخصتی اور بہار کی آمد کا اعلان کرتا ہے، جو لوگوں کو چھتوں پر لے آتا ہے اور اجنبیوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب کر دیتا ہے۔
زرد لباس، رنگین پتنگیں، ڈھول کی تھاپ، چھتوں پر گونجتے قہقہے اور فضا میں بلند ہوتا ہوا ’’بو کاٹا‘‘ کبھی لاہور کی شناخت ہوا کرتے تھے۔
بسنت ایک دن کا نہیں بلکہ کئی ہفتوں پر محیط جوش و خروش کا نام تھا، جس میں شہر کا ہر طبقہ شریک ہوتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ اس خوشی میں مقابلہ بازی، نمود و نمائش اور لالچ شامل ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ یہی تہوار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا۔
2005 سے 2007 کے درمیان بسنت اپنی اصل روح کھو بیٹھی۔ شوقیہ کھیل ایک مہلک مقابلے میں بدل گیا جہاں مقصد خوشی نہیں بلکہ جیت ہر قیمت پر حاصل کرنا تھا۔ شیشے اور کیمیکل سے لیس دھاگے متعارف کروائے گئے جنہیں زیادہ تیز اور مضبوط بنانے کے لیے مختلف طریقے آزمائے گئے۔
ان دھاگوں کا ہدف اگرچہ دوسری پتنگیں تھیں، مگر نشانہ انسانی جانیں بننے لگیں۔ موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کٹنے لگیں، راہگیر شدید زخمی ہوئے، بچے معذور ہوگئے اور پرندے ان قاتل ڈوروں میں الجھ کر جان سے ہاتھ دھونے لگے۔ صرف لاہور میں ہر سال درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہونے لگیں، جبکہ سیکڑوں افراد زندگی بھر کے زخم لے کر گھروں کو لوٹے۔
یہ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی تھی کہ عدالتی نوٹس، میڈیا کی مسلسل رپورٹس اور عوامی دباؤ کے بعد 2007 میں پنجاب حکومت نے بسنت پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ مقصد واضح تھا: انسانی جان کا تحفظ۔ یہ پابندی تقریباً اٹھارہ برس تک برقرار رہی اور بسنت صرف یادوں اور تصویروں تک محدود ہو کر رہ گئی۔
بسنت کی بندش صرف ایک تہوار کے خاتمے کا نام نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ایک پوری ثقافتی اور معاشی دنیا بھی ماند پڑ گئی۔ ہزاروں پتنگ ساز، دھاگہ بنانے والے اور رنگ و کاغذ سے جڑے کاریگر یکدم بے روزگار ہو گئے۔ وہ خاندان جو نسلوں سے اس ہنر سے وابستہ تھے، معاشی بدحالی کا شکار ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوٹل انڈسٹری، سیاحت، فوڈ انڈسٹری، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضمنی کاروباروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
اندازوں کے مطابق پابندی سے قبل بسنت ہر سال دو سے چار ارب روپے تک کی معاشی سرگرمی پیدا کرتی تھی، مگر ایک غلط اور بے قابو روایت نے اس خوشی کو اجتماعی نقصان میں بدل دیا۔ پابندی کے بعد اگرچہ جانی نقصان میں کمی آئی، مگر غیر قانونی پتنگ بازی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی، جو اس بات کا ثبوت تھی کہ مسئلہ تہوار نہیں بلکہ اس کا غیر ذمے دارانہ انداز تھا۔
وقت گزرتا رہا، حالات بدلے اور سوچ میں بھی تبدیلی آئی۔ 2025 میں پنجاب حکومت نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ کسی روایت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتا، بلکہ اسے محفوظ اور قانون کے دائرے میں لانا زیادہ دانشمندانہ راستہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت نئے قوانین، سخت شرائط اور نگرانی کے واضح نظام کے ساتھ بسنت کی جزوی بحالی کا اعلان کیا گیا۔
اب پتنگ بازی کو مخصوص دنوں اور مقامات تک محدود کر دیا گیا ہے، شیشے اور کیمیکل والی ڈور پر مکمل پابندی عائد ہے، پتنگ اور دھاگے کی رجسٹریشن لازم قرار دی گئی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانوں اور قید کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بار بسنت کو جذبات کی نذر نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے ایک کنٹرولڈ، محفوظ اور قانون کے مطابق تہوار بنایا جائے گا۔
ماضی میں بسنت کے دوران سب سے زیادہ نقصان موٹر سائیکل سواروں کو اٹھانا پڑا۔ گردن، چہرے اور آنکھوں پر مہلک زخم آئے، درجنوں اموات اور سینکڑوں زخمی رپورٹ ہوئے۔ یہی وہ تلخ حقیقت تھی جس نے اس تہوار پر پابندی کو ناگزیر بنا دیا۔ مگر آج اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہے؟
اگر بسنت کو واقعی زندہ رکھنا ہے تو صرف قانون سازی کافی نہیں ہو گی۔ شیشے اور کیمیکل ڈور پر زیرو ٹالرنس، موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اقدامات، شاہراہوں اور بجلی کی تاروں کے قریب پتنگ بازی پر سخت پابندی، بچوں کی کڑی نگرانی اور میڈیا و تعلیمی اداروں کے ذریعے مسلسل آگاہی مہم ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ تفریح کی حد وہیں ختم ہو جاتی ہے جہاں کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔
بسنت ہماری ثقافت کا حسن ضرور ہے، مگر جان سے بڑھ کر کوئی روایت نہیں۔ اگر قانون پر سختی سے عمل کیا گیا، اگر لالچ اور ضد پر انسانیت غالب آ گئی، تو بسنت ایک بار پھر خوشیوں، رنگوں اور زندگی کا پیغام بن سکتی ہے، جنازوں کا سبب نہیں۔
آج بسنت کو واپس لانے کا فیصلہ حکومت نے کیا ہے، مگر اسے محفوظ بنانے کی اصل ذمہ داری ہم عوام پر عائد ہوتی ہے۔ یہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم بسنت کو ایک خوبصورت تہوار بنائیں یا تاریخ کو ایک بار پھر خود کو دہرانے دیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔