انسانی حقوق کے ’’قوانین ‘‘

ہندوستانی شہریوں کو برطانوی عہد میں سارے بنیادی حقوق حاصل نہیں تھے

tauceeph@gmail.com

برطانوی حکومت نے جب ہندوستان کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا تو انڈیپینڈنٹ ایکٹ کے تحت دو ممالک بھارت اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آئے، جو قوانین برطانوی ہند میں نافذ تھے، وہی نوزائیدہ ممالک میں نافذ ہوئے۔

برطانیہ نے ہندوستان پر امتناعی قوانین کے تحت حکومت کی تھی۔ ہندوستانی شہریوں کو برطانوی عہد میں سارے بنیادی حقوق حاصل نہیں تھے۔ یہی قوانین نئے آزاد ملکوں میں نافذ ہوئے۔

ان قوانین میں سیکیورٹی ایکٹ، سیفٹی ڈیفنس انڈیا رولز، دفعہ 144، امن و امان کا قانون، پریس ایکٹ اور سیکریٹ ایکٹ وغیرہ شامل تھے۔

اگرچہ پاکستان کے بانی بیرسٹر محمد علی جناح نے انسانی حقوق کی پاسداری کا درس دیا تھا اور ایسے قوانین کو منسوخ کرنے کی جدوجہد کی تھی مگر 15 اگست 1947ء کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی۔

ان قوانین کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، وکلاء نے بے تحاشا قربانیاں دیں، جو وکلاء عدالتوں میں سیاسی کارکنوں، صحافیوں، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے پیش ہوتے ہیں، انھیں Pro Bono Lawyers کہا جاتا ہے۔

یہ وکلاء عمومی طور پر حزب اختلاف کی جماعتوں، مزدوروں کی تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں (N.G.Os) سے منسلک ہوتے ہیں۔ یہ وکلاء اپنی جماعت کے منشور کے مطابق فرائض انجام دیتے ہیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد کئی وکلاء Pro Bono Lawyers کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ ان میں ایک حسین شہید سہروردی اور دوسرے محمود علی قصوری نمایاں رہے۔

حسین شہید سہروردی مسلم لیگی رہنما تھے، وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے نمایندہ کی حیثیت سے بنگال کے پریمیئر رہے۔ بانی پاکستان بیرسٹر محمد علی جناح کی ہدایت پر بنگال میں ہندو مسلمان فسادات کے خاتمے کے لیے مہاتما گاندھی کے ساتھ مشرقی بنگال میں سرگرم عمل رہے۔

جب مشرقی بنگال میں حالات بہتر ہوئے تو وہ پاکستان آگئے مگر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی ۔ حسین شہید سہروردی نے پھر مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کرکے عوامی لیگ قائم کی۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دور میں راولپنڈی سازش کیس رجسٹر ہوا۔

مقدمہ میں جنرل اکبر خان، میجر اسحاق ، ظفراللہ پوشنی کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سجاد ظہیر، محمد حسین عطاء، فیض احمد فیض کو ملوث کیا گیا اور حیدرآباد میں قائم خصوصی عدالت میں مقدمہ شروع ہوا تو حسین شہید سہروردی صفائی کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے۔

انھوں نے انتہائی مشکل حالات میں فیض احمد فیض اور ان کے ساتھیوں کا دفاع کیا تھا، اس وقت حیدرآباد ایک چھوٹا سا شہر تھا، ایئرکنڈیشنڈ ہوٹل ابھی نہیں بنے تھے۔ حیدرآباد میں شدید گرمی پڑتی تھی مگر حسین شہید سہروردی نے موسم اور بنیادی سہولتوں کی پرواہ کیے بغیر یہ مقدمہ لڑا۔

اس زمانے میں محمود علی قصوری نے سیاسی کارکنوں کے مقدمات لڑنا شروع کیے تھے۔ جب 1948 میں فیض احمد فیض کو ایک خبر کی اشاعت پر سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو محمود علی قصوری ان کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے۔

فیض صاحب کو شام ہونے سے پہلے رہا کردیا گیا۔ محمود علی قصوری پہلے افتخار الدین کی جماعت آزاد پاکستان پارٹی میں شامل تھے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے نیشنل عوامی پارٹی کے انضمام کے بعد نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوئے۔

قصوری صاحب جنرل ضیاء الحق کے دورِاقتدار تک سیاسی رہنماؤں کے دفاع کے لیے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔ جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ایوب خان کی حکومت نے گرفتار کیا اور منٹگمری جیل میں نظربند کیا گیا تو محمود علی قصوری بھٹو کے وکیل کی حیثیت سے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔

جب بھٹو دور میں نیشنل عوامی پارٹی کو ملک دشمن قرار دے کر پابندی عائد کی گئی تو سپریم کورٹ میں حکومت کے دائر کردہ ریفرنس میں نیپ کی طرف سے قصوری صاحب وکیل تھے۔

جب نیپ کے رہنماؤں ولی خان، اجمل خٹک اور میر غوث بخش بزنجو وغیرہ کے خلاف حیدرآباد میں قائم خصوصی ٹریبونل میں پاکستان توڑنے کی سازش کے الزام میں مقدمہ چلا تو محمود علی قصوری صفائی کے وکلاء کی قیادت کر رہے تھے۔

انھوں نے بھٹو دور میں بھی بہت سے سیاسی کارکنوں کے مقدمات کی پیروی کی۔ اس زمانے میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا وکیل انھیں کہا جاتا تھا۔ جب کمیونسٹ پارٹی کے رہنما حسن ناصر کو جنرل ایوب خان کے دورِ اقتدار میں لاہور کے شاہی قلعے میں تشدد کر کے شہید کیا گیا اور حسن ناصر لاپتہ ہوئے۔

میجر اسحاق نے مغربی پاکستان ہائی کورٹ میں مقدمہ دائرکیا۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ حسن ناصرکو شہید کردیا گیا تو حسن ناصر کی والدہ نے اپنے بیٹے کی لاش کی بازیابی کے لیے مقدمہ دائرکیا، مگر پولیس حکام نے جس شخص کی لاش دی حسن ناصرکی والدہ نے اس لاش کو قبول کرنے سے اس بناء پر انکار کیا کہ یہ حسن ناصرکی لاش نہیں تھی۔

میجر اسحاق جو بعد میں مزدور پاکستان پارٹی کے صدر منتخب ہوئے کسانوں اور مزدوروں کے مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔ کراچی میں جن وکلاء نے انسانی حقوق کے مقدمات کی پیروی کی ان میں بیرسٹر محمد ودود، بیرسٹر اقبال حیدر، نور الدین سرکی، علی امجد ایڈووکیٹ، مرزا کاظم، صبیح الدین احمد، منیر ملک، اختر حسین، رشید رضوی، حسن فیروز، اشرف رضوی، ابرار الحسن اور طارق علی وغیرہ شامل تھے۔

سکھر سے تعلق رکھنے والے حسن حمیدی ایڈووکیٹ اور حیدرآباد سے یوسف لغاری وغیرہ نے جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل ضیاء الحق کے دور تک ایسے مقدمات کا عدالتوں میں دفاع کیا۔

لاہور میں عابد حسین منٹو، اعتزاز احسن اور شیخ رفیق نے انسانی حقوق کے کارکنوں، مزدوروں اور صحافیوں کے مقدمات کو عدالتوں میں محنت سے لڑا۔ ان وکلاء کی کوششوں سے کئی بے گناہ سیاسی کارکنوں کو جیل سے رہائی ملی۔ 80ء کی دہائی میں جب جنرل ضیاء الحق حکومت نے خواتین کے حقوق کو غضب کرنے کے لیے بیہمانہ قوانین نافذ کیے تو عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی لاہورکی سڑکوں سے لے کر عدالتوں تک میں مقدمات کی سماعت کرتی رہیں۔

ان کی جدوجہد جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار سے شروع ہوئی اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف حکومت کے آخری دور تک جاری رہی۔ عاصمہ جہانگیر نے بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے لیے سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے۔

عاصمہ جہانگیر نے خواتین کے اپنی مرضی سے شادی کرنے جیسے اہم مسئلے پر زور دیا اور عدالتوں میں آنے والی رکاوٹوں اور وکیلوں کے سخت رویوں کو برداشت کیا۔

حنا جیلانی پر ان کے دفتر میں قاتلانہ حملہ کیا گیا مگر وہ بال بال بچ گئیں، مگر مجموعی طور پر انسانی حقوق کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء کو کبھی قیدوبند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔

آج کل وکیل ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ جیل میں ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں ان میاں بیوی کو سنائی گئی قید پر اپنے تحفظات کا اظہار کررہی ہیں۔

Load Next Story