آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کیلیے 13 ارب کی منظوری
وفاقی حکومت نے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز، راولپنڈی کے توسیعی منصوبے کی 13 ارب روپے کی لاگت سے منظوری دیدی ہے۔
یہ منظوری نائب وزیراعظم اسحق ڈارکی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹوکمیٹی کے اجلاس میں دی گئی،جہاں فیصلہ کیا گیا کہ منصوبے کیلیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کی سست روی کا شکار اسکیموں سے بچت شدہ رقوم استعمال کی جائیں گی۔
منصوبے کی مجموعی لاگت میں سے 6 ارب روپے غیر ملکی ذرائع سے حاصل کیے جائیں گے،جبکہ 10.5 ارب روپے تعمیراتی کاموں کیلیے مختص ہوں گے اور بقیہ رقم کنسلٹنسی اور ممکنہ ہنگامی اخراجات پر خرچ کی جائیگی۔
جاری مالی سال کیلیے حکومت نے منصوبے کے تحت 50 ملین روپے مختص کیے ہیں،جبکہ حکام کے مطابق رواں سال 2 ارب روپے درکار ہونگے۔
ای سی این ای سی کو بتایا گیا کہ AFIC اس وقت اپنی استعداد سے کہیں زیادہ مریضوں کاعلاج کر رہا ہے اور وفاقی سطح پر دل کے امراض کے علاج کی سہولیات ناکافی ہیں، AFIC میں فوجی اور سویلین مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
قبل ازیں سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے مالی مشکلات کے باعث سفارش کی تھی کہ منصوبہ پی ایس ڈی پی کے بجائے دیگر ذرائع سے مالی اعانت کے ذریعے مکمل کیا جائے تاہم نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پی ایس ڈی پی کے اندر ہی وسائل کا بندوبست کریگی۔
اجلاس میں ای سی این ای سی نے وزیر اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام (2023-2027) کی بھی منظوری دی، جس کی لاگت 23.5 ارب روپے ہے۔
علاوہ ازیں ای سی این ای سی نے کراچی یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی 178.5 ارب روپے کی نظرثانی شدہ لاگت بھی منظورکی۔
سندھ حکومت منصوبہ ورلڈ بینک سے 550 ملین ڈالرزقرض لیکر مکمل کریگی، 21 کلومیٹرطویل کوریڈورکے 28 اسٹیشنزاور 256 بسیں شامل ہونگی، جوروزانہ 3 لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرینگی۔