سندھ ہائیکورٹ نے سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرلیں
چیف سیکریٹری کو صوبائی وزرا، اعلیٰ حکام وافسران اور دیگر وی آئی پی شخصیات کے زیر استعمال گاڑیوں سے متعلق جامع۔۔۔
ڈی ایچ اے میں لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا، سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں سوار مسلح افراد اہل علاقہ سے بدتمیزی کرتے ہیں، درخواست گزار فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں قائم 2 رکنی بنچ نے حکومت کو سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کی تفصیلات 2 ہفتے میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے چیف سیکریٹری اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو صوبے میں وزرا، اعلیٰ حکام وافسران اور دیگر وی آئی پی شخصیات کے زیراستعمال گاڑیوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت کی ہے،ڈی ایچ اے کے مکینوں نعیم صدیق،عائشہ حسین،فرحانہ خان اور ناظم ایف حاجی سمیت دیگرنے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ڈی ایچ اے کے رہائشی ہیں،علاقے میں لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے جس سے اہل علاقہ براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔
شہر بھر باالخصوص ڈی ایچ اے میں سفارتی، سرکاری اور فینسی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں اضافہ ہورہاہے جن میں مسلح افراد بھی سوار ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، اعلیٰ حکام، وزرا ،افسران اور دیگر وی آئی پی شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور گارڈز بھی ان ہی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور کچھ پوچھنے پر اہل علاقہ سے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں جب کہ غیرقانونی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں اضافے کے ساتھ جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق ان گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی جبکہ اس حوالے سے حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں اس لیے حکومت کو ہدایت کی جائے کہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے، وزرا اوراعلیٰ شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں اور گاڑیوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے،جمعہ کو سماعت کے موقع پرایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے فاضل بینچ سے رپورٹ جمع کرانے کی مزید مہلت طلب کی جس پرعدالت نے مہلت دیتے ہوئے بغیرنمبرپلیٹ والی گاڑیوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے چیف سیکریٹری اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو صوبے میں وزرا، اعلیٰ حکام وافسران اور دیگر وی آئی پی شخصیات کے زیراستعمال گاڑیوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت کی ہے،ڈی ایچ اے کے مکینوں نعیم صدیق،عائشہ حسین،فرحانہ خان اور ناظم ایف حاجی سمیت دیگرنے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ڈی ایچ اے کے رہائشی ہیں،علاقے میں لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے جس سے اہل علاقہ براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔
شہر بھر باالخصوص ڈی ایچ اے میں سفارتی، سرکاری اور فینسی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں اضافہ ہورہاہے جن میں مسلح افراد بھی سوار ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، اعلیٰ حکام، وزرا ،افسران اور دیگر وی آئی پی شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور گارڈز بھی ان ہی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور کچھ پوچھنے پر اہل علاقہ سے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں جب کہ غیرقانونی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں اضافے کے ساتھ جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق ان گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی جبکہ اس حوالے سے حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں اس لیے حکومت کو ہدایت کی جائے کہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے، وزرا اوراعلیٰ شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں اور گاڑیوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے،جمعہ کو سماعت کے موقع پرایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے فاضل بینچ سے رپورٹ جمع کرانے کی مزید مہلت طلب کی جس پرعدالت نے مہلت دیتے ہوئے بغیرنمبرپلیٹ والی گاڑیوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔