بچوں میں خود اعتمادی اور خود مختاری

رہنمائی کے ساتھ انہیں آزادی دیں تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کریں

تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ بچوں پر ہر وقت کنٹرول کرنے اور ہر کام میں ہدایات دینے سے وہ دوسروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ ایسے بچے اپنے فیصلوں پر اعتماد کھو دیتے ہیں اور ہمیشہ کسی کی منظوری کے منتظر رہتے ہیں۔

والدین بچوں کی بھلائی چاہتے ہیں، لیکن انہیں ذاتی جگہ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔ جب بچوں کو اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی دی جاتی ہے، تو وہ ذمے داری سیکھتے ہیں، اپنے انتخاب کے نتائج کا سامنا کرتے ہیں اور تجربہ حاصل کر کے خود مختار بنتے ہیں۔

بچوں کو آزادی دینا ان کی شخصیت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہیں اپنے کپڑے منتخب کرنے دیں، چاہے انتخاب غیر معمولی لگے، اور اپنی روزمرہ کی روٹین اور مطالعے کے اوقات خود طے کرنے دیں۔ خاندانی فیصلوں میں ان کی رائے شامل کریں، جیسے گھر کی سجاوٹ یا چھٹیوں کے منصوبے میں، اور چھوٹے جھگڑے خود حل کرنے دیں، پھر ضرورت پڑنے پر مدد کریں۔ جب بچے اپنے چھوٹے فیصلوں میں تجربہ حاصل کر لیتے ہیں، تو وہ زندگی کے بڑے چیلنجز کے لیے بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔

ناکامی زندگی کا اہم حصہ ہے اور بچے اسے سیکھنے کے مواقع کے طور پر دیکھیں تو وہ مضبوط اور خود اعتماد بنتے ہیں۔ اگر بچے کبھی غلطی نہ کریں، تو وہ مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں سیکھ پائیں گے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ناکامی پر سخت ردعمل دینے کے بجائے بچوں سے پوچھیں کہ اس تجربے سے انہوں نے کیا سیکھا۔ اپنی ناکامیوں کا ذکر کرکے یہ سمجھائیں کہ غلطی کرنا زندگی کا حصہ ہے۔ کوشش کی تعریف کریں اور صرف کامیابی پر توجہ نہ دیں۔ بچوں میں گروتھ مائنڈ سیٹ پیدا کریں، یعنی انہیں سکھائیں کہ محنت اور کوشش سے علم اور مہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب بچے ناکامی کو سیکھنے کا موقع سمجھیں تو وہ خطرات لینے اور مشکلات کے باوجود متحرک رہتے ہیں۔

تعلیم اور دیگر ذمے داریوں کے حوالے سے بچوں پر صرف دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ان کے کام کا مقصد کیا ہے۔ مثال کے طور پر، ’’آپ کو A گریڈ لینے کے لیے پڑھنا چاہیے‘‘ کے بجائے کہیں ’’تعلیم سے دنیا کو سمجھنے اور اپنے خواب پورے کرنے میں مدد ملتی ہے‘‘۔ ’’سبزیاں کھاؤ کیونکہ میں کہتی ہوں‘‘ کے بجائے کہیں ’’صحت مند کھانا جسم کو مضبوطی اور توانائی دیتا ہے‘‘۔ اور ’’ہوم ورک کرو یا سزا ہوگی‘‘ کے بجائے کہیں ’’مشقی عمل آپ کو بہتر بناتا ہے، جیسے کھلاڑی بڑے مقابلے سے پہلے تربیت کرتے ہیں۔‘‘ جب بچے سمجھیں کہ وہ کیوں کچھ کر رہے ہیں، تو وہ زیادہ خود حوصلہ محسوس کرتے ہیں اور اپنی ذمے داری بہتر طریقے سے نبھاتے ہیں۔

جو بچہ اپنی زندگی پر کنٹرول محسوس کرتا ہے، اس کی شخصیت مضبوط ہوتی ہے اور وہ متحرک رہتا ہے۔ ہر فیصلے میں مداخلت کرنے کے بجائے انہیں اپنے انتخاب کی ذمے داری دینا ضروری ہے۔ ’’آپ کو یہ کرنا ہوگا کیونکہ میں کہتی ہوں‘‘ کے بجائے پوچھا جا سکتا ہے ’’آپ کے خیال میں بہترین طریقہ کیا ہے؟ آئیے بات کریں۔‘‘ اس طرح بچے فیصلہ سازی کے قابل بنتے ہیں اور اختیار کا احساس حاصل کرتے ہیں۔

اگر بچے کو محسوس ہو کہ ان کی قدر صرف کامیابی پر ہے، تو ان کی خود اعتمادی متاثر ہو سکتی ہے۔ ہر حالت میں ان سے محبت کریں، چاہے وہ کامیاب ہوں یا ناکام، حمایت برقرار رکھیں، اور ان کے چیلنجز پر کھلی بات کریں بغیر کسی تنقید کے۔ جب بچے جان لیں کہ والدین ہر حالت میں ان کے ساتھ ہیں، تو وہ جذباتی تحفظ محسوس کرتے ہیں اور طویل مدتی حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔

بچوں کو بیرونی انعامات کے بجائے اندرونی خوشی کے لیے کام کرنے کی عادت دینا بھی ضروری ہے۔ ان کی کوشش اور تجسس کی تعریف کریں، انہیں اپنے دلچسپیوں کو آزادانہ طور پر دریافت کرنے دیں، اور زیادہ انعامات نہ دیں تاکہ وہ بغیر انعام کے بھی سرگرم رہیں۔ جو بچہ اندرونی طور پر متحرک اور حوصلہ مند ہو، وہ زندگی میں خود مختار، فعال اور مستقل مزاج رہتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ خود متحرک اور بااعتماد بچے کی پرورش کا مطلب یہ نہیں کہ والدین ہر چیز میں مداخلت کریں بلکہ رہنمائی کے ساتھ انہیں آزادی دیں تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کریں، ناکامی سے سیکھیں، مقصد سمجھیں، اختیار کا احساس حاصل کریں، ہر حالت میں والدین کی حمایت محسوس کریں اور اندرونی حوصلہ افزائی کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھیں۔ اس طرح بچے مضبوط، خود اعتماد اور خود مختار شخصیات کے طور پر پروان چڑھتے ہیں اور اپنی زندگی میں کامیابی کی طرف بڑھتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story