یومِ یکجہتی کشمیر: خون کا وعدہ، فولاد کا عزم
فوٹو اسکرین گریپ
آج صبح جب آنکھ کھلی تو سینے میں بس ایک ہی دھڑکن تھی کشمیر… کشمیر… کشمیر۔ یہ کوئی نرم بات نہیں، یہ میری رگوں میں بہتا تیزاب ہے، یہ میرے بازوؤں میں چھپی طاقت ہے، یہ میرے دل کی آواز ہے جو چیخ رہی ہے کہ اب بس!
وہ ماں جو اپنے بیٹے کی لاش کو سینے سے لگا کر رو رہی ہے، اس کی چیخ میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ وہ نوجوان جو پیلٹ گن کی گولی سے آنکھ کھو کر بھی سر اٹھا کر کھڑا ہے، وہ میرا بھائی ہے۔ وہ بہن جس کی عزت کو پامال کیا گیا، اس کی آہ میرے سینے کو چیر رہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر خون کھول رہا ہے، آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں، مٹھیاں بھینچ رہی ہیں۔ ہم اب روتے نہیں، ہم لڑتے ہیں۔ ہم اب التجا نہیں کرتے، ہم مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم اب انتظار نہیں کرتے، ہم چھینتے ہیں۔
پورا پاکستان آج ایک مرد کی طرح کھڑا ہے۔ کوئٹہ کی ٹھنڈی ہواؤں میں بھی آگ بھڑک رہی ہے۔ چمن کے مدرسوں سے نعرے بلند ہو رہے ہیں، زیارت کے پہاڑ گواہی دے رہے ہیں، کراچی کی گلیوں میں لاکھوں سینے چوڑے ہو کر چل رہے ہیں۔ یہ ہاتھ اب صرف دعا کے لیے نہیں اٹھتے، یہ ہاتھ اب زنجیریں توڑنے کے لیے اٹھتے ہیں۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم ان کی چیخوں کو اپنی گونج بنائیں گے، ہم ان کے زخموں کو اپنا درد سمجھیں گے۔ اور ہم ان کی آزادی تک لڑیں گے، آخری سانس تک، آخری قطرہ خون تک۔
جب آرٹیکل 370 کو روندا گیا، جب کشمیر کی شناخت کو چھین لیا گیا، جب غیر کشمیریوں کو زمینیں دے کر نسل بدلنے کی سازش رچی گئی، تو ہمارا خون کھول اٹھا۔ ہم ٹوٹے نہیں، ہم اور بھی سخت ہوگئے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں کاغذ پر پڑی ہیں؟ تو کیا ہوا؟ ہمارا عزم کاغذ نہیں، فولاد ہے۔ عالمی طاقتیں بھارت کے آگے جھک رہی ہیں؟ ہم نہیں جھکیں گے۔ بھارتی فوج گولیاں چلا رہی ہے؟ تو ہم بھی اپنا جواب تیار رکھیں گے، سفارتی، سیاسی، اخلاقی اور اگر ضرورت پڑی تو ہر محاذ پر۔
آج ایک منٹ کی خاموشی میں جب آنکھیں بند کیں تو محسوس ہوا جیسے میں خود وادی کی ایک گلی میں کھڑا ہوں۔ ایک چھوٹا بچہ پتھر اٹھائے فوج کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، آگ ہے۔ اس کی مٹھی میں درد نہیں، طاقت ہے۔ اس کے دل میں خواب ہے۔ میں نے پوچھا ڈرتا نہیں؟ اس نے جواب دیا، ڈر تو انہیں لگنا چاہیے جو ہماری زمین چھین رہے ہیں۔ ہم تو بس اپنا حق واپس لے رہے ہیں۔ یہ بچہ میرا بھائی ہے۔ یہ ماں میری ماں ہے۔ یہ نوجوان میرے بھائی ہیں۔ یہ سب ہمارا خون ہیں، ہماری عزت ہیں، ہماری غیرت ہیں۔ اور جب تک ہماری رگ میں ایک قطرہ خون باقی ہے، ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے کندھے سے کندھا ملا کر، سینہ سپر ہو کر۔
یومِ یکجہتیٔ کشمیر کوئی تہوار نہیں، یہ جنگ کا اعلان ہے۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم راتیں جاگیں گے جب تک کشمیر کی صبح نہ آجائے۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم خون بہائیں گے جب تک کشمیر کے آنسو نہ تھم جائیں۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم لڑیں گے جب تک کشمیر آزاد نہ ہو جائے۔
کشمیر ہمارا ہے۔ کشمیر ہمارا رہے گا۔ اور ایک دن... ضرور ایک دن ... وہ دن آئے گا جب وادی میں امن کا پرچم لہرائے گا، جب ماں اپنے بیٹے کو سینے سے لگا کر مسکرائے گی، جب بچے بغیر خوف کے کھیلیں گے، اور جب دنیا چیخ کر کہے گی کشمیری آزاد ہو گئے!
اس دن تک… ہم لڑیں گے۔
اس دن تک… ہم ڈٹے رہیں گے۔
اس دن تک… ہم زندہ رہیں گے اور اگر مرنا پڑا تو سر اٹھا کر مریں گے۔ کشمیر زندہ باد!
کشمیر بنے گا پاکستان! پاکستان زندہ باد!
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔