عمران خان سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہ ملی، چار ارکان اسمبلی گیٹ سے واپس
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات کے دن کسی بھی پارٹی رہنما کو اجازت نہیں ملی، بانی سے ملاقات کے دو رہنما جیل نہیں آئے، ملاقات کے لیے آنے والے چاروں رہنما واپس روانہ ہوگئے۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے سینیٹر روبینہ ناز، ایم پی اے ذوالفقار بھٹی، وقار سندھو اور امجد علی شاہ اڈیالہ روڈ آئے تھے جن کو داہگل ناکے سے آگے جیل کی جانب جانے کی اجازت نہیں ملی، پارٹی کی ملاقات فہرست میں شامل میاں غوث اور ظاہر شاہ ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل نہیں پہنچے۔
اس موقع پر سینیٹر روبینہ ناز نے ایم پی اے ذوالفقار بھٹی اور ایم پی اے امجد علی شاہ کے ہمراہ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔
روبینہ ناز کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی کو غیر قانونی حراست میں 900 دن ہوچکے ہیں، ابھی تک ہمیں بانی سے ملنے نہیں دیا جارہا، بانی کا بطور سابق وزیراعظم حق ہے، لیکن عدالتوں کے احکامات کے باوجود ملاقات نہیں ہورہی، ہم نے کبھی کسی ادارے کے خلاف بات نہیں کی، ہمارا لیڈر کہتا ہے فوج بھی ہماری ہے ملک بھی ہمارا ہے، ہمارا بیانیہ کبھی اسٹیبلشمینٹ کے خلاف نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری بانی کی صحت پر تشویش برقرار ہے، بشری بی بی کی فیملی نے بتایا کہ بانی کو تکلیف ہے پہلے تکلیف ہوئی تو ان کو ہسپتال لے جایا گیا، انھوں نے یہ نہیں کہا بانی کو تکلیف نہیں ہے، آپ لوگ کہہ رہے ہیں تکلیف نہیں ہے تو چھوڑیں ہمیں ہم ان کو مل آئیں ہماری تشویش برقرار ہے۔
صحافی کے سانحہ 9 مئی پر پی ٹی آئی سے معافی مانگنے کے سوال پر روبینہ ناز نے ایم پی اے ذوالفقار بھٹی کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ اس موقع پر ہمارے منہ سے کیا نکلوانا چاہتے ہیں ہم جو جواب دیں گے آپ کا چینل بڑی بریکنگ کرکے چلائے گا، ہم بانی سے ملاقات کرنے آئے ہیں اس موقع پر ملاقات کی بات کریں، ظاہر شاہ ملاقات کے لیے اس لیے نہیں آئے کہ ان کی ٹانگ اڈیالہ جیل کے باہر زخمی ہوئی تھی۔
ایم پی اے ذوالفقار بھٹی کا کہنا تھا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کا بیانیہ ہے کہ پی ٹی آئی اداروں کے خلاف بیان بناتی ہے، ہمارے لیڈر نے بار بار کہا ہے سارے ادرے ہمارے ہیں، ہم سب پاکستانی ہیں، فوج ہماری ہے پاکستان ہمارا ہے، ہمارا کسی بھی ادارے کے خلاف بیانیہ نہیں ہے، ہم کہتے ہیں ادارہ مضبوط تو پاکستان مضبوط۔
ایم پی اے امجد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں اور وفاق کا اتفاق ہے ہمارا لیڈر سب سے مقبول ترین ہے، اگر آپ یہ رویہ رکھے گے تو ہم پھول نہیں برسائیں گے، ہمارا لیڈر 900 دن سے جیل میں ہے، بانی کی صحت پر ہمیں تشویش ہے، یہ کونسا رویہ ہے ففتھ جنریشن وار ہم نے لڑی ہے، ہم نے کسی سرٹیفیکٹ کے لیے نہیں لڑی، بانی جوانوں کا لیڈر ہے، 65 فیصد نوجوان ہیں، ہم گزارش کررہے ہیں بانی کی رپورٹس پبلک کریں اور ملاقاتوں پر عائد پابندی ختم کریں، فی الفور بانی کو رہا کیا جائے، وہ سیاسی قیدی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے خوف کا یہ عالم ہے کہ انھوں نے بسنت منانے کا اعلان کردیا، انھوں نے 8 فروری کو بسنت منانے کا اعلان کردیا اور چھٹیاں دے دیں۔
ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر تمام رہنماء واپس روانہ ہوگئے۔