اے این پی کا تیراہ اور بلوچستان کی صورتحال پر پارلیمان ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ
فوٹو: فائل
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے علاقے تیراہ اور بلوچستان کی صورتحال پر پارلیمان کا ان کمیرہ مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔
اے این پی کے صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ تیراہ اور بلوچستان پر پارلیمان کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلایا جائے، معمولی قانون سازی پر اجلاس ہو سکتا ہے تو ان سنگین مسائل پر کیوں نہیں، تیراہ کے عوام کی جانیں اور مستقبل داؤ پر ہے، مسئلہ آپریشن نہیں بلکہ دہشتگردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیراہ کے حوالے سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا رویہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوچکا ہے، سنجیدگی اختیار کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالی جا رہی ہے، بند کمروں میں فیصلے کیے گئے اور عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حالیہ واقعات کسی صورت معمولی نہیں ہیں اس پر سنجیدگی دکھائی جائے، بیک وقت مختلف مقامات پر حملے انٹیلیجنس کی سنگین ناکامی کی نشان دہی کرتا ہے، حملوں کو پسپا کیا گیا، مگرسنگین خطرات اب بھی موجود ہیں۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی ہر قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہے، دہشت گردی اور شدت پسندی کے لیے کوئی جواز نہیں ہو سکتا، دہشت گردی کی آڑ میں عوام کو مزید محرومیوں میں دھکیلنے سے بھی حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئین پر نامکمل عمل درآمد صورت حال کو مزید بگاڑ رہی ہے، پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
صدر اے این پی نے کہا کہ امام بارگاہ میں رونما ہونے والا واقعہ سنگین صورت حال کی ایک الم ناک مثال ہے، عوامی نیشنل پارٹی برسوں سے ان حالات کے بارے میں خبردار کرتی آ رہی ہے لیکن جواب میں ہم پر ہی الزامات لگائے گئے اور ہمارے راستے روکے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ایک حصے میں حالات کو مصنوعی طور پر نارمل دکھایا جا رہا ہے، ملک کے دوسرے حصے میں برسوں سے آگ بھڑک رہی ہے، پختونخوا اور بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ناسور کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ اس آگ کا الزام بھی متاثرہ عوام پر دھرا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قائم حکومتیں عوامی مینڈیٹ کی پیداوار نہیں ہیں، حالات کے اصل ذمہ دار وہ عناصر بھی ہیں جنہوں نے ان حکومتوں کو عوام پر مسلط کیا ہے۔
ایمل ولی نے کہا کہ اب محض بیانات نہیں بلکہ شفاف، سنجیدہ اور ذمہ دار فیصلوں کی ضرورت ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سیکیورٹی مسائل پر فوری طور پر مشترکہ اجلاس بلایا جائے، جامع اور مستقل پالیسی کے ذریعے دہشت گردی اور عوامی محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے، اس کے سوا ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔