تربیت کی ضرورت

ہمارے منفی رویے دوسروں کے دلوں میں میل ڈالتے ہیں

شہر کی معروف شاہراہ پر لوگ بجلی پانی کی بندش کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس کی وجہ سے ٹریفک کا رخ اس جانب سے بند کر دیا گیا تھا لیکن بہت سی ملحق سڑکوں سے گزر کر ٹریفک مذکورہ مقام کو چھوڑ کر جا رہا تھا۔

اس پبلک منی بس نے بھی دور سے سن کر اپنا راستہ بدل لیا تھا لیکن راستوں میں اِدھر اُدھر سڑکوں پر جانے سے لوگوں کے اعتراضات، مشورے کہیں ٹریفک کانسٹیبل نے گاڑیوں کا لوڈ دیکھ کر آگے جانے کا اشارہ کر دیا۔

اب صورت حال یہ تھی کہ ایک مختصر سے پانچ چھ منٹ میں ٹریفک کے ہمراہ جو راستہ عبور کیا جا سکتا تھا، اسے آدھ گھنٹے سے زائد ہو چکے تھے، ڈرائیور اکیلا مسافروں کی جھنجھلاہٹیں کنڈکٹر ذرا چرب زبان تھا اور ڈرائیور اس کے مقابلے میں کچھ سیدھا لہٰذا چرب زبانی کا فائدہ اٹھا کر یا عادتاً موصوف بے بہاؤ کی سنائے جا رہے تھے ساتھ میں گالیوں کا بگھار بھی جاری تھا۔

اس وقت اگر کوئی نارمل انسان ہوتا تو شاید اس قدر منفی رویوں سے گھبرا کر اسٹیئرنگ چھوڑ دیتا لیکن اس نے ایسا نہ کیا اور سب لوگوں سے سادگی بے چارگی سے نمٹتا چلا گیا آخر ایک گلی میں جا پہنچا جو کافی آگے پیچھے گھومنے کے بعد نسبتاً خالی محسوس ہوئی تھی۔

یہ وہی گلی تھی جہاں گل پلازہ کی مشہور زمانہ بلڈنگ جو اب خاک ہو چکی ہے موجود تھی تک پہنچنے سے پہلے ہی موڑ پر کھڑے ہو کر کنڈکٹر اور مختلف حضرات کی بحث جاری تھی کہ یہ غلط ہوگیا گاڑی واپس موڑنا پڑے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی بھی غور نہیں کر رہا تھا کہ احتجاج والا پوائنٹ تبت سینٹر تو وہ پیچھے چھوڑ کر آگے نکل آئے ہیں لیکن بحث زور و شور سے جاری تھی۔

’’اب پلٹ تُو۔۔۔۔ دوبارہ اردو بازار سے نکل کر صدر کی طرف سے نکلنا پڑے گا۔‘‘ ساتھ میں دو تین مغلظات بھی۔ ڈرائیور بے چارہ شرمندہ معذرت خواہانہ انداز۔

’’ارے بھئی! لیکن کیوں۔۔۔۔ پیچھے پلٹ کر کیوں جائیں، وہ احتجاج والی جگہ تو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔‘‘

ایک خاتون نے ڈرائیور کے ہار مانتے انداز کو دیکھ کر چڑ کر احتجاج کیا تھا۔ ان کے کہنے پر ڈرائیور بھی ذرا چونکا۔ ان کے کہنے پر اس نے گردن موڑ کر پہلے پیچھے کی جانب دیکھا پھر آگے کی جانب دیکھا، ٹریفک رواں دواں تھا۔

’’ اے بھائی! پیچھے کیوں جائیں۔ تبت سینٹر تو پیچھے رہ گیا۔ وہ دیکھ برابر کی روڈ سے نکل کر ٹریفک جا رہا ہے۔ ابے ہنگامہ پیچھے رہ گیا، آگے کا راستہ تو صاف ہے۔ میں تو اب ادھر سے ہی نکلتا ہوں۔‘‘

ڈرائیور اب پکا ہو چکا تھا، سارے اعتراض اٹھانے والے، گالی گلوچ کرنے والے خاموش ہو گئے کہ حقیقت سامنے تھی لہٰذا ڈرائیور نے گل پلازہ کے صدر دروازے کے سامنے سے اپنی بس مین روڈ پر کی اور چل دیا۔

اس سارے واقعے سے کیا احساس ہوا؟ ہم اعتراض اٹھانے، چلانے، بحث کرنے میں آگے آگے رہتے ہیں، مسائل کے حل، توجہ اور تصفیہ پر دھیان ہی نہیں دیتے کہ اب ہمارا قومی مزاج ہی ایسا بن گیا ہے۔

ہمیں دوسروں کے لتے لینے میں بڑا لطف آتا ہے اور اس مزے دار کام کو کرتے ہوئے ہمارے سر کے بال کھڑے اور سانس ہانپنے لگتا ہے نتیجتاً ہم اپنا بلڈ پریشر بھی بڑھا لیتے ہیں، نقصان ذاتی طور پر ہمارا ہی ہوتا ہے، ہمارے منفی رویے دوسروں کے دلوں میں میل ڈالتے ہیں اور ہماری اپنی ذات میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں جو باقاعدہ اخلاقی بیماریوں کی جڑ تناورکرنے میں جت جاتی ہیں ساتھ طبعی طور پر بھی بیماری محسوس کرتے ہیں۔

یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے ایک یہ کہ قومی جذبات مثبت رویوں کی جگہ منفی رویوں میں زیادہ ہلچل محسوس کرتے ہیں اور مچاتے بھی ہیں کہ ایوان لرز جاتے ہیں جب کہ مثبت رویے بہت سے اچھے کام کرنیوالوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں ۔

دوسری بات یہ کہ ذہنی کمزوری ہمیں اس بات کی تربیت ہی نہیں کہ ہم مسائل اور فساد والی جگہوں اور مقامات سے کیسے نبرد آزما ہوں۔ کیا کریں اورکس کو فالوکریں۔ ہم ہڑبونگ اور بھیڑ چال میں گل پلازہ اورگلستان جوہرکے ملینیم مال اور ڈریم بازار جیسے واقعات دیکھتے آئے ہیں جس میں گل پلازہ کا اولین نمبر پر ہے جہاں بدنظمی اور ہڑبونگ نے لوگوں کی اموات کی شرح کو بڑھایا۔

لوگ باہر سے کھڑے ویڈیوز بناتے رہے اور سب خلائی مخلوق کی آمد کا انتظار کرتے رہے کہ وہ آ کر انسانوں کو اس اذیت سے نکالے۔ اگر اس وقت کوئی اعلیٰ عہدیدار اپنے مقام پر نہ تھا تو کیا کوئی بھی ایسا نہ تھا جو یہ ثواب کا کام انجام دیتا۔

سیل فون کے اس جدید دور میں اگر کہا جائے کہ ٹیلی فونز بجتے رہے ، پر کسی نے اٹھائے نہیں تو بات مانی بھی جا سکتی ہے لیکن اس دور میں جب ایک چھوٹے سے اندرون سندھ کے علاقے کی خبر کے پی کے سے لے کر امریکا، کینیڈا، لندن اور خدا جانے کہاں کہاں محض چند منٹوں میں وائرل ہو سکتی ہے تو کیا نہیں ہو سکتا۔

یہاں فقدان نظر آتا ہے تربیت کا، ہماری اخلاقی اور ذہنیت تربیت ہی ایسی نہیں رہی اور ہم ایک دوسرے کے سر الزام ڈال کر اپنے کالر جھاڑ رہے ہیں۔ یہ منی بس کا واقعہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو گھڑی ہوئی کوئی کہانی نہیں، بالکل اسی طرح گل پلازہ کے سانحے سے خبریں نکل نکل کر طرح طرح کی سچائیاں بیان کر رہی ہیں کہ اب قومی سطح پر ہمیں اپنی نسلوں اور آنیوالی نسلوں میں انسانیت کے شعور کو اجاگر کرنا ہی ہوگا جو اب ہم میں مفقود ہو تا جا رہا ہے۔’’تمہیں پتا ہے کہ امریکی بڑے رحم دل ہوتے ہیں۔‘‘

ایک پکی نمازی خاتون کا یہ جملہ اس وقت ذہن میں گونج گیا جو امریکا میں مقیم ہیں اور طویل عرصے سے رہ رہی ہیں۔ اس دوران انھوں نے جو واقعات و حالات دیکھے سہے اور برداشت کیے بقول ان کے ’’ وہ تو جانوروں کے لیے بھی اتنا دل رکھتے ہیں۔‘‘

اب دماغ کو جھنجھنا دے رہا ہے۔کیا ہم سخت دلی کی جانب بڑھ رہے ہیں یا یہ بات ابھی پاکستان کے حوالے سے شور مچا رہی ہے جہاں ایک کے بعد ایک واقعات، حالات، سیاست اور دیگر مسائل سمجھا رہے ہیں کہ پلٹو! یہ ہمارا شعار نہیں ہے۔

Load Next Story